05 November, 2008

دہشت گردی کے روپ

دہشت گردی کے روپ

دہشت گردی کے بھی کئی روپ ہیں۔ جس دن سے میں نے جنوبی یارکشائر، ڈونکاسٹر کے رہائشی جیمز ہاؤسن اور اس کی سولہ ماہ کی بیٹی ایمی کی کہانی پڑھی ہے میں بری طرح خوفزدہ ہوں۔ جیمز ہاؤسن نے اپنی بیٹی ایمی کو قتل کر دیا تھا اور اسے اس گھناؤنے جرم پر عمر قید کی سزا ہوئی ہے اور وہ کم از کم جیل میں بائیس سال گزارے گا۔ یہ معلوم نہیں کہ اس وقت جیمز کے دماغ میں کیا تھا لیکن اس نے بس اتنا کیا کہ اپنی سولہ ماہ کی معصوم بچی کو اپنے گھٹنے پر زور سے مارا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالی۔ وہ بیچاری اپنے باپ سے کوئی گلہ کیے بغیر دم توڑ گئی۔ جب سے یہ خبر پڑھی ہے دل و دماغ پر ایک دہشت سی طاری ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ریڑھ کی ہڈی بجلی سی چمک رہی ہو۔ کیا کوئی باپ ایسا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دماغ میں برطانیہ سے ہزاروں میل دور فلسطین کے اس باپ کا بھی خیال آ رہا ہے جس نے اپنے بارہ سالہ بیٹے کو اسرائیلی گولیوں سے بچاتے بچاتے سینے پر گولیاں کھائیں لیکن بدقسمتی سے اپنے لختِ جگر کو بچانے میں کامیاب نہ سکا۔

بارہ سالہ محمد کا باپ جمال الدرہ پینتالیس منٹ تک اپنے بچے کو اپنی کمر کے پیچھے چھپائے اسرائیلی فوجیوں سے التجا کرتا رہا کہ وہ فائرنگ بند کر دیں۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ محمد توچار گولیاں کھا کے اس دنیا سے چلا گیا لیکن اس کے باپ کی اپنے بیٹے کو بچانے کی کوششیں ان سب لوگوں کے ذہنوں میں تمام عمر رہیں گی جنہوں نے اس کربناک منظر کو ٹی وی پر دیکھا یا اخباروں میں پڑھا۔

ڈونکاسٹر اور غزہ کے باپ میں کتنا فرق ہے!

تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو

ان کو پتھر نہیں دیتا ہے تو بینائی دے

0 comments:

Post a Comment