31 October, 2008

فرقہ واریت

آخر انہوں نے پوچھ ہی لیا کہ ان میں سے کونسا فرقہ نجات پائے گا۔ بات ہورہی تھی 72اور 73 فرقوں کی اور بتایا یہ جارہا تھا کہ بنی اسرائیل کہ 72 فرقے تھے اور ہمارے 73 ہوں گے۔ شمع ہدایت کے پروانے جمع تھے اور ہادی برحق کی زبانِ مبارک سے بکھرنے والے ہدایت کے پھولوں کو ہر کوئی اپنی وسعتِ داماں میں سمیٹ رہا تھا، آسمان نے نہ آج تک ایسا استاد دیکھاتھا اور نہ ہی یہ ارض و سما ایسے شاگردوں کی مثال دوبارہ پیش کرسکی، بہترین استاد ، بہترین شاگردوں کو حکمت کی باتیں سکھا رہا تھا۔

بات چل رہی تھی فرقہ واریت پر ہادی برحق نے فرمایا کہ فرقے ضرور بنیں گے اور ان کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جتنے فرقے بنے تھے ہمارے ان سے زیادہ ہوں گے۔ عموما عرب 72 کا لفظ کثرت کے لیے بولتے ہیں اور اگر 72 پر 73 کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد ہوگی ان سے بھی زیادہ، یعنی ہمارے فرقوں کی تعداد بنی اسرائیل کے فرقوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی، بنی اسرئیل سے مراد ہے اسرائیل کی اولاد ، اسرائیل دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، عبرانی زبان میں "اِسر" کا مطلب ہوتا ہے بندہ اور " اِئیل" کا مطلب ہوتا ہے اللہ، یوں اسرائیل کا مطلب ہوا اللہ کا بندہ ، جو مطلب عربی زبان میں عبداللہ کا ہے وہی مطلب عبرانی زبان میں اسرائیل کا ہے تو بنی اسرئیل یعنی حضرت یعقوب کی اولاد اس سے مراد یہوی اور عیسائی ہیں، ہادی برحق نے ان کی مثال دے کر فرمایا کہ جس طرح ہم سے پہلی مسلمان امتوں میں تفرقہ پڑا اور فرقے وجود میں آئے اسی طرح میری امت میں بھی تفرقہ پڑے گا اور فرقے وجود میں آئیں گے۔ بلکہ بنی اسرائیل سے زیادہ فرقے بنیں گے۔ یہ بات سن کر یقینا صحابہ پریشان ہوئے ہوں گے اور انہوں نے سوچا ہوگا کہ یہ کیا کہ ہمارے درمیان اتنا اختلاف پیدا ہوجائے گا کہ ڈھیروں فرقے وجود میں آجائیں گے، دل میں سوالات پیدا ہوئے ہوں گے ، شاید انہوں نے سوچا ہو کہ ان فرقوں کے بارے میں تمام معلومات ہادی برحق سے پوچھ کر مرتب کرلی جائیں تاکہ ان فرقوں کی نشاندہی کی جاسکے، معلوم نہیں کہ کیا کیا سوالات ہوں گے کہ جواُس وقت ذھنوں میں کلبلا رہے ہوں گے، لیکن یقینا رسول کی بارگاہ تو مقامِ ادب تھی ، سوالات ذہنوں میں تو بہت آئے ہوں گے لیکن سوال پوچھنے کے لیے خوب سوچ سمجھ کر اپنی بات کو خوب تول کر بات کرنی ہوگی اب باتیں تو پوچھنے والی بہت سی تھیں۔ لیکن صحابہ کی سوچ کا ایک خاص رُخ تھا وہ ایک خاص زاویے اور نقطہ نظر سے ہربات کو دیکھا کرتے تھے اور وہ نقطہ نظر یہ تھا کہ بات وہی پوچھی جائے گی جس کا تعلق اخروی نجات سے ہوگا، اسی لیے دربارِ رسالت میں جو زبان سوال کرنے کے لیے کھلی۔ اس نے پوچھاکہ اے ہادی برحق یہ تو فرما دیجیے کہ" ان تمام فرقوں میں سے نجات یافتہ فرقہ کونسا ہوگا" قربان جائیں صحابہ کے فہم و تدبر اور معاملہ فہمی پر کہ لمبی چوڑی معلومات لینے کی کوشش نہیں کی بلکہ اصل بات پوچھ لی ، اور قربان جائیں ہادی برحق کی زبانِ مبارک پر کہ انہوں نے بھی بس ایک ہی جملہ ارشاد فرما کر ساری مشکلیں آسان فرمادیں، سارے مسائل کا حل تجویز کردیا اور سارے وہموں اورگمانوں کو دور کردیا، جو جملہ آپ نے ارشاد فرمایا وہ ایسا ہے کہ اگر آبِ زر سے بھی لکھا جائے تو کم ہے ارشاد ہوا

"ما انا علیہ و اصحابی"

جس کو عربی کی تھوڑی سی بھی شُدبُدہے اس نے مطلب پالیا ہوگا، "ما انا علیہ و اصحابی" کا مطلب ہے " جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں" بس بات ختم ہوگئی کسی بحث کی گنجائش باقی نہ رہی یعنی صراحت کے ساتھ فرمادیا کہ صرف وہی فرقہ نجات پائے گا جو اس طریقے پر چلا جس پر میں ۖ اور میرے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ چل رہے ہیں۔

اکثر احباب پوچھتے ہیں کہ آپ کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ؟ میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے "ما انا علیہ و اصحابی" یعنی مسلمانوں کے موجودہ فرقوں میں سے جو جو فرقہ بھی اس طریقے پر ہے جو میرے پیارے نبی ۖ اور صحابہ کا طریقہ تھا تووہ فرقہ میر ا فرقہ ہے میں اس بحث میں بھی نہیں پڑتا کہ وہ مقلد ہیں یا غیر مقلد جو بھی ہو ں ، اگر اس راستے پر نہیں ہیں جو پیارے نبی اور صحابہ کا راستہ تھا تو ناقابل قبول ہیں ، البتہ جس طریقے کے بھی ہوں اگر ہیں اسی راستے پر جو اللہ کے نبی اور صحابہ کا راستہ ہے تو سر آنکھوں پر ، کیونکہ رسول اللہ نے یہی ایک راستہ ارشاد فرمایا ہے نجات یافتہ فرقے کو تلاش کرنے کا یعنی جب فرقے بہت ہوجائیں تو تلاش کرو جوکوئی بھی " ما انا علیہ و اصحابی" کے معیار پر پورا اترتا ہے وہ نجات یافتہ ہے۔

ایک صاحب سے جب کچھ قرب بڑھا تو انہوں نے پوچھا کہ بتائیں ، آپ کا فرقہ کونسا ہے ؟ آپ کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں؟ تو میں نے عرض کی یہ فرقوں اور مسلکوں کی بات تو ہادی برحق کی محفل میں بھی چلی تھی وہاں بھی یہ مسئلہ Discuss ہوا تھااور اس کا حل بھی بتایا گیا تھا پھر کیوں نہ وہاں سے راہنمائی حاصل کی جائے، تو فرمانے لگے ہاں ہاں کیوں نہیں یہ تو بہت اچھی بات ہوگی ، تب میں نے سیرت نبوی ۖ کا یہ واقعہ ان کے گوش گزار کردیا، اور پھر وضاحت کے لیے ان سے پوچھا کہ آپ کا فرقہ کونسا ہے تو فرمانے لگے کہ میں مسلک کے لحاظ سے بریلوی ہوں تو میں نے عرض کی کہ حضور میں بھی مسلک کے حوالے سے بریلوی ہوں، لیکن ایک شرط کے ساتھ پوچھنے لگے کہ وہ شرط کیا ہے، تو میں نے عرض کی کہ دیکھیں ہادی برحق نجات کا ایک معیار مقرر فرما گئے ہیں اور نجات یافتہ فرقے کی واضح نشانی بتاگئے ہیں، اس لیے میں اس وقت تک بریلوی رہتا ہوں جب تک میری بریلویت مجھے "ما انا علیہ و اصحابی" کے دائرے سے باہر نہ لے جائے اور جب کبھی بھی میرا بریلوی ہونا مجھ سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ میں "ما انا علیہ و اصحابی" کے دائرے سے باہر قدم رکھوں تو میں اپنی بریلویت کے اس تقاضے کو رد کردیتا ہوں۔ میں اس طرح کا بریلوی ہوں۔ میرے وہ دوست فرمانے لگے کہ کوئی بھی بریلوی جو عشقِ رسول اور عشقِ صحابہ کا دعوی کرتا ہے کبھی بھی اس دائرے سے باہر نہیں جاسکتا میں بھی ایسا ہی بریلوی ہوں ۔ اس بات پر ہم دونوں نے اٹھ کرایک دوسرے کو گلے لگایا اور ہمارے دل ایک دوسرے کے لیے سچی دینی محبت سے لبریز ہوگئے۔ اسی طرح ایک صاحب جوذرا کٹر قسم کے اہلحدیث تھے ان سے مسلک پر بات ہوئی توسینے پر ہاتھ مار کر دھڑلے سے کہنے لگے کہ میں اہلحدیث ہوں ، اور پھر تفتیشی انداز میںمجھ سے پوچھنے لگے کہ تمھارا مسلک کیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہوں تو میں بھی اہلحدیث لیکن ذرا وکھرے ٹائپ کا اس پر انہوں نے اپنی تیوری پر بل ڈال کہ پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تم کس طرح کے اہلحدیث ہو، میں نے عرض کی کہ جب تک میرا اہلحدیث ہونا مجھ سے یہ مطالبہ نہ کرے کہ تم "ما انا علیہ و اصحابی" کے دائرے سے باہر نکل جاؤ اس وقت تک میں اہلحدیث رہتا ہوں لیکن جوں ہی مجھ سے میرا اہلحدیث ہونا اس چیز کا تقاضہ کرتا ہے کہ میں "ما انا علیہ و اصحابی" کے دائرے سے باہر نکل جاؤں تو اس وقت میں اپنی اہلحدیثیت کو ترک کردیتا ہوں۔ وہ آدمی پڑھے لکھے تھے فورا بات کو سمجھ گئے اور کہنے لگے مجھے تمھاری بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ میں بھی ایسا ہی اہلحدیث ہوں، پھر سینے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ وہ کونسا اہلحدیث ہے جو اس دائرے سے باہر جائے گا۔ بلکہ جذباتی انداز میں فرمانے لگے کہ وہ تو اہلحدیث ہی نہیں ہے جو اس دائرے سے باہر جائے، یو ں ہماری یہ فرقہ وارانہ گفتگو باہمی احترام اور محبت پر ختم ہوگئی۔ الحمد للہ

مسلک پرستی ، فرقہ بندی، فرقہ پرستی، پرورش پاتی ہے ایسے ماحول میں جہاں نہ دلیل سنی جائے اور نہ دلیل دے کر بات کی جائے، ورنہ اگر دلیل سے بات کی جائے اور "ما انا علیہ و اصحابی" کو اپنا معیار بنا لیا جائے تو فرقہ پرستی اور باہمی نفرت کی فضا ختم ہوجاتی ہے۔

اس سلسلے میں البتہ چند وضاحتیں ضروری ہیں۔ایک وضاحت یہ کہ کچھ لوگوں کی دکان چلتی ہی فرقہ پرستی اور فرقہ واریت کے ماحول میںہے وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ یہ ماحول ختم ہوجائے، کیونکہ اس سے ان کے مفادات پر زد پڑے گی۔ ایسے لوگوں کو پہچاننا اور ان سے بچنا ضروری ہے، دوسری وضاحت یہ کہ کچھ لوگوں کے اندر دشمنی کی نفسیات ہوتی ہے، وہ خوامخواہ دوسروں کو اپنا دشمن سمجھتے رہتے ہیں ، اپنی اس نفسیاتی بیماری کی تسکین انہیں فرقہ پرستی کے ماحول میں ملتی ہے۔ یہ لوگ اس ماحول کو چار چاند لگاتے رہتے ہیں۔اس طرح کے لوگ بھی فرقہ پرستی کے ماحول کو ختم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے، تیسری وضاحت یہ کہ جن لوگوں کے پاس دین کا علم نہیں ہوتا ان کے دل بہت سخت ہوتے ہیں، دل کی نرمی سے محروم یہ لوگ بھی اپنے نظریات کو نہیں بدلیں گے، نہ دلیل سنیں گے اور نہ دلیل مانیں گے،

قرآن مجید کہتا ہے کہ جب تم عیسائیوں اور یہودیوں سے بات کرو تو مشترکہ باتوں کی طرف انہیں بلاؤ یعنی اختلاف کو مت اچھالو یا ان کے ساتھ اختلافی بحثیں نہ کرو بلکہ ان کے اور تمھارے درمیان جو باتیں مشترک ہیں ان پر انہیں اپنی طرف بلاؤ ، یہی ہدایت ہمارے لیے کافی جب ہم کسی دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھائی سے بات کریں تو مشترکہ باتوں کی طرف آئیں اور اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش نہ کریں۔

ہمارے ہاں جائز باتوں پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔کوئی چیز کسی ایک کے نزدیک افضل ہے اور دوسری چیز دوسرے کے نزدیک افضل ہے۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے ۔ جیسے پلاؤ کھانا بھی جائز ہے اور دال روٹی کھانا بھی جائز ہے اب ان جائز چیزوں میںسے کسی کو ایک پسند اوردوسرے کو دوسری پسند ہے۔ لیکن اگر پلاؤ پسند کرنے والا یہ کہے کہ ضروری ہے کہ سب پلاؤ ہی کھائیں دال روٹی نہ کھائیں ، تو یہ بات مناسب نہیں ہے آپکو پلاؤ پسند ہے تو آپ پلاؤ کھائیں لیکن جس کو دال روٹی پسند ہے اس پر اعتراض نہ کریں کہ وہ دال روٹی کیوں کھارہا ہے ، دونوں چیزیں اللہ نے کھانے کے لیے جائزکی ہیں اب جس کو جو پسندہو وہ وہی کھائے ۔اسی طرح دینی معاملات میں بھی جائز چیزوں میں سے کوئی بھی چیز اختیارکی جاسکتی ہے تو آپ دوسرے کی پسند کا خیال رکھیں۔ جہاں دین میں گنجائش موجود ہے وہاں گنجائش نہ دینے سے فرقہ پرستی جنم لیتی ہے اور نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں۔

یقینا وہ تمام بحثیں فضول ہیں جن کا تعلق ہماری نجات سے نہیں ہے۔جب بھی کسی دینی موضوع پر بات کریں تو پہلے یہ اچھی طرح سوچ لیں کہ کیا اس بات کا تعلق میری نجات سے ہے کہ نہیں ہے، اگر تو وہ معاملہ آپکی نجات سے متعلق ہے پھر تو لازما اس کا علم حاصل کریں، اس میں دوسروں کی اصلاح کریں، اس معاملے کو آپس میں سمجھنے سمجھانے کے لیے ایک دوسرے سے بحث کریں، لیکن اگرآپ ایک ایسے معاملے پر بحث فرما رہے ہیں جس کا تعلق آپ کی نجات سے نہیں ہے تو آپ وقت ضائع کررہیں ہیں اوریوں آخرکار آپ وقت کو ضائع نہیں کررہے ہوتے بلکہ وقت آپ کو ضائع کررہاہوتاہے، اس لیے وقت کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچیں، اور دین کو صرف موضوعِ بحث نہ بنائیں بلکہ اسے اپنے لیے عمل کا عنوان بنائیں اس لیے کہ جس علم پر عمل نہ ہو وہ علم آخرکارسلب کرلیا جاتا ہے۔

0 comments:

Post a Comment