31 October, 2008

دین

بھائی انہیں کنویں میں پھینک آئے تھے اور باپ کو بتایا کہ انہیں بھیڑیا کھا گیا ہے اور ثبوت کے طور پر اس کی خون آلود قمیض باپ کو دکھائی ، مجرم جب بھی کوئی جرم کرکے اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے توکوئی نہ کوئی غلطی ایسی کرجاتا ہے کہ جس سے اس کے جرم کا بھید کھل جاتا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے کی خون آلود قمیض دیکھی تو وہ بھانپ گئے کہ اس قمیض پر خون خود یوسف کے بھائیوں نے لگا یا ہے اور بھیڑیے کا قصہ انہوں نے گھڑ لیا ہے ، کیونکہ قمیض خون آلود ضرور تھی لیکن بھیڑیے کے دانتوں یا پنجوں سے کٹی پھٹی نہیں تھی، حضرت یعقوب ، یوسف علیہ السلام کو اسی خطرے کے پیش نظر ان سوتیلے بھائیوں کے ساتھ نہیں بھیجتے تھے کہ یہ انہیں نقصان پہنچائیں گے۔ جب بیٹوں نے قسمیں کھائیں کہ یوسف ہمارا بھائی ہے اور ہم اپنی جان سے زیادہ اس کی حفاظت کریں گے تو انہوںنے حضرت یوسف کو ان کے ساتھ جانے دیا۔ بہرحال شفقت پدری نے رُلا رُلا کر حضرت یعقوب کی آنکھوں کا نور ختم کردیا تھا۔حضرت یعقوب روتے رہے اور حضرت یوسف کو یاد کرتے رہے زمانے گزر گئے، کنعان میں قحط پڑ گیا ، یعقوب کے بیٹے خوراک کی تلاش میں مصر روانہ ہوئے ، ادھر حضرت یوسف کو کنویں سے نکال کر مصر کے بازارمیں بیچا گیا، بازار سے وہ محل میں آئے اور محل سے جیل بھیجے گئے اور پھر جیل سے وزیرِ خوراک بن گئے۔

وزارتِ خوراک میںجب ان کا آمنا سامنااپنے بھائیوں سے ہوا تو حضرت نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا لیکن بھائی انہیں نہ پہچان سکے، انہوں نے اپنے بھائیوں کو کہا کہ اگر تم دوبارہ خوراک کے لیے آئے تو اپنے اُس بھائی کو ساتھ لاناجو گھر میں ہے ورنہ تمھیں خوراک نہیں ملے گی،یہ لوگ جب واپس گھر پہنچے توانہوں نے اپنے والد سے ذکر کیا کہ اب کی باربھائی بن یامین کو ساتھ لے جانا پڑے گا ورنہ خوراک نہیں ملے گی، اس طرح وہ حضرت بن یامین کو ساتھ لے کر مصر روانہ ہوئے۔ حضرت یوسف نے چاہا کہ وہ اپنے بھائی بن یامین کو اپنے پاس روک لیں لیکن ان کے لیے بادشاہ کے قانوںکے مطابق اپنے بھائی کو اپنے پاس روکنا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ غلہ ناپنے والا پیمانہ بن یامین کے سامان میں رکھ دیا اور پھر سب کی تلاشی لی تو پیمانہ بن یامین کے تھیلے سے نکل آیا ، مصر میں یہ قانون رائج تھا کہ چور جس کا مال چرائے وہ اسے چوری کے جرم میں اپنے پاس رکھ سکتا تھا۔اس بات کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا " اس طرح تدبیر کی ہم نے یوسف کی خاطر (کیونکہ) نہ تھا اس کو اختیار کہ وہ پکڑتا اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون کے مطابق الا یہ کہ چاہتا اللہ" (یوسف:76) جس بات کی یہ ساری تمھید ہے وہ یہ ہے کہ ہم بہت سی اصطلاحات بغیر سوچے سمجھے استعمال کرتے رہتے ہیں ہمیں ان اصطلاحات کے لغوی اور اصطلاحی معنوں کی بالکل بھی خبر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہمارے ذہن میں اکثر ان کا غلط مطلب بیٹھ جاتا ہے اور یہ صورت حال اس وقت اور خطرناک ہوجاتی ہے۔جب ان اصطلاحات کا تعلق ہمارے دین سے ہوتا ہے۔ اسلام کی کسی بنیادی اصطلاحات کے ناقص فہم کی وجہ سے ہمارے عقائد میں نقص رہ جاتا ہے جسے بہرحال اس اصطلاح کے درست مفہوم کو سمجھ کر دور کیا جاسکتا ہے۔حضرت یوسف کے قصے کو قرآن نے احسن القصص یعنی سب سے بہترین قصہ کہا ہے۔ اس قصے کو ہم واعظین سے سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں لیکن جہاں یہ قصہ بیان ہوا ہے وہاں قرآن مجید کی ایک نہایت اہم اصطلاح "دین" اپنے اہم ترین معنی میں استعمال ہوئی ہے ۔ اپنے عقیدے کی درستگی کے لیے اس کا سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

لفظ "دین " سورہ الفاتحہ میں "بدلے" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔یہ اس لفظ کا لغوی معنی ہے ۔ سورہ یوسف میں یہ لفظ "قانون یا ضابطے" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور سورة الانفال :39 میں یہ لفظ" نظام" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔اسی طرح سورة التوبة:33 ، سورة الفتح:28 اور سورة الصف: 9 میں یہ لفظ پھر" نظام" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہم میں سے اکثر افراد عادتاً جب بھی معاشرے میںکوئی خرابی دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ سب سسٹم کی خرابی ہے، یا یوں کہتے ہیں کہ یہاں کا سسٹم ٹھیک نہیں ہے۔ دین کا مطلب ہے نظام اور لفظ نظام معروف لفظ سسٹم کا مترادف ہے۔

جدید دور میں ہر چیز ترقی کرتے کرتے ایک سائنس کی شکل اختیار کر گئی ہے ۔ جس طرح فزیکل سائنسز ہیں یعنی فزکس ، کیمسٹری اور بائیالوجی اسی طرح معاشرتی مضامین جو انسانی معاشرے کے خدوخال اور انسانی زندگی کی مختلف گوشوں سے متعلق ہیں انہیں سوشل سائنسز کہا جاتا ہے اسی طرح منیجمنٹ سائنسزکے شعبے علیحدہ ہیں۔جدید سوشل سائنسز میں " نظام" اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی گوشوں سے متعلق راہنمائی کرے۔ اسی طرح جدید سوشل سائنسز میں انفرادی انسانی زندگی کو تین گوشوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی نظریات ، رسومات اور عبادات اور اجتماعی زندگی کو بھی تین گوشوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی سیاست، معیشت اور معاشرت یوں ان چھ گوشوں کے مجموعے سے ایک پوری انسانی زندگی وجود میں آتی ہے ۔یہ انسانی زندگی کی وہ تقسیم ہے جو دورِ جدید کے سوشیالوجسٹ کرتے ہیں۔ لفظ" دین" قرآن مجید میں چار مقامات پر اسی نظام کے معنی میں استعمال ہوا ہے جن کا حوالہ گذشتہ سطور میں دیا جاچکا ہے۔

نظام کے حوالے سے تین قسم کے مشہور نظاموں سے ہم واقف ہیں ، ایک ہے دین الملک یعنی بادشاہ کا نظام جسے ملوکیت کہیں گے۔دوسرا ہے دین جمھور یعنی اکثریت کا نظام جسے جمھوریت کہیں گے اور تیسرا ہے دین اللہ یعنی اللہ کا نظام جسے خلافت کہیں گے۔ اللہ نے جس وقت انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوںسے کہا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔اسی خلیفہ سے خلافت بنتا ہے یعنی ایسا نظام جسے انسان اللہ کے نمائندے یعنی خلیفہ کے طور پر چلائے اسے نظام خلافت کہتے ہیں ، جب بھی نظام خلافت کی بات ہوتی ہے تو ہمیں دورِ خلافتِ راشدہ یاد آجاتا ہے اور اسی کے ساتھ ایک خیال یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ ایک نظام جو چودہ سو سال پہلے نافذ ہوا تھا وہ آج کیسے چل سکتا ہے؟ اس سوال کا ایک خاص پس منظر ہے جو ہمارے ذہن میں پیوست ہے جس کی وجہ سے ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ نظام کیسے چلے گا، دراصل نظامِ خلافت سے مراد ہرگز دور صحابہ یا خلافت راشدہ کا نظام نہیں ہے۔ بلکہ آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی ہر وہ نظام ، نظامِ خلافت کہلائے گا جہاں اللہ کے قانون کو سپریم مان کر اس کے تحت زندگی بسر کی جائے گی اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ اگر فرض کرلیں کہ امریکہ کے اندر رائج نظام اس وقت حکومت چلانے کاسب سے ترقی یافتہ نظام ہے اور ہم اس نظام کو نظام خلافت میں بدلنا چاہیں تو ہمیں محض ایک چھوٹی سی تبدیلی کرنی پڑے گی جس سے یہ نظام خلافت کے نظام میں بدل جائے گا اور وہ تبدیلی یہ ہوگی کہ امریکی صرف یہ تسلیم کرلیں کہ ہم کوئی بھی قانون محمد رسول اللہ ۖ کے لائے ہوئے قانون کے خلاف نہیں بنائیں گے تو امریکہ میں اسی وقت نظام خلافت کی ابتداء ہوجائے گی۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے اِنَّ الدِینَ عِندَاللہِ الِاسلَام بیشک اللہ کے نزدیک دین (یعنی نظام) تو صرف اسلام ہی ہے اور یہ آیت مبارکہ حجة الوداع کے موقع پر نازل ہوئی ارشاد ہوا الیوم اکملت لکم دینکم یعنی آج کے دن تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا گیا ہے۔ اور پھریہ بھی فرمایا کہ اُدخُلو فِی السِلمِ کافَةً یعنی اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔ قرآن مجید کے ان تین مقامات سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کو جو نظام پسند ہے وہ اسلام ہے اور اسلام مکمل نظام ہے اور اللہ نے حکم دیا ہے کہ تم اسلام میںپورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجانے کا مطلب کیا ہے؟ بعض لوگ اس سے یہ مراد لیں گے کہ نماز روزے کی مکمل پابندی کرنے سے اس حکم پر عمل ہوجائے گا۔ حالانکہ لفظ دین کے اصطلاحی مفہوم کے ذیل میں یہ بات آچکی ہے کہ ہمارے عقائد،ہماری عبادات، ہماری رسومات، ہماری سیاست، ہماری معیشت اور ہماری معاشرت سب کی سب چیزیںجب تک اسلام کے تابع نہ ہوجائیں اس وقت تک اسلام کو دین ماننا اور دین میں پورے کے پورے داخل ہوجانے کا مفہوم ادا نہیں ہوتا۔ ورنہ صرف نماز روزہ کرکے ہم مشکل سے بیس فی صد اسلام پر بھی عمل نہیں کرتے جبکہ اللہ کا مطالبہ ہے کہ تم سو فیصد اسلام پر عمل کرو۔سوفیصد عمل کے لیے ہمیں رسومات کے ضمن میں اپنی شادی بیاہ ، موت مرگ، غمی خوشی کی تمام رسمیں اسلام کے تابع کرنی ہوں گی، عبادات کے ضمن میں عبادت کی ہر شکل اسلام کے تابع کرنی ہوگی یہاں تک کہ کسی کے حضور سیدھے کھڑے رہنا جسے قیام کہا جاتا ہے یہ بھی ایک عبادت ہے اورنماز کا حصہ ہے اور اللہ کے سوا کسی کے لیے یہ قیام جائز نہیں ہے۔کسی نغمے ،ترانے ، شخصیت، نشان اور جھنڈے کے حضور سیدھا کھڑا ہونا اس کے لیے قیام کرنا اس کی عبادت کے کھاتے میں آتا ہے اور عبادت ربِ ذوالجلال کے سوا کسی کی بھی جائز نہیں ہے۔ عقائد میں توحیداور ختم نبوت کا عقیدہ سب عقیدوں کی جڑ ہے ایسا کوئی بھی عقیدہ جو توحید اور ختم نبوت کی ضد ہو وہ اسلام کے اندر نہیں چل سکتا ۔ یہ تو تھی بات انسانی زندگی کے انفرادی گوشوں کی، اور اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام کا دائرہ کار اس سے آگے نہیں ہے زندگی کے اجتماعی گوشوں سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ سوچ بھی دراصل لفظ دین کو درست انداز میں نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔دین تو حاوی ہے انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی گوشوں پرلیکن اگر اسلام کو اجتماعیات انسانی سے کاٹ کر الگ کردیا جائے تو پھر ہمارے اجتماعی نظام میں ابلیس کا رقص دیکھنے کو ملے گا جیسا کہ آج کے دور میںنظر آتا ہے۔ سیاست کو لے لیں، یا تو فرد واحد اس پر قابض ہوگا اور من چاہے انداز میں حکومت کرے گا یا جمھوریت کا دور ہوگا تو جو اکثریت چاہے گی وہ ہوگا اکثریت مل کر حرام کو حلال کردے تو ہوجائے گا، کثرت رائے سے فیصلہ ہوجائے کہ دو عورتوں کی آپس میں شادی جائز ہے تو جائز ہوجائے گی جیسا کہ کئی مغربی جمھوری ممالک میں ہورہا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں خلافت کا نظام ہے ، فرد ِ واحد ہویا اکثریت دونوں پابند ہیں کے اللہ کے قانون کے دائرے کے اندر کوئی بھی قانون بنائیں تو وہ اللہ خلیفہ اور نائب کہلائیں گے ۔ورنہ انہیں طاغوت کہا جائے گا۔طاغوت کا کفر کرنااور اللہ پر ایمان لاناہی اصل ایمان ہے جس نے طاغوت کا کفر نہ کیا اور اللہ پرایمان لایا اس نے شرک کیا۔

معیشت کے ضمن میںیہ کہ معیشت سود ، جوئے اور اللہ کی نافرمانی سے پاک ہو، صدقات او زکوة کا نظام رائج ہو، اللہ نے جو بھی مال و دولت دے رکھا ہے وہ انسان کی ملکیت نہیں بلکہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے اور وہ اسے صرف اسی مد میں خرچ کرسکتا ہے جہاں خرچ کرنے کی اللہ نے اجازت دی ہوئی ہے۔ پیسہ خرچ کرنے کے ضمن میں کنجوسی، اسراف اور تبذیر سے پرہیز کیا جائے۔

معاشرت کے ضمن میں یہ مان لیا جائے کہ یہ قومیں اور قبیلے اللہ نے تعارف کے لیے بنائے ہیں ورنہ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے کسی کو قوم اور قبیلے کے حوالے سے کوئی فخر حاصل نہیں ہے۔اللہ کے ہاں اگر کسی کی عزت ہے تو وہ تقوی کی بنیاد پر ہے۔

یہ تمام چیزیں ہماری انفرادی اورجتماعی زندگیوں میں آجائیں تو اسلام دین بنے گا ورنہ مذہب رہے گا۔ مذہب اس چیز کو کہتے ہیں جس کا تعلق انسان کی اجتماعی زندگی سے نہ ہو دیکھنا یہ ہے کہ ہم اسلام کو دین مانتے ہیں یا مذہب؟

0 comments:

Post a Comment