09 November, 2008

جنت میں جہنّم

جنت میں جہنّم
اسرار ایوب
وزیرستان جو آجکل میدانِ جنگ بنا ہوا ہے،میری زندگی میں اسلیے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس ایجنسی کے روکھے سوکھے اور گرم شمالی حصے میںوہ ہری بھری اور ٹھنڈی جگہ بھی واقع ہے جسے رزمک کہتے ہیں اورجہاںوہ کیڈٹ کالج موجود ہے جس کی آغوش نے چار برس تک مجھے تعلیم دی اور میری تربیت بھی کی۔ آٹھویں جماعت میں ہمارے انگریزی کے استاد ایک انگریز ہوا کرتے تھے اور جس دن سے تبلیغی جماعت والوں نے یہ بتایا تھا کہ ایک کافر کو مسلمان بنانے اور جہنّم کی آگ سے بچانے کا کتنا ثواب ہوتا ہے،دل و دماغ پردن رات انہیں اسلام قبول کروانے کی دھن سوار رہتی تھی۔انکی نرم مزاجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری کلاس کے لڑکے آئے روز انہیں بڑے زورو شور سے کلمہ پڑھنے کی دعوت دیتے رہتے تھے جسے وہ بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرتے تھے۔



اسلام قبول کرنا تو دور کی بات وہ تو ہماری دعوتِ حق کو اتنی اہمیت بھی نہیں دیتے تھے کے اس کے بارے میں کوئی بات ہی کر لیں۔ ایک دن ہم نے یہ تہیّہ کر لیا کہ آج اسلام قبول نہ بھی کروا سکے تو انہیں گفتگو پر ضرورآمادہ کریں گے کیونکہ کالج کے مولوی صاحب کے بقول کسی کافر کو دعوتِ حق کے بارے میں بحث مباحثے پر تیا ر کرنا بھی کم ثواب کی بات نہیں تھی۔اس روز بچ نکلنے کی انکی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی، ہم نے آخر کار انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر ہی لیا اور پھر اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے پرسوال جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیوں قبول کروں؟اوراسکا جواب ہمارے پاس اسکے سوا کچھ نہیں تھا کہ اسلام قبول کرنے سے جنت ملتی ہے۔دوسرا سوال یہ تھا کہ اسلام قبول نہ کروں تو کیا ہوگا؟اور اسکا جواب اچھے اچھوں کے پاس بھی اسکے علاوہ اور کیا ہوتا ہے کہ اسلام قبول نہ کرنے سے انسان جہنّم میں چلاجاتا ہے؟تیسرا سوال یہ تھاکہ اس کا مطلب ہے ہمارے دور کے کم و بیش سبھی بڑے بڑے سائنس دان،فلاسفر،مفکّر وغیرہ جہنّم میں جائیں گے؟ہم نے کہا جی ہاں اور وہ مسکرا کر بولے کہ پھر تو میں جہنّم میں ہی جانا پسند کروں گا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ یہ سب جہنمی لوگ اپنی ذہانت، فکر، لگن،محنت،سچائی اور ایمانداری سے جہنم کو جنت میں تبدیل کر دیں گے جبکہ آج کے مسلمان کیا جنت کو جہنّم نہیں بنا دیں گے؟ انگریز استاد کی بات جو اس وقت سرسے گزر گئی اوررفتہ رفتہ بھول بھی گئی، 26سال بعداچانک نہ صرف یاد آئی بلکہ سمجھ بھی آئی جب کینیڈا سے آئے ایک دوست نے بتایا کہ جس علاقے میں وہ رہتے ہیں اسکا درجہ حرارت منفی45ڈگری سینٹی گریڈکے لگ بھگ ہوتا ہے ،اس درجہ حرارت پر پاکستان جیسے کسی ملک میں زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن وہاں انتظامات اتنے اچھے ہیں کہ ہم بڑی ہی آسودہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔گھرہودفترہو یابازار،سب کے سب سینٹرلی ہیٹڈ(centrally heated) ہیں ،تمام عمارتیں ایک دوسرے کے ساتھ اسطرح جڑی ہوئی ہیں کہ لوگ ایک کے اندر سے ہی دوسری میں داخل ہوجاتے ہیں اور دور جانا ہو تواپنے کمرے سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے گاڑی اسٹارٹ کر کے اسکا ہیٹرچلا دیا جاتا ہے۔یہی نہیں بلکہ بڑے بڑے برفانی گلیشیروں(جنکے پانی کو بڑی ہنر مندی کے ساتھ زیرِ استعمال لایا گیاہے)تک جانے اور مناظرِ فطرت سے لطف اندوز ہونے کا ایسا زبردست نظام ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔کئی کئی سو کلو میٹروں پر محیط نیشنل پارک کچھ اسطرح بنائے گئے ہیں کہ جانور انسانوں اور انسان جانوروں سے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ایک پارک میں 750کمروں پر مشتمل ایک ایسا عالیشان ہوٹل تعمیر کیا گیا ہے کہ اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے انسان کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ کینیڈا کے عمومی درجہ حرارت کو ذہن میں رکھیے اور سوچیے کہ اگر ایک منٹ کے لیے بھی بجلی یا گیس بند ہو جائے تو کیا ہو؟ لیکن ایک منٹ کے لیے بھی بجلی بند ہوتی ہے نہ گیس،وہاں کے لوگ لوڈ شیڈنگ کے نام تک سے نا واقف ۔ کینیڈا میں ہر رنگ ،ہر نسل، ہر مذہب اور ہر فکر کے لوگ آباد ہیں لیکن وہاں کو ئی بھی کسی دوسرے کے معاملات میں مداخلت کی آزادی نہیں رکھتااور یہی وجہ ہے کہ الگ الگ نظریات کے حامل افراد بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر ہنسی خوشی رہ رہے ہیں۔کرائم ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔اور تو اور ایک اکیلی اور نہتی لڑکی بھی کسی خوف، خطرے اور اندیشے کے بغیر پورا ملک گھوم سکتی ہے۔ میرے پیارے دوست آفتاب نذیر کو کینیڈا سے بس ایک ہی شکایت ہے کہ یہ ملک اتنی عمدگی سے چل رہا ہے کہ اسے مذیدعمدہ بنایابظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا جنت سے کم نہیں اور میری توجہ انگریز استا د کے اس سبق کی جانب مبذول ہوگئی جو انہوں نے ہمیں آٹھویں جماعت میں پڑھایا تھا۔آپ خود ہی فرمائیے کہ کیا کینڈا قدرتی آب و ہوا کے اعتبار سے جہنّم نہیں لیکن کیا وہاں کے لوگوں نے اسے جنت نہیں بنایا ہوا؟اب آئیے پاکستان کی طرف ،اسکے چارموسموں کو نگاہ میں رکھیے اور پھربرف پوش پہاڑوں،سرسبز و شاداب وادیوں،جھیلوں، جھرنوں،ندیوں،دریاؤں،سمندروں،صحراؤں ،زرخیز زمینوں اور ان میں موجودمعدنیات کے بیش بہا خزانوں کو ذہن میں لا کر بتائیے کہ ہماری دھرتی میں کیا وہ تمام چیزیں پوری آب وتاب کے ساتھ موجود نہیں جو کسی ملک کی قدرتی آب و ہوا کو جنت بناتی ہے لیکن کیا ہم نے اسے جہنّم نہیں بنایا ہوا؟ ہمارے یہاں دیگر مذاہب کے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن ایک خدا اور ایک رسولؐ کو ماننے والے مسلمان نجانے کتنے ہی فرقوں،کتنی ہی ذاتوں اور برادریوں میں تقسیم ہو کر کیاایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں بن چکے ؟کیا ہم میں قوتِ برداشت نام کی کوئی شے باقی ہے؟کیا ہمیں ملکی سالمیت کی کوئی پرواہ ہے؟ کیا ہماری کرتوتوں کی وجہ سے ہمارے ملک پر آگ اور خون کی بارش نہیں ہورہی اور اسکے باوجود کیا ہم کرپشن،لوٹ مار،چور بازاری،ذخیرو اندوزی اوررشوت سے باز آ رہے ہیں؟ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کے لامحدود وسائل ہیں لیکن جتنی لوڈ شیڈنگ ہمارے یہاں ہوتی ہے کیا دنیا میں کہیں اور بھی ہوتی ہے؟ہم قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال ہیں لیکن انہیں تصرف میں لانے کے بجائے کیا بیچنے پر نہیں تلے ہوئے؟ہمارے کھیت دنیا کی بہترین زرعی اراضی میں شمار کیے جاتے ہیں لیکن ہماری اکثریت کیا ایک ایک بوری آٹے کے لیے ترس نہیں رہی؟ہمارے پاس اہلیت و اچھائی کے اعتبار سے بہترین لوگ موجود ہیں لیکن ہم نے ہر شعبے میں کیا ماجھوں گاموں کو آگے نہیں لایا ہوا ؟ملک کو جنکی ضرورت ہے کیا وہ ملک چھوڑ کر نہیں جارہے اور جنکی ضرورت نہیں کیاوہ سیاہ و سفید کے مالک نہیں بنے ہوئے؟ کاش ہم اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی مسجدسے باہر نکل سکیں،کاش ہم خدا کے اس عظیم پیغام کی عالمگیریت کو سمجھ سکیں جس پر ایمان لانے کادعوی کرتے ہیں،کاش ہم اس نبیؐ کے نقشِ قدم پر چل سکیں جسکی صداقت اورامانت کی گواہی اسکے بدترین دشمن بھی دیتے تھے،کاش ہم کردارکے اس سانچے میں ڈھل سکیں جوگناہ گارسے نہیں بلکہ اسکے گناہوں سے نفرت سکھاتا ہے،کاش ہمارے رویّے سے امن و محبت اور علم و آگہی کی ایسی بارش برسے جو اس جہنّم کی آگ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بجھا دے جو ہماری جنت میں جل رہی ہے۔

1 comments:

Mujeeb Hassan said...

I read the first line of the article and as I moved on I found it more interesting and real. Thanks for the writer and for you for sharing it.

Post a Comment