02 December, 2008

QURBANEE


قربانی
جنگل میں ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ اس کے پاس ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر آکر رکی گاڑی کا شیشہ نیچے اترا ایک صاحب نے اپنا سر باہر نکالا اور چرواہے کو مخاطب کرکے گویا ہوئے ۔ "اگر میں بغیر گنے تمھاری ان بکریوں کی تعداد بتادوں تو کیا تم مجھے ایک بکری دو گے؟" چرواہا پہلے تو اس مطالبے پر حیرت زدہ ہوا لیکن پھر راضی ہوگیا کہ وہ ایک بکری ان کے حوالے کردے گا اگر انہوں نے اسے بغیر گنے اس کی بکریوں کی تعداد بتادی۔ وہ صاحب اپنا لیپ ٹاپ لیکر گاڑی میں سے برآمد ہوئے اپنا جی پی ایس آن کیا اور سٹیلائیٹ ایمیجنگ کی مدد سے چرواہے کو اس کی بکریوں کی درست تعداد بتادی۔ اب تو چرواہا سخت حیرت زدہ ہوا اور ان صاحب کا سر سے پاؤں تک معائینہ کرنے کے بعد اس نے ایک بکری ان صاحب کو تھمادی جسے لیکر وہ بخوشی اپنی گاڑی میں سوار ہوئے ہی تھے کہ چرواہے نے ان سے ایک درخواست کی کہ اگر وہ انہیں یہ بتا دے کہ وہ کون ہیں تو کیا وہ اس کی بکری اسے واپس کردیں گے اس پر وہ صاحب بولے کیوں نہیں اگر تم یہ بتا دو کہ میں کون ہوں تو یہ بکری میں تمھیں واپس دے دوں گا۔ اس پر چرواہے نے فورا ہی کہا کہ میں نے آپ کو پہچان لیا ہے آپ ایک کنسلٹینٹ (Consultant) ہیں۔ اب حیران ہونے کی باری ان صاحب کی تھی وہ فورا ہی اپنی گاڑی سے نیچے اترے چرواہے کو اس کی بکری واپس کی اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ میں کنسلٹینٹ ہوں تو چرواہا بولا کہ جب آپ نے اپنی اس مشین کے ذریعے بغیر گنے مجھے میری بکریوں کی تعداد بتا دی لیکن جب میں نے بکری کی جگہ اپنا کتا آپکے حوالے کیا تو آپ یہ نہ پہچان سکے کہ یہ بکری ہے یا کتا تو میں سمجھ گیا کہ آپ کنسلٹینٹ ہیں۔



ہمارے ہاں بھی بہت سے فارن پراجیکٹس چلتے ہیں اور ان پراجیکٹس کو چلانے کے لیے ماہرین جنہیں انگریزی میں کنسلٹینٹ کہاجاتا ہے وہ باہر سے تشریف لاتے ہیں ۔ اسی لیے آج تک کسی پراجیکٹ سے کوئی خیر برآمد نہیں ہوا۔ یہاں مظفرآباد میں ایک عرصے تک نیلم جہلم ویلی ڈیولپمنٹ پراجیکٹ چلتا رہا لیکن نتیجہ صفر ایک زمانے یہاں ایک پراجیکٹ شروع ہوا جس کا نام بڑا زبردست تھا یعنی شیلٹر سٹڈی پراجیکٹ فار لو انکم کمیونٹیز (یعنی کم آمدنی والے افراد کے لیے شیلٹرز بنانے کی تحقیق کی گئی) لیکن نتیجہ صفر ان پراجیکٹس کی گاڑیاں ہمارے شہر میں دندناتی پھرتی ہیں۔ پراجیکٹ کے دفتر میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ یہ جو صاحب جن سے ابھی آپکی ملاقات ہوئی ہے وہ بِھنڈی کے کنسلٹینٹ ہیں اور ماہانہ اسی ہزار روپے تنخواہ لیتے ہیں اور یہ دوسرے صاحب جو ابھی آپکے سامنے سے گزرے ہیں یہ آلو کے کنسلٹینٹ ہیں اور موصوف اس کام کے ماہانہ نوے ہزار روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ ان پراجیکٹس پر جو پیسہ خرچ ہوتا ہے وہ ہماری قوم پر قرض ہے لیکن یہ قرض گاڑیوں کے پٹرول اور کنسلٹینٹس کی تنخواہوں کی صورت میں واپس چلا جاتا ہے اور اس سے برآمد کچھ بھی نہیں ہوتا ۔
اب تو صورت حال اور بھی ابتر ہوگئی ہے پہلے تو یہ کنسلٹینٹس مختلف فارن پروجیکٹس میں ترقیاتی اور تحقیقی کاموں کے لیے بلائے جاتے تھے ۔ لیکن اب امریکہ اور انگلینڈ کی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کیے ہوئے یہ کنسلٹینٹس مذہب کی تعلیم کے لیے بھی درآمد کیے جارہے ہیں۔خصوصا ہمارے ٹیلی ویژن چینلز پر کچھ عرصے سے ایسے روشن خیال مذہبی کنسلٹینٹس بہت بلائے جاتے ہیں جو اسلام کے بنیادی نظریات کو نئے رنگ ڈھنگ اور اچھوتے انداز سے پیش کرتے ہیں۔ انکی گفتگو بڑی مدلل، لاجیکل اور سائنٹفک ہوتی ہے۔ لیکن دینی معلومات کے حوالے سے ان کا حال بھی اس کنسلٹینٹ جیسا ہی ہوتا ہے جسے کتے اور بکری کے فرق کا پتا نہیں تھا۔اسی طرح کے کنسلٹینٹس جو نام نہاد مذہبی سکالرز کا روپ دھارے ہوئے ہوتے ہیں جن موضوعات پر وہ عموما گفتگو کرتے ہوئے نئے نئے فلسفے بگھارتے ہیں ۔ ان میں سے ایک موضوع قربانی کا بھی ہے۔
یہ بات عام طور پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پیش کی جاتی ہے کہ قربانی ہمیں باہمی ایثا ر کا سبق دیتی ہے انسانی اخوت کو ابھارتی ہے اور معلوم نہیں کیا کیا کچھ اس قربانی کی کوکھ سے برآمد کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں لیکن یہ سب کچھ دراصل اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ اصل بات چھپ جائے جو اس سنت ابراہیمی کے اندر پوشیدہ ہے ۔ وہ بات کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے قربانی کے لغوی مفہوم پر غور کرنا ہوگا۔ قربانی کا لفظ قُرب سے بنا ہے اور قُرب کا مطلب ہوتا ہے قریب ہونا یا قربت حاصل کرنا۔ قربانی دراصل اللہ تعالی کے قُرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ تمام دنیا سے کٹ کر صرف اللہ کا ہوجائے اللہ کے معاملے میں کسی کو بھی خاطر میں نہ لائے۔دنیا کو پیٹھ پیچھے پھینک دے اور ذات باری تعالی کو اپنے سامنے لے آئے ۔
ذرا اس بات پر غور فرمائیں کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنا ۔اس میں کونسی ایثار والی بات ہے؟ اس میں کونسی باہمی اخوت والی بات ہے؟ اس میں کونسی باہمی محبت والی بات ہے؟ بیٹے کے ذبح کرنے کے عمل کو کوئی بھی انسانی تہذیب اچھا نہیں سمجھتی ، کوئی مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کردیا جائے۔ ایک ہوش و حواس رکھنے والا انسان اس بات پر جتنا سوچے اسے دل سے دماغ سے گھر سے معاشرے سے کہیں سے بھی اس عمل کے حق میں کوئی دلیل نہیں ملے گی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کردے۔ یہ جو لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو باہمی اخوت ، ایثار اور محبت کے جذبے کو پروان چڑھانے والی چیز بتاتے ہیں ان باتوں کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور یہ سب باتیں اس لیے کی جاتی ہیں تاکہ کسی طرح بندے کا تعلق اللہ سے کاٹ کر دنیا سے جوڑ دیا جائے۔ جبکہ قربانی کا عمل اللہ کے قرب کا ذریعہ بنتا ہے۔
اللہ اور بندے کے درمیان آقا اور غلام کا تعلق ہے ۔ آقا حکم دیتا ہے اور غلام اس حکم کو بجا لاتا ہے۔ اب ذرا غلام کے نقط نظر سے دیکھیں کہ آقاکا وہ حکم جو معاشرے کے چلن کے مطابق ہو۔ جسے معاشرے کی عام انسانی اخلاقیات کی حمایت بھی حاصل ہو، جو عام رسم و رواج کے بھی مطابق ہو، اور اس دورکی منطق بھی جسے قبول کرتی ہو ایسے حکم کو ماننا اور اس کی بجاآوری کرنا ایک غلام کے لیے کتنا آسان ہوتاہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں آقا کا ایک ایسا حکم جو منطق کے اصولوں کے بھی خلاف ہو ، جسے ہمارا معاشرتی اخلاق بھی نہ مانتا ہو، جو جدید معاشرے اور روشن خیال تہذیب کے رُخ کے بھی خلاف ہو، جس کا عام رواج بھی نہ ہو ایسے حکم پر عمل کرنا کتنا مشکل ہے۔
اب ذرا آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طرز عمل کو بھی دیکھیں، پیارا معصوم بیٹا اسماعیل اس کو ذبح کرنے جارہے ہیں۔ اپنی عقل سے پوچھا ہوگا تو عقل نے کہا ہوگا کہ یہ تو پاگل پن ہے، دل سے پوچھا ہوگا تو دل نے کہا ہوگا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ منطق کے ذریعے اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہوگی تو کوئی منطقی دلیل نہ ملی ہوگی۔کسی دوسرے سے پوچھا ہوگا تو کسی نے بھی اس کام کی حمایت نہ کی ہوگی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کردو جب کہیں سے بھی کوئی دلیل اس عمل کی حمایت میں نہ ملی ، جب کسی نے بھی اس عمل کو نہ سراہا۔ تب بوڑھا ابراھیم (علیہ السلام) اپنے بڑھاپے کے واحد سہارے اپنے پیارے نوجوان بیٹے کو ایک رسی ایک چھری کے ساتھ لیکر گھر سے ذبح کرنے کے لیے نکلا ہوگا۔ اور صرف ایک ہی جذبہ جو اس عمل کا جواز بنا ہوگا وہ ہوگا اللہ کے قرب کے حصول کا جذبہ اور اللہ کے حکم کی بجاآوری کا جذبہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ اے نبی کہہ دیں کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
حضرت ابراہیم کے مرتبے اور شان کا اندازہ کریں کہ اللہ کے ایک ایسے حکم کی بجاآوری کررہے ہیں جس کے لیے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے نہ اخلاق اس کی حمایت کرتا ہے، نہ معاشرہ اس کی حمایت کرتا ہے، نہ منطق پر یہ بات پوری اترتی ہے، نہ دل اور نہ دماغ اس بات کو مانتا ہے کہ اپنے معصوم بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی جائے ۔ اللہ کا ایسا حکم ماننا اور ایسی آزمائش میں پورا اترنا کیسا کٹھن ہوا ہوگا اس کا تو ہم تصور بھی مشکل سے کرسکیں گے۔ واقعی حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی ہستی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ اب اگر ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی سنت پر عمل کرنا چاہیں تو یہ کیونکر ممکن ہوگا ؟ ایک تو ہے جانور کی قربانی جسے اللہ رب العزت نے اس واقعے کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے جاری رکھا ہے اللہ کی یہ منشاء ہے کہ لوگوں کو ہر زمانے میں میرے ابراہیم کا طرزِ عمل یاد رہے کہ اس نے اپنے رب کو کس انداز سے خوش کیا تھا اس نے کس طرح اللہ کے حکم کی بجاآوری کی تھی تاکہ جب بھی ایسا کوئی معاملہ مسلمانوں کے ساتھ پیش آئے تو وہ ابراہیم کی سنت کی پیروی کریں۔
سنت ابراہیمی کی پیروی کرنے کا شوق ہو تو اللہ کا کوئی ایسا حکم لے لیں جو اس زمانے کی روشن خیال منطق کی مطابق دقیانوسی کہلائے۔ جو معاشرے کے چلن کے خلاف ہو۔ جو ہمارے رسم و رواج سے میل نہ کھاتا ہو۔ ایسا حکم کہ جس کے بارے میں آپ کسی سے مشورہ کرنے جائیں تو کوئی بھی آپ کو وہ کام کرنے کا مشورہ نہ دے۔ اللہ کا کوئی ایس حکم کہ جس پر عمل پیرا ہونے کے سبب آپ معاشرے سے بالکل الگ نظر آئیں۔ جس کے کرنے سے آپ اجنبی بن جائیں۔ بالکل اجنبی! اللہ کے نبی کی حدیث یاد آئی فرمایا کہ اسلام اپنی ابتداء میں اجنبی تھا اور عنقریب یہ پھر ویسا ہی اجنبی ہوجائے گا جیسا ابتداء میں تھا تو خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے ، خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے ۔ کرکے دیکھیں آپ اجنبی ہوجائیں گے معاشرے سے کٹ جائیں اور آپ کو پھر مٹھاس محسوس ہوگی حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی قربانی کی جب آپ مخلوق سے کٹ کر خالق کا قرب حاصل کریں گے تو قربانی کا اصل مفہوم آپ پر کھلے گا۔
اللہ کے ایسے کئی احکامات ہیں جو آج پامال ہیں۔ عورتوں کے لیے پردے کے احکامات ہیں رواجی پردہ نہیں بلکہ صحیح اسلامی شرعی پردہ عمل کرکے دیکھیں دانتوں پسینہ آجائے گا۔ دقیانوس کہلائیں گے۔ دھتکارے جائیں گے۔ طعن و تشنیع کا نشانہ بنیں گے ۔ پارٹیوں میں نہ بلائے جائیں گے۔ پاگل کہلائیں گے۔ اجنبی ہوجائیں گے۔ آزادی نسواں کے پروپگنڈے کے ڈسے ہوئے اس معاشرے سے کوئی اخلاقی حمایت آپکو نہ ملے گی۔موجود سوسائٹی کی اعلی اخلاقی اقدار آپکو اس کا جواز فراہم نہ کریں گی اور دین کے جعلی ماہر اور نقلی سکالرز اور مغربی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کرنے والے علمائے دین، جنہیں آپ کنسلٹینٹس کہیں آپ کو اللہ کے ان حکموں کے خلاف ایسی ایسی دلیلیں دیں کہ آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی ۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر آپ اللہ کے اس حکم پر عمل کرجائیں تو تب آپکو سنت ابراہیمی کا اصل فلسفہ سمجھ آئے گا۔
آج کے معاشرے میں عورت شرعی پردہ کرے اور مرد بے حیائی سے باز رہیں اور مردوں کے لیے صرف رزقِ حلال کمانا۔ کرکے دیکھیں۔ جان کے لالے پڑ جائیں گے پہلے گھر والے ہی پاگل کہیں گے۔ پھر باقی لوگ بھی آپ کی عقل پر شک کریں عقل پر شک نہ کیا تو ذھانت کو ضرور فاتر سمجھیں گے۔ نوکری کرنے والے اپنے فرائض میں ڈنڈی نہ ماریں۔ صرف اپنے حق پر قناعت کریں دوسروں کا حق نہ ماریں۔ کاروبار والے اپنے گاہکوں کے حق کا خیال رکھیں اور بینکوں سے سودی لین دین نہ کریں سودی قرضے نہ لیں۔ ان احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں اور پھر حضرت ابراھیم کے بارے میں سوچیں تو معلوم ہوگا کہ اللہ کے خلیل کی سنت کیا تھی۔
اپنی شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں صرف نبی کی سنت اور صحابہ کے طریقے کی پیرویں کریں یعنی صرف وہ کام کریں جن کی شریعت اجازت دیتی ہو۔ ذرا کرکے دیکھیں اتنی مخالفت ہوگی کہ لوہے کے چنے چبانے والا معاملہ ہوجائے گا۔
اللہ کا کوئی بھی حکم لے لیں جس کو اس وقت کا معاشرہ تسلیم نہیں کرتا جس کا اس وقت رواج نہیں ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، سب آپ کے مخالف ہوجائیں گے لیکن پورے جہان کی دشمنی اور مخالفت مول لے کر آپ اللہ کے اس حکم پر عمل کرجائیں تو اس عمل میں آپکو حضرت ابراہیم کی قربانی کا عکس نظر آئے گا۔ اور یہی حکمت اس قربانی کے حکم کے اندر آپکو پوشیدہ ملے گی۔ اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا تھا اسلام پر عمل کرنا ایک وقت میں اتنا مشکل ہوجائے گا کہ جتنا مشکل جلتی آگ کے انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم کی اس ادا کو اللہ نے پسند فرمایا اور جانوروں کی قربانی کی صورت میں اسے رہتی دنیا تک کے لیے زندہ رکھا آج جب آپ اپنا قربانی کا جانور ذبح کرنے لگیں تو یہ ضرور سوچیں کہ حضرت ابراہیم کو اپنا بیٹا قربان کرتے ہوئے کیاکیا مشکلات پیش آئیں تھیں اور وہی مشکلات آج بھی آپ کو بھی پیش آئیں گی جب آپ اس بات کا عہد کرلیں گے کے حضرت ابراہیم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے تمام رکاوٹوں کے باوجود آپ اللہ ان احکامات پر عمل کروں گا جو اس وقت معاشرے میں پامال ہیں۔

0 comments:

Post a Comment