07 November, 2008

تین چیزوں کی محبت

جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم مع اصحابه رضي الله عنهم

ایک دن نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ وسألهم مبتدأ أبي بكر ماذا تحب من الدنيا ؟

نبی اکرم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ تمھیں دنیا میں کیا پسند ہے۔ فقال ابي بكر ( رضي الله عنه) أحب من الدنيا ثلاث

توحضرت ابی بکر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ مجھے دنیا کی تین چیزیں پسند ہیں۔

الجلوس بين يديك – والنظر اليك – وإنفاق مالي عليك

آپکے سامنے بیٹھنا اور آپ کودیکھتے رہنااور اپنا مال آپ پر خرچ کرنا وانت يا عمر ؟ قال احب ثلاث :

اور تمھیں اے عمر (رضی اللہ عنہ) کہا کہ مجھے بھی تین چیزیں پسند ہیں۔ امر بالمعروف ولو كان سرا – ونهي عن المنكر ولو كان جهرا – وقول الحق ولو كان مرا

نیکی کا حکم خواہ پوشیدہ ہو اور برائی سے منع کرنا خواہ کھلم کھلا ہو اور حق بات خواہ کڑوی ہو۔ وانت يا عثمان ؟ قال احب ثلاث: اطعام الطعام – وافشاء السلام – والصلاة باليل والناس نيام

اور تمھیں اے عثمان (رضی اللہ عنہ) کہا کہ مجھے بھی تین چیزیں پسند ہیں۔

کھانا کھلانا اور سلام کرنا اور رات کی نماز جب لوگ سوئے ہوئے ہوں وانت يا علي ؟ قال احب ثلاث: اكرام الضيف – الصوم بالصيف - وضرب العدو بالسيف

اور تمھیں اے علی (رضی اللہ عنہ) کہا کہ مجھے بھی تین ہی پسند ہیں۔

مہمان کی خاطر مدارت کرنا ، گرمی کا روزہ رکھنا اور دشمن کو تلوار سے ضرب لگانا ثم سأل أبا ذر الغفاري: وأنت يا أبا ذر: ماذا تحب في الدنيا ؟

قال أبو ذر :أحب في الدنيا ثلاث الجوع؛ المرض؛ والموت فقال له النبي (صلى الله عليه وسلم): ولم؟ فقال أبو ذر أحب الجوع ليرق قلبي؛ وأحب المرض ليخف ذنبي؛ وأحب الموت لألقى ربي

پھر آپ نے حضرت ابوزر غفاری (رضی اللہ عنہ) سے سوال کیا کہ اور تم اے ابو زر تمھیں دنیا میں کیا پسند ہے؟

ابوزر (رضی اللہ عنہ)نے کہا مجھے دنیا میں تین چیزیں پسند ہیں بھوک ، بیماری اور موت

تو آپ نے فرمایا کیوں؟ ابوزر نے جواب دیا کہ بھوک اس لیے پسند ہے کہ اس سے دل نرم ہوتا ہے اور بیماری اس لیے پسند ہے کہ اس سے گناہ جھڑتے ہیں اور موت اس لیے پسند ہے کہ اس سےمیری میرے رب سے ملاقات ہوگی۔

فقال النبي (صلى الله عليه وسلم) حبب إلى من دنياكم ثلاث الطيب؛ والنساء؛ وجعلت قرة عيني في الصلاة

پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمھاری دنیا سے تین چیزیں پسند ہیں۔

خوشبو اورعورت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے وحينئذ تنزل جبريل عليه السلام وأقرأهم السلام وقال: وانأ أحب من دنياكم ثلاث تبليغ الرسالة؛ وأداء الأمانة؛ وحب المساكين؛

اور وہاں اس وقت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے انہیں سلام کیا اور کہا کہ مجھے آپ کی دنیا سے تین چیزیں پسند ہیں، رسالت پہنچانا، امانت ادا کرنا اور مسکین سے محبت کرنا۔

ثم صعد إلى السماء وتنزل مرة أخرى؛ وقال : الله عز وجل يقرؤكم السلام

ويقول: انه يحب من دنياكم ثلاث لساناً ذاكراً ؛ و قلباً خاشعاً ؛ و جسداً على البلاءِ صابراً

پھر جبریل آسمان کی طرف چڑھ گئے اور دوسری مرتبہ پھر نازل ہوئے اور کہا کہ اللہ عزوجل نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرماتے ہیں کہ انہیں بھی تمھاری دنیا کی تین چیزیں پسند ہیں۔ ذکر کرنے والی زبان ، ڈرنے والا دل ، اور مصیبت کے وقت صبر کرنے والا بدن۔

سبحان الله وبحمده ،،، سبحان الله العظيم

0 comments:

Post a Comment