31 October, 2008

سلامی یا نیوترا

ہمارے ایک کزن جن کی ڈیوٹی ایک شادی کے موقعے پر سلامی جمع کرنے کی لگ گئی انہوں نے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث سلامی جمع کروائے بغیر گزر جانے والے ایک صاحب کو زبردستی روک کر ان سے سلامی وصول کی ۔ آج بھی جب یہ بات یاد آتی ہے تو ہم اس کا لطف لیتے ہیں

مہمانوں کو دعوت پر بلا کر کھانا کھلانے اور اس کے بعددستِ سوال دراز کرکے پیسے وصول کرنے کی اس رسم کو سلامی کا نام دے کر ہم نے مسلمان کرنے کی کوشش توکی ہے جبکہ اس رسم کا اصل نام نینداریا نیوترا ہے یہ ہندی زبان کے الفاظ ہیں۔ آج بھی دیہات میں اس رسم کو اکثر لوگ نیندرے ہی کے نام سے جانتے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ایک ہندووانہ رسم ہے۔

رسموں کے حوالے سے اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ رسم و رواج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا حالانکہ سب جانتے ہیں کہ رہن سہن کھانے پینے اور لباس و پوشاک کا تعلق تو معاشرے کے جغرافیائی حالات اور کلچر سے ہوتا ہے لیکن رسم و رواج کا تعلق عموما مذہب سے ہی ہوتا ہے۔ رسمیں کلچر سے نہیں بلکہ مذہب سے بنتی ہیں۔ اسی لیے ہندو خواہ کسی بھی علاقے کے ہوں انکا کوئی بھی کلچر ہو انکی رسمیں بہرحال ان کے مذہب کے مطابق ہوتی ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کی شادی بیاہ کی رسمیں بھی ان کے مذہب کے تحت طے شدہ ہیں۔ لیکن برصغیر کے مسلمان معاشرے میں ایسے مکتبہ ہائے فکر پائے جاتے ہیں جو رسموں کو مذہب سے علیحدہ خیال کرتے ہیں ان میں قابل ذکر ہیں سیکولر اور لبرل مسلمان جو عموما اس بات سے انکار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ رسموں کا کوئی تعلق مذہب سے ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو رسموں کو کلچر کا حصہ مانتے ہوئے رسموںکو علاقے اور ثقافت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ایسے افراد کے ہاں وہ تمام رسمیں قابل قبول ہیں جو علاقے میں صدیوں سے رائج ہیں اوررسموںکا سرے سے ہندو یا مسلمان ہونا نہیں مانتے۔ لیکن ایک مسلمان معاشرے میں انسان جتنا بھی سیکولر ہوجائے جتنا لبرل ہوجائے پھر بھی کہیں نہ کہیں اس کا ٹاکرا مذہب سے اور مذہبی لوگوں سے پڑتا ہے۔ جن کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے رہن سہن اور رسم و رواج میں اسلام کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ ایسے افراد کو مطمئن کرنے کے لیے یا انکے اعتراض کو سرے سے ختم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان میں سے پہلا اقدام یہ ہوتا ہے کہ جو رسمیں ہم نے ہندو معاشرے یا مذہب کے زیرِ اثر اپنائی ہوئی ہیں انکے نام بدل کر اسلامی نام رکھ لیے جاتے ہیں۔ تاکہ ان رسموں پر اعتراض کم سے کم ہو اور اسلام سے ان کی اجنبیت ختم ہوجائے مثلا لفظ "نیندرا" کو اسلامی ذہن قبول نہیں کرتا البتہ اسی رسم کو جب" سلامی" کہا جائے گا تو ایک اسلامی ذہن کے لیے یہ لفظ قابل قبول ہوجائے گا۔دوسرا اقدام یہ کیاجاتا ہے کہ کچھ منطقی اور عقلی دلائل سے رسم کا دفاع کیا جاتا ہے۔مثلا نیندرے کے حق میں جو دلائل دیے جاتے ہیںوہ کچھ اس طرح سے ہیں شادی کے موقعے پر اگر لوگ مل جل کر کچھ پیسے دے کر شادی والے گھر کی مدد کردیں تو یہ بات تو عین اسلامی اخوت بھائی چارے اور شرعی اصولوں کے عین مطابق ہے اور دوسرے یہ کہ اسلام تحفے تحائف دینے سے کب منع کرتا ہے بلکہ ایک دوسرے کو تحفے دینے کو تو اسلام تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس سے آپس کی محبت بھی بڑھتی ہے۔لیکن یقینا یہ باتیں کرتے ہوئے ہم مذہب کے کچھ بنیادی حقائق سے صرفِ نظر کرجاتے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ شادی کے موقعہ پر لڑکی والوں کے ہاں کھانے کی کوئی دعوت سنتِ رسول اور عمل صحابہ سے ثابت ہی نہیں ہے اور ہمارے معاشرے میں ماضی قریب تک یہ طرزِ عمل رہا ہے کہ شادی کی ایک ہی دعوت ہوتی تھی اور وہ ولیمے کی دعوت تھی اور ولیمے کے حوالے سے بھی اصول یہ ہے کہ جتنی دولہے میاں کی استطاعت ہو اتنی دعوت کردی جائے چند دوستوں یا رشتہ داروں کو بلاکربھی ولیمے دعوت کھلائی جاسکتی ہے جس سے شادی کا یہ عمل خفیہ نہ رہے بلکہ معلوم ہوجائے کہ شادی ہوئی ہے۔ اب مسئلہ پھر یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ناک کٹ جائے گی اگر شاندار قسم کی دعوت نہ ہوئی ۔ بس یہیں سے ساری قباحتوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔ لوگ کیا کہیں گے اور ناک کٹ جائے گی۔ نمود ونمائش کے اس دور میں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور ناک کٹنے سے بچانے کے لیے ساری مصیبتوں کو ہم نے گلے لگا کر رکھا ہوا ہے۔لیکن یہاں اگر طرز عمل یہ اختیار کرلیا جائے کہ شادی بیاہ کے موقع پر لوگوں کو خوش کرنے کے بجائے اللہ اور رسول کو خوش کرلیا جائے اور اپنی ناک کو بلند کرنے کے بجائے رسول اللہ کے طریقے کو پامال ہونے سے بچا کر بلند کرلیا جائے تو نیندرا دینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ نہ نمود ونمائش کی ضرورت پڑے گی نہ لمبے چوڑے خرچے کرنے پڑیں گے اور نہ نیندرے کے نام پر گھر آئے مہمانوں سے پیسے مانگنے کی ضرورت پڑے گی۔ اللہ کی کتاب کہتی ہے کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ جبکہ نیندرا دے کر ہم ایک ہندووانہ رسم کو زندہ رکھنے اور رسول اللہ کے طریقے کو پامال کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہوتے ہیں۔اور اس کے باوجود بھی ہمارے عشقِ رسول کے دعوے پر ذرا آنچ نہیں آتی ؟

نیندرے کی حمایت کرنا اور اس کو سلامی کا نام دیکر اسلامی رسم بنانے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ رسوم و رواج کی پوجا کرنے والوں نے پہلے غریب پر یہ بوجھ ڈالا کہ وہ ایسے تقریبات منعقد کرے جس پر اس کا دیوالیہ نکل جائے اور پھر نیندرے کی صورت میں مدد لیکر پہنچ گئے کہ اس سے اسلامی بھائی چارے کو فروغ ملے گا۔ یہ بالکل امریکہ والی پالیسی ہے پہلے تو وہ اپنے ظالمانہ اقدامات سے کمزور ملکوں کی معیشت کا ستیاناس کردیتا ہے اور پھر قرض دہندہ کی صورت میں اور سیاسی امداد کی صورت میں اس کا ہمدرد بن کر پہنچ جاتا ہے کہ ہم تمھاری معیشت کو سہارا دیں گے ۔ کوئی پوچھے کہ اس معیشت کو تم نے تباہ کیوں کیا ہے؟ پہلے کسی ملک کے نہتے عوام پر بمباری کرو اور پھر مرہم لیکر پہنچ جاؤ بالکل یہی طرز عمل کہ غریب کو رسموں کے بوجھ تلے دباؤ اور پھر نیندرے جیسی ہندووانہ رسم کو غریبوں کی مدد کی ایک اعلی مثال سمجھ کو اختیار کرو۔

شادی والے گھر کی مددکی بھی خوب کہی پہلے شادی والے گھر کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا اور پھر لٹے پٹے گھر کی اکانومی کو سہارا دینے کا ڈرامہ رچایہ جاتا ہے۔ معاشرے کے وہ لوگ جو غیر ضروری رسموں اور نمود و نمائش کے کلچر کو فروغ دیتے ہیں ان کی اس روش سے رسموں کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ سسک رہے ہوتے ہیں اور شادی جیسی بنیادی رسم کی ادائیگی کے لیے بھی وہ کمر دوہری کردینے والے قرضوں کا بوجھ اٹھالیتے ہیں تو یہ لوگ اپنا نیندار لیکر ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں یہ نیندرا تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوتا ہے لیکن نیندرا دینے والا مرغ پلاؤ اور بریانی کی دعوت اڑا کر اور پھر نیندرا یا سلامی ادا کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتا ہے۔ اپنے آپ کو شادی والے گھرانے کا بہت بڑا محسن تصور کرتے ہوئے یہ فلسفہ بیان کرتا ہے کہ ان کے اس عمل سے غریبوں کی مدد ہوئی ہے اور معاشرے میں اخوت اور بھائی چارے کو فروغ ملا۔اسی مسئلے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ایک عام ملازم شخص جس کا بجٹ کبھی خسارے سے باہر نکلتا ہی نہیں اس کے لیے شادیاں بجٹ میں مزید خسارے کا سبب بنتی ہیں شادی میں جائیں نہ جائیں 500 روپے سلامی ضرور بھجوانی ہوگی ورنہ رشتہ داری، دوستی اور بھائی چارے کا حق اداہی نہیں ہوتا۔یہ سلامی بھی عجیب گورکھ دھندا ہے نہ لینے والا سکون میں اور نہ دینے والا مطمئن پھر بھی کوئی اس رسم سے چھٹکارا مشکل ہے۔

0 comments:

Post a Comment