05 November, 2008

جہاد اور قتال

دیکھنا ایک عمل ہے اور دیکھ کر سمجھنا دوسری بات ہے جبکہ سمجھ کر اصل حقیقت پا لینا یہ اور ہی بات ہے۔چیزیں جیسے نظر آتی ہیں ایسی ہوتی نہیں ہیں ۔اہل نظر کے لیے ذوق نظر خوب ہے لیکن جو نظر حقیقت کو نہ پہنچ پائی وہ نظر کیا ہے؟

ہمارے ہاں جہاد کے نام پر جو عسکریت پھیل رہی ہے یا پھیلائی جارہی ہے اس کا نقصان کتنا ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں اور اس سلسلے میں درست اسلامی نقطہ نظر کیا ہے ؟ اس جہاد کے جائز ناجائز ہونے پر اور اس کے افادے نقصان پر بہت کچھ کہا اور لکھا جاچکا ہے۔

اسی سلسلے میں ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ پاکستانی نوجوانوں کے جذبہ جہاد کو استعمال کرتے ہوئے عالمی طاقتوں نے اسلامی ذھن رکھنے والے نوجوانوں کو معاشرے میںسے نکال نکال کر جہادی کیمپوں میں بھیجا کچھ کو اپنی ہی پھیلائی ہوئی اس جہادی بساط کی بھینٹ چڑھایا اور باقی ماندہ کو برین واش کرکے انتہا پسند بنادیا۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ معتدل اور خالص اسلام پسند عنصر معاشرے سے غائب ہوگیا اور معاشرہ اس ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے بالکل موزوں ہوگیا جس کی پشت پناہی یہ عالمی طاقتیں کررہی ہیں۔

جو لوگ ان کے راستے کی رکاوٹ بن سکتے تھے انہوں نے یا تو سرحدوں پر جاکر جانیں قربان کردیں یادشمنوں ہی کے پھیلائے ہوئے پھندے میں پھنس کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا راستہ اختیار کرلیا۔

قرآن مجید میں دو الفاظ آئے ہیں ایک جہاد اور دوسرا قتال اور یہ بات بہت غور کرنے کی ہے کہ لفظ جہاد اکثر اوقات قتال کے معنی میں استعمال ہوجاتا ہے لیکن جہاد اور قتال سوفیصد ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔جہاد بالنفس کی اصطلاح حدیث میں آئی ہے ۔ اسی طرح جہاد باللسان ہے البتہ جہاد بالسیف یا جہاد بالید کو قتال کہا جاتا ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاد کے معنی وسیع تر ہیں اور یہ کہ قتال بھی جہاد کا حصہ ہے۔لیکن قرآن مجید میں جہاں جہاں لفظ جہاد آیا ہے اس کا ترجمہ قتال کردینا مناسب نہیں ہے۔

0 comments:

Post a Comment