07 November, 2008

اسلامی بینکاری ـ عملی پہلو

اسلامی بینکاری ـ عملی پہلو
(عطا الرحمان عارف)
پس منظر:
اسلامی بینکاری کا پاکستان میں آغاز 1997ء میں المیزان انوسٹمنٹ بینک کے قیام سے ہوا جوکہ 2002ء میں پاکستان کے پہلے اسلامی کمرشل بینک کی حیثیت سے تبدیل ہوا اور مرکزی بینک نے اس کو باقاعدہ روایتی بینکوں کی طرح کھاتہ کھولنے اور کھاتہ داروں سے رقوم وصول کرنے کا اختیار دے دیا۔
اس بینک کے قیام میں بنیادی عنصر تو حقیقتاً وہ معروف فیصلہ تھا جس میں اسلامی شرعی عدالت نے سودکو حرام قرار دے کر حکومت کو تین سال کا وقت دیا تھا تاکہ بینکوں سے سود کا خاتمہ کردیا جائے۔ اس شرعی عدالت کے ایک جج جسٹس تقی عثمانی کی رہنمائی میں اور ملائشیا و بحرین کے اسلامی بینکوں کے تجربہ کی بنیاد پر میزان بینک نے کام کا آغاز کیا۔



عملی پہلو:
علمائے کرام اور میزان بینک کی اوّلین انتظامیہ نے اس کام کا آغاز تو یقینا نیک نیتی کے ساتھ کیا تھا اور اس کا مقصد حکومت کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ سود کو ہم کلیتاً ختم نہیں کرسکتے کہ اس کے بغیر بینکنگ کا نظام نہیں چلایا جاسکتا، لیکن بعد میں وقت نے ثابت کردیا کہ حکومت اور مرکزی بینک میں موجود لادین قوتوں کے نمائندوں نے اپنی قوت کے بل پر اور سازش کے انداز میں اس تجربہ کو ناکام کرنے کی مسلسل کوشش کرتے ہوئے فی الوقت اسے ناقابلِ عمل ثابت کردیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ بظاہر نام تو غیر سودی لین دین کا لیا جاتا ہے مگر تمام ہی اسلامی بینکوں میں بنیادی روح وہی سودی نظام ہے جس کے خلاف اﷲ تعالیٰ نے جنگ کی وعید دے رکھی ہے اور جو قطعاً حرام ہے۔ یہ رائے اسلامی بینکوں میں عملاً معاملات کے چلانے، ان کی انتظامیہ کے رویے اور مختلف موجود پراڈکٹس کے نتائج پر مبنی ہے جس کی مختصر توضیح پیشِ خدمت ہے۔
(1) میزان بینک کے آغاز میں دیگر اسلامی ممالک سے درآمد شدہ تجربہ کی روشنی میں مفتیان کرام نے وقتی اور عارضی طور پر مرابحہ کو جائز قرار دیا تھا اور اس کو تدریجاً ختم کرکے حقیقی اسلامی ٹرانزیکشن یعنی مشارکہ و مضاربہ کو رائج کرنا تھا لیکن اس وقت خود مرابحہ ایک عفریت کی شکل اختیار کرچکا ہے اور فی زمانہ اسلامی بینکوں کا کل دارومدار اسی ٹرانزیکشن پر ہے اور اسی بنیاد پر قرضوں کااجراء کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کی عملی خرابیاں مندرجہ ذیل ہیں:
iـ مرابحہ میں بینک کسی بھی جنس کی خریداری کے لئے قرضہ جاری کرنا ہے اور اس مقصد کے لئے ایک ایجنٹ کا انتخاب کرتا ہے جو اس خریداری میں بینک کا ممد و معاون ہو۔ 99 فی صد کیسز میں یہ ایجنٹ خود قرض دار ہی ہوتا ہے۔ قیمتِ خرید جنس، اس کی خریداری اور پھر قرض دار کو فروخت کے تمام مراحل کے بارے میں کاغذی دستاویزات (Documents) کے مطابق بینک کا نمائندہ ذمہ دار ہوتا ہے جبکہ درحقیقت یہ سب معاملات وہی ادارہ/شخص کرتا ہے جو اس جنس کو استعمال کرنے کے لئے قرض کی درخواست دیتا ہے ۔اس طرح اس پورے عمل کی شفافیت اور اصل روح بجائے خود سوال ہے۔
iiـ وہ تمام دستاویزات جو اس ضمن میں تیار کی جاتی ہیں جن میں جنس کی خریداری، نمائندہ کا انتخاب، وصولی مال اور جنس کی فروخت قرض دار کو سب ہی اوّل روز تیار کرکے دستخط کردیئے جاتے ہیں ،صرف ان پر تاریخ کا اندراج بعد میں کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل سے بھی اس معاملہ کا اسلامی ہونا مشکوک ہوجاتا ہے کیوں کہ بعض اوقات وہی فرد/ ادارہ جو اس قرض کا فائدہ اٹھاتا ہے ایجنٹ ہونے کا معاوضہ بھی وصول کرتا ہے۔
(2) مرابحہ کے علاوہ دوسری پراڈکٹ جو نہایت معروف ہے وہ اجارہ (Ijarah) ہے جو روایتی بینکوں کی leasing یا اقساط کی بنیاد پر اشیاء فروخت کرنے سے متماثل ہے۔ اگرچہ اس کا نام بھی اسلامی بینکوں نے مسلمان کردیا ہے مگرفی الوقت اجار ہ میں درجِ ذیل قباحتیں موجود ہیں:
iـ اجارہ کی صورت میں جو بھی اثاثہ (گاڑی) کرایہ دار کو استعمال کے لئے دیا جاتا ہے وہ آخر میں یعنی معاہدہ کے اختتام پر استعمال کنندہ (کرایہ دار) خریدنے کا پابند ہوتا ہے اور اس مقصد کے لئے آغاز میں ہی ایک معاہدہ دستخط کردیا جاتا ہے تاکہ دونوں پارٹیاں خود کو محفوظ تصور کریں۔
iiـ اس مقصد کے لئے طے کی جانے والی قیمت بھی دراصل وہ ١٠ ، ١٥، یا ٢٠ فی صدد رقم ہوتی ہے جو اثاثہ کے استعمال کے لئے بطور زر ضمانت بینک کے پاس رکھوا دی جاتی ہے۔ اب یہ گاڑی چاہے کسی بھی مالیت کی ہوجائے 5 سال یا 3 سال بعد اس کی قیمت وہی تصور کی جاتی ہے جو زرِ ضمانت رکھوائی گئی ہے۔ اس طرح اجارہ اور leasing میں کوئی فرق نہیں ہے۔
iiiـ بینک اپنے کھاتوں میں اس اثاثہ کو یعنی گاڑی کو کرایہ دار کی ملکیت کے طور پر دکھاتے ہیں اور وہ زرِ ضمانت جو بطور deposit بنک کے پاس موجود ہوتا ہے اسے اپنا asset مان کر اس پر حاصل ہونے والے تمام ہی منافع کا حق دار بھی اسلامی بینک ہی تصور ہوتا ہے، یہ معاملہ مکمل طور پر غیر اسلامی ہے۔
ivـ کرایہ کی ادائیگی قرض دار یا کرایہ دار سے بینک کو گاڑی کے استعمال سے قبل ہی ادا کرنا شروع ہوجاتی ہے اور ابھی گاڑی درحقیقت اس کے بنانے والی کمپنی نے جاری بھی نہیں کی ہوتی اس کا کرایہ ادا کرنا شروع ہوجاتا ہے جو کسی بھی طرح شرعی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔
vـ بینک جب کرایہ یا Rental Payment کا حساب لگاتا ہے تو اس مقصد کے لئے ان کے تمام ہی Software میں گاڑی کی کل مالیت کو شامل کرکے اس پر Rental نکالتا ہے۔ ایک طرف یہ شرعی ہے مگر جب زرِ ضمانت پر کرایہ دار کو کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں دیا جاتا اور بینک اس زرِ ضمانت کو کسی بھی علیحدہ poolمیں رکھے بغیر اس کا حاصل ہونے والا منافع بھی خود کماتا ہے تو یہ پورا معاملہ مشکوک ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس deposit رقم کو بینک اپنے گوشواروں میں customer کی liability کے طور پر دکھاتا ہے۔
viـ کچھ بینکوں میں audit کے دوران لیٹ ادائیگی قسط پر ہونے والا جرمانہ charity میں استعمال کرنے کی بجائے بینک کی آمدنی میں چلا جاتا ہے جو leasing کا سودی اصول ہے اور غیر شرعی ہے۔
(3) اسی طرح کھاتہ داروں کے جمع شدہ depositکی رقوم کا کوئی الگ pool بناکر اس کو مشارکت کے اصولوں پر تقسیم نہیں کیا جاتا کہ کم مدتی کھاتوں کو کم مدتی سرمایہ کے طور پر استعمال کیا جائے اور زیادہ مدتی کھاتوں کو زیادہ مدتی سرمایہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس ضمن میں تمام رقم کو ایک ہی مشترکہ poolکے طور پر استعمال کرکے ان پر منافع تقسیم کردیا جاتا ہے۔ بینک کے کھاتہ داروں کو کسی قسم کی آگاہی بھی نہیں دی جاتی کہ ان کو یہ منافع کس بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے۔
(4) منافع کی تقسیم میں ایک اور بڑا اعتراض یہ ہے کہ کھاتہ داروں کو منافع کی ادائیگی حقیقی آمدنی پر کرنے کے بجائے مارکیٹ کے حصہ کے مطابق روایتی سودی بینکوں کے جاری کردہ منافع سے 0.5%زیادہ یا کم کرکے ادا کی جاتی ہے اور اس مقصد کے لئے فائنل حساب لگانے سے قبل ایک یا دو مرتبہ مختلف کھاتوں پر مختلف شرح کے حساب سے منافع کی تقسیم کا Software چلایا جاتا ہے پھر بالائی ذمہ داران یا انتظامیہ کی اجازت سے منافع تقسیم کیا جاتا ہے اس وجہ سے کھاتوں میں منافع کی تقسیم 5 سے 7 تاریخ تک کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں جب اسلامی بینک کے ذمہ داران سے بات کی گئی تو ان کا جواب تھا کہ اگر ہم نے حقیقی منافع تقسیم کیا جو بہت زیادہ ہوگا تو مارکیٹ سے بہت زیادہ رقم ہمارے بینک میں آجائے گی جس کو سنبھالنے کے ہم اہل نہیں ہیں اور اس کے بعد ہمارے کھاتہ داروں کو منافع کے بجائے نقصان ہوگا (یہ دلیل بجائے خود اﷲ پر توکل کے منافی ہے)۔
دوسری جانب مرکزی بینک کے ذمہ داران کا موقف ہے کہ اگر اسلامی بینکوں نے اصل بنیاد پر منافع تقسیم کیا تو روایتی سودی بینک نقصان میں جاکر ڈوب جائیں گے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ ان کو اس بات پر مجبور کیا جائے۔ اس طرح مرکزی بینک کے اسلامی بینکنگ ڈیپارٹمنٹ اپنے اصل کام یعنی اسلامی بینکاری کو promote کرنے کی بجائے روایتی بینکوں کا ممد و معاون ہے۔
(5) فی الوقت اسلامی بینک اور مرکزی بینک کے درمیان اس بات پر ذمہ داری قبول کرنے کا اختلاف ہے کہ صحیح شرعی بینکاری کے لئے کوئی بھی نئی پراڈکٹ یا متبادل نظام اسلامی بینکوں کے نزدیک مرکزی بینک کی ذمہ داری ہے کہ اس عرصے میں تحقیق کرے جب کہ مرکزی بینک کا اسلامی بینکنگ ڈیپارٹمنٹ منتظر ہے کہ اسلامی بینکوں کی جانب سے کوئی متبادل پراڈکٹ بنا کر سامنے لائی جائے تو وہ اس کو منظور کردیں گے۔ دونوں جانب ذمہ داری منتقل کرنے سے زیادہ نیت کا معاملہ بھی ہے کیوں کہ مرکزی بینک میں جن افراد نے اس جانب پیش رفت کی وہ اسلامی بینکنگ ڈیپارٹمنٹ کا حصہ تھے مگر نہیں رہے، نہ ہی اسلامی بینکوں میں سے کسی بھی سطح پر کوئی نئی پراڈکٹ سامنے آسکی حالاں کہ گزشتہ 11 سال میں بے شمار نئے بینک اور اسلامی برانچوں کا قیام عمل میں آچکا ہے مگر ان اداروں میں بھی اس جانب کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
(6) اس وقت اسلامی بینکوں کی انتظامیہ اور اس میں کام کرنے والے بالائی افسران و منتظمین کا ایمان اس بارے میں کہ اﷲ تعالیٰ کی حدود و قیود کیا ہیں نہایت کمزور ہے اور وہ افراد ظاہری اسباب پر زیادہ بھروسہ رکھتے ہیں بجائے مسبب الاسباب پر رکھنے کے۔ اسی طرح جو افراد پچھلے چند سالوں میں اسلامی بینکوں میں نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کا تجربہ اور سوچ دونوں روایتی سودی بینکاری کے بارے میں زیادہ ہے۔ بجائے اس بات کے کہ اس شعبہ کو ایک چیلنج یا مشن سمجھ کر قبول کیا جائے زیادہ تنخواہ اور ایک بڑھتی ہوئے کامیاب شعبہ میں کام کرنے کا تجربہ کی خواہش کی بناء پر روایتی سودی بینکوں سے افراد اسلامی بینکوں کی طرف آرہے ہیں۔ ان کا تجربہ اور علم نہ تو اسلامی بینکاری کے بارے میں ہے نہ ہی کاروبار کا حقیقی تجربہ اور سمجھ رکھنے والے افراد اسلامی بینکوں میں موجود ہیں جس کی بناء پر وہ اسلامی معیشت کے اصولوں کے مطابق قرضدار اداروں اور افراد کا تجزیہ عملی انداز میں نہیں کرسکتے۔
اس تمام صورتِ حال کا نہایت خطرناک نتیجہ اس صورت میں سامنے آیا ہے کہ بینکوں کی انتظامیہ میں موجود یہ افراد علماء کرام اور شریعہ ایڈوائزرز کو مس گائیڈ کرتے ہیں اور شریعہ ایڈوائزر اور کنسلٹنٹ جو دن کا کچھ حصہ ہی بینک میں گزارتے ہیں ان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہر ایک ٹرانزیکشن کو ذاتی دلچسپی لے کر دیکھیں لہٰذا ان تمام عوامل کے باعث سیکولر سوچ رکھنے والی انتظامیہ ان سے اپنے مطلب کے فیصلے کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
اسلامی بینک میں کام کرنے والے ان سیکولر قوتوں کا مطمع نظر زیادہ منافع کا حصول ہوتا ہے نہ کہ کسی غریب اور ضرورت مند کاروباری فرد کی مدد کا مشن جس کی بناء پر وہ بینکاری کے اصول و قوانین جو سودی عنصر کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کی روشنی میں زیادہ سرمایہ دار افراد کو ہی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل کے پیچھے سودی روایتی بینکاری کی وہی سوچ ہے کہ ''بینک اپنے گاہک کو دھوپ میں چھتری دے کر بارش میں واپس لے لیتا ہے'' (Banks provides umbrella in sunny days and took back in rainy days from its customer.)
اس طرح اسلامی بینک بھی منافع کی دوڑ میں برابر شریک ہیں حالانکہ منافع کا اصل فائدہ نہ تو کھاتہ داروں کو مل رہا ہے نہ ہی اس کے حصص یافتگان کو۔ اس کی بجائے بینک انتظامیہ اور مالکان اس میں اپنا حصہ وصول کررہے ہیں۔ ان حالات میں ایک ضرورت مند فرد نہ تو اپنا کاروبار شروع کرسکتا ہے اور نہ ہی قرض حاصل کرسکتا ہے کیوں کہ اس کے پاس دکھانے کو نہ تو سرمایہ ہے اور نہ ہی گروی رکھنے کو کوئی جائیداد۔
(7) گزشتہ چند سالوں میں روایتی سودی بینکوں اور تمام بیرونی بینکوں نے اسلامی برانچوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ۔ ان کی برانچوں میں کام کرنے والے افراد دونوں طرح کی برانچوں میں تبادلہ ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح ان کے درمیان فنڈز کی سطح پر بھی کوئی واضح تفاوت موجود نہیں ہے جو بجائے خود شرعی طور پر تشویشناک ہے۔
(8) مرکزی بینک کے اصول و قوانین کی بناء پر بینکوں کو تجارتی لین دین (trading) کی اجازت نہیں ہے اور اسلامی بینکوں کی جانب سے مطالبہ کے باوجود مرکزی بینک اپنے قوانین میں کسی ترمیم کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہ بھی ملک میں اسلامی بینکاری کے مکمل شرعی ہونے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
اگر بینکوں کو تجارتی سودوں کی اجازت مل جائے تو اسلامی بینک مرابحہ پراڈکٹ کو شرعی اصولوں کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں اور بہتر طور پر مشارکہ عقد میں شامل ہوسکتے ہیں۔ فی الوقت اسلامی بینکوں کے پاس مضاربہ کے علاوہ کسی اور اسلامی پراڈکٹ کے استعمال کا چارہ کار نہیں ہے ۔ جعلی ایجنٹ کے کردار سے بچنے کے لئے بینکوں کو تجارتی لین دین کی اجازت مل جائے تو مرابحہ بھی شرعی طور پر استعمال ہوسکتی ہے۔
حرفِ آخر:
آخر میں عرض ہے کہ چوں کہ اسلامی بینکاری نظام میں ایک شک کا عنصر موجود ہے لہٰذا ہمیں حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ عزیمت کا راستہ اختیار کریں اور خود کو بینکوں میں کام کرنے سے اور بنکوں میں بچتی کھاتے کھولنے سے پرہیز کریں تو بہتر ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور ان کی ٹیم کی نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا مگر وہ اس وقت روایتی بینکوں اور لادین قوتوں کے بچھائے ہوئے جال میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔ عملی طور پر جن لوگوں نے ان بینکوں میں کام سنبھالا ہوا ہے وہ کسی بھی طرح اس کو اسلامی شرعی بینک کے طور پر کام نہیں کرنے دینا چاہتے۔
اس کا حل صرف یہی ہے کہ کوئی گروپ یا ادارہ جذبہ کے ساتھ کام کا آغاز نہایت چھوٹے پیمانے پر یعنی مائیکرو فنانس کی سطح پر کرے اور صرف مضاربت یا مشارکت کے اصولوں کو بنیاد بناکر کام کا آغاز کرے تاکہ توجہ معاشرے کے ضرورت مند اور ہنر مند افراد پر ہوسکے بجائے اس کے کہ پہلے سے موجود عفریتی اداروں کو مزید سرمایہ فراہم کیا جائے۔

0 comments:

Post a Comment