31 October, 2008

آاب لوٹ چلیں

عام آدمی جو شاعر ، ادیب یا مقرر نہ ہو اسے پوری زندگی میں بولنے، لکھنے ، پڑہنے اور اپنی باقی لسانی ضروریات کے لیے کسی بھی زبان کے 300 سے 500 الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ایک شاعر، ادیب اور مقرر کے استعمال میں عام طور پر 1500 سے 2000 الفاظ ہوتے ہیں، جنہیں وہ اپنی شاعری تقریر اور ادبی تخلیقات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ سریانی ،عبرانی اور عربی دنیا کی بہت پرانی اور فصیح زبانیں سمجھی جاتی ہیں سریانی اور عبرانی کے نہ تو بولنے والے رہے اور نہ یہ زبانیں ہی باقی رہیں۔ البتہ عربی زبان اب بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کرہ ارض پر موجود ہے اور اس کے بولنے والوں کی تعداد میں بھی روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ گرامر کے حوالے سے اگر زبانوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فارسی زبان کی گرامر فارسی کے صرف 30 فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہے جبکہ 70 فیصد فارسی گرامر کی قید سے آزاد ہے، جبکہ انگریزی زبان کی گرامر صرف 60 فیصد زبان کا احاطہ کرتی ہے جبکہ 40 فیصد زبان گرامر کی گرفت سے باہر ہے۔ جبکہ عربی زبان کی گرامر اس زبان کے لگ بھگ 95 فیصد حصے پر حاوی ہے اور صرف 5 فیصد زبان گرامر کی قید سے آزاد رہتی ہے۔ اسی لیے عربی کی گرامر کچھ مشکل معلوم ہوتی ہے لیکن گرامر سیکھ لینے کے بعد زبان آسان ہوجاتی ہے۔عام طور پر وہ زبانیں بہت وسیع مانی جاتی ہیں جن میں اسماء (Nouns)زیادہ ہوں ، اس حوالے سے اگر ان زبانوں کے درمیان تقابل کیا جائے جو اس وقت روئے زمین پر پر بولی جاتی ہیں تو شاید ہی کوئی زبان عربی کے قریب بھی پھٹک سکے، عربی زبان میں صرف شیر کے نام کے لیے5000 الفاظ استعمال ہوتے ہیں اسی طرح چاند، اونٹ اور تلوار کے لگ بھگ 1500 سے 3000 نام ہیں۔ان پر قیاس کرکے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ زبان کتنی وسیع ہے۔

قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا پورا قرآن لگ بھگ 80000 (اسی ہزار) الفاظ پر مشتمل ہے۔ اگر ان میں سے دہرائے جانے والے الفاظ کو ایک ہی دفعہ گنا جائے تو پورا قرآن صرف 2000 الفاظ پر مشتمل ہے ،قرآن مجید سراپا معجزہ ہے اور اس کتاب کا یہ پہلو بھی ایک معجزے سے کم نہیں ہے کہ وہ قوم جو صرف شیر کے لیے 5000 الفاظ استعمال کرتی ہے اللہ تعالی نے اس قوم کی زبان میں پوری انسانیت کے لیے آخری پیغام نازل فرمایا اور اس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ان کی تعداد صرف اور صرف 2000 ہے۔

اردو دان طبقہ کے لیے اور بھی لطف کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید جن 2000 الفاظ پر مشتمل ہے ان میں سے لگ بھگ 500 الفاظ تو ایسے ہیں جو اردو میں عام استعمال ہوتے ہیں، اور لگ بھگ 1000 (ایک ہزار) الفاظ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے اردو ادب میں استعمال ہوتے ہی ہیں۔اب باقی رہ گئے 500 الفاظ تو یہ الفاظ ایسے ہیں جو خالص عربی الفاظ ہیں۔ اگرآپ ان الفاظ کے معنی یاد کرلیں تو آپ بہت آسانی سے ترجمہ قرآن کے حافظ بن سکتے ہیں ۔

آپکو معلوم ہے کہ اگر آپ ایسا کرلیں تو آپ کی زندگی پر دنیاوی ، علمی اور ادبی اعتبار سے کیا اثر پڑے گا۔ ذرا غور کریں اس وقت اگر آپ ایک عام آدمی ہیں تو آپکی یاداشت میں الفاظ کی تعداد بمشکل 300سے لیکر 500 الفاظ ہوگی ۔ لیکن جب آپ قرآن مجید کے ان 2000 الفاظ کے معانی یاد کرلیں گے تو آپ کی یاداشت میں اردو کے 1500 الفاظ اور عربی کے 2000 الفاظ کا اضافہ ہوجائے گا اور یوں آپکی یاداشت میں عربی اور اردو دونوں زبانوں کے لحاظ سے ایک شاعر، ادیب اور مقرر کے برابر الفاظ جمع ہوجائیں گے۔ اب آپ چاہیں تو شاعری کریں ، چاہیں تو ادیب بن جائیں اور بہترین ادب تخلیق کریں یا ایک شعلہ بیاں مقرر بن جائیں کہ جب آپ تقریر کرنے کھڑے ہوں تو الفاظ اس طرح آپکی زبان پر آئیں گے جیسے آپکے غلام ہیں اورآپکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ۔

قرآن مجید اور اس کی زبان پر عربی کے بعد جتنا کام اردو زبان میں ہوا ہے اتنا دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ہوا۔ پاکستان میں ایسے بہت سے ادارے موجود ہیں جہاں قرآنی عربی سکھانے کے لیے خط و کتابت کورسز کروائے جاتے ہیں جن سے آپ گھر بیٹھے مستفید ہوسکتے ہیں۔اب اگر معاشی جدوجہد اور سماجی مصروفیات سے آپکا کچھ وقت بچے تو قرآن کی عربی سیکھنے کی کوشش کیجئے، جس کے لیے قرآن نے خود دعوی کیا ہے کہ ہم نے اس کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے بہت آسان بنا دیا ہے توہے کوئی جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ یہ کام بہت آسان ہے اور اس سے زندگی میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔جب قرآن انسان کے اندر اتر جائے تو زندگی بدل جاتی ہے۔

آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ میں کسی ایسے ادارے کاپتا بھی آپکو بتا دوں جہاں قرآنی عربی خط وکتابت کے ذریعے سکھانے کا بندوبست ہو۔ تاکہ آپ اللہ کا نام لیکر آج ہی اس کارِ خیر کا آغاز کردیں تو لیں جناب ایسے ہی ایک ادارے کا ایڈریس حاضر خدمت ہے۔

مرکزی انجمن خدام القرآن،ناظم شعبہ خط و کتابت کورسز ، 36-K ماڈل ٹاؤن ، لاہور

فون: 042-5869501-03

موبائل: 0321-4927901

ارشاد نبوی ہے تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے۔

اور اقبال فرماتے ہیں

وہ زمانے میں معزز تھے صاحب قرآں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآ ں ہوکر

ہماری تمام تر ناکامیوں کی وجہ قرآن سے دوری ہے۔، ہمارے آپس میں اختلاف کی وجہ قرآن سے دوری ہے۔براہ مہربانی اپنے اختلافات کو دور کرنے کے لیے اور پستیوں سے رفعتوں کی طرف جانے کے لیے قرآن کی طرف واپس آئیے۔ یہ دعوت ِ رجوع الی القرآن ہے۔آئیں اب قرآن کی طرف لوٹ چلیں۔

0 comments:

Post a Comment