31 October, 2008

سیکولر انڈیا

آئیں آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمھوریت ، سیکولر ڈیموکریٹک انڈیا کی سیر کرواتے ہیں۔

کچھ باتیں تاریخ کے جھروکے سے کیونکہ تاریخ کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ نے تاریخ بھلائی تو تاریخ نے آپ کو بھلادیا۔قوموں کی زندگی میں تاریخ کی حقیقت مسلمہ ہے۔ تاریخ یاد رکھنے کی شے ہے وقتا فوقتا اس میں جھانکتے رہنا ضروری ہے۔

آپ کو 1937 یاد ہے؟ جب ہندوستان کے گیارہ میں سے نو صوبوں میں کانگرس کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔اقتدار سنبھالتے ہی کانگرس نے ہندی زبان کو قومی اور دیوناگری زبان کو دفتری زبان قرار دے دیا تھا۔ گائے کو ذبح کرنا ممنوع قرار دے دیاتھا۔ سکولوں میں گاندھی جی کی تصویر کو پوجنا مسلمان بچوں کے لیے بھی ضروری قراردے دیا گیا ۔مسلم دشمنی پر مبنی "بانکم چندرا چترجی" کے ناول" آنند ماتھ" میں لکھے ہوئے گانے " بندے ماترم "کو قومی ترانہ قرار دے دیا گیا۔نئی مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگادی گئی۔ مسجدوں کے سامنے نماز کے اوقات میں ڈھول پیٹنے کا رواج پڑا۔

کیا آپ کو "وردہ تعلیمی سکیم " یاد ہے؟ کانگرس نے صوبوں میں ایک نئی تعلیمی پالیسی متعارف کروائی جس کانام تھا "وردہ تعلیمی سکیم " اس تعلیمی سکیم کا مرکزی خیال یہ تھا کہ مسلمان بچوں کو اسلامی نظریات سے متنفر کردو۔

کیا آپ کو" ویدیا مندر سکیم" یاد ہے؟ سی پی اور بہار کے صوبوں میں" ویدیا مندر سکیم" رائج کی گئی۔ جس کے تحت ایلیمنٹری لیول پر مندر کی تعلیم ہر ایک کے لیے لازم قراردے دی گئی۔

کیا آپ اس درد اور کرب کو محسوس کرسکتے ہیں جو کانگرس کے ان اقدامات کی وجہ سے سیکولر ہندوستان میں اقلیتوں پر روا رکھا گیا۔

گیاریں صدی کے آغاز میں مشہور مسلمان سائنس دان" البیرونی" نے ہندوستان کا سفر کیا البیرونی اپنے سفرنامے میں اپنے مشاہدات قلم بند کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہندو اور مسلمان بہت سے معاملات اور عادات میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں وہ کہتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کو "ملاچھ" یا ناپاک کہتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے ، کھانے اور پینے سے بھی پرہیز کرتے ہیں مبادا کہ کہیں وہ ناپاک نہ ہوجائیں۔ 22 مارچ 1940 کو قائد اعظم نے جو تقریر منٹو پارک لاہور میں کی تھی اس کا خلاصہ اور لب و لہجہ بھی وہی تھا جو البیرونی نے اپنے مشاہدات سے 1911میں قلم بند کیا تھا۔

آج ہمارے ملک پاکستان میں کچھ لوگ بہت زور و شور سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کیوں بنایا گیاتھا؟ اس ملک کو بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ لوگ یا تو اپنی تاریخ کو بھول گئے ہیں یا زندگی کی گہماگمی اور مصروفیات میں انہیں کبھی تاریخ کا مطالعہ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

میں نے مندجہ بالا سطور میں آپ کو اسی تاریخ کی ایک جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ توتھی تاریخ کی بات جو تاریخی حوالوں سے کی گئی۔ چلیں کچھ بات آج کے ہندوستان کی کرتے ہیں۔ تقسیم کے وقت دو مملکتیں وجود میں آئیں، ایک تھا پاکستان جہاں اسلامی قانون کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ دیا جانا تھا اور دوسری تھی ہندوستان یعنی ہندوؤں کی سرزمین جسے بے جا طور پر سیکولر انڈیا کہا گیا۔ ہمیں نام نہاد سیکولر ڈیموکریٹک ہندوستان میں پائی جانے والی ہندو انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں ضرور جان لینا چاہیے کہ ہندوستان میں ان تنظیموں کا اثر و نفوز اور کردار کیا ہے؟

آپ جانتے ہیں کہ یہ نعرہ کس ہندو تنظیم کا ہے؟ کہ ہندوستان کے مسلمان اور عیسائی کیونکہ ہندو سے مسلمان یا عیسائی بنے ہیں اس لیے انہیں اپنے آبائی مذہب یعنی ہندو ازم کی طرف واپس پلٹ جانا چاہیے اور جس مسلمان یا عیسائی کو یہ منظور نہ ہوتو اسے چاہیے کہ وہ ہندوستان چھوڑ دے۔

کیا آپ جانتے ہیں کونسی ہندو انتہا پسند تنظیم کا یہ نعرہ ہے کہ ہندوستان ہندوؤں کا ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ کون سی ہندو انتہا پسند تنظیم ایک خیراتی ادارے کے طور پرIRS Section 50-3-Cکے تحت امریکہ میں رجسٹرڈ ہے؟

ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریا سیوک سنکھ (آر ایس ایس) آج کی تمام ہندو انتہا پسند تنظیموں کی ماں ہے۔یہ 1925 میں قائم ہوئی تھی۔بدنام زمانہ آر ایس ایس 1948 میں اس وقت مشہور ہوئی جب اس تنظیم کے ایک رکن "نتھورام گوداس"نے گاندھی " باپو جی" کو پاکستان اور مسلمانوں کو ہندوستان میں برداشت کرنے کے جرم میں قتل کردیا۔

آر ایس ایس کے مطابق انڈین مسلمان اور عیسائی کیونکہ بنیادی طور پر ہندو سے مسلمان یا عیسائی بنے ہیں اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ واپس ہندو بن جائیں اور اگر انہیں ہندو بننا منظور نہیںہے تو انہیں ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

بی جے پی:بی جے پی کا قیام 1951میں عمل میں آیا اور 1980 تک اسے بھارتیا جناسنکھ (بی جے ایس) کہا جاتا تھا اور بنیادی طور پر اس کا قیام آر ایس ایس کے سیاسی ونگ کے طور پر عمل میں آیا تھا۔

بی جے پی نے ہندو انتہا پسندوں کوایسے ہتھکنڈوں اور نعروں سے مشتعل کیا جن سے ہندوستانی اقلیتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ مثلاً انہوں مسلم اکثریتی علاقے جموں وکشمیر کو دیا جانے والا خصوصی سٹیٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی نے ان شودروں کو جو مسلمان ہوچکے تھے واپس ہندو بنانے کی تحریک چلائی اور یہ بی جے پی ہی تھی جس نے 1984میںایودھیا کی بابری مسجد کو مسمار کرکے اس کی جگہ رام مندر بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔ اس طرح بی جے پی کے سیاست دانوںپھینکی وہی چنگاری سے آگ لگی اور دولاکھ ہندو انتہاپسند ہتھوڑے ، بہالے اور کدالیں لے کر بابری مسجد کو گرانے کے لیے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ۔ مسجد کی طرف مارچ کرتے ہوئے یہ انتہا پسند ہندو نعرے لگا رہے تھے کہ ہندوستان ہندو کا ہے اور مسلمانوں کی موت ہے۔ یوںبی جے پی نے بابری مسجد کو منہدم کروادیا۔

وی ایچ پی :یہ ایک اور ہندو انتہا پسند تنظیم ہے جو 1964میں قائم کی گئی۔1984تک یہ تنظیم بھی بابری مسجد کی جگہ رام جنم بھومی مندر بنانے کی تحریک میں پیش پیش رہی اور اس نے ہندو دیہاتیوں کو یہ راہ دکھائی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مذہبی اجتماعات منعقد کرکے اپنی مٹی سے رام جنم بھومی کی تعمیر کے لیے اینٹیں بنائیں اور ان اینٹوں کو ایودھیا بھیجیں۔

ایک دھائی سے زیادہ عرصہ گزرگیا ہے کہ وی ایچ پی کی شاخیں امریکہ میں بھی قائم اور اس کا ہیڈکواٹر ریاست کینٹکی میں ہے۔وی ایچ پی امریکہ میں ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کا لاکھوں ڈالر کا سالانہ چندہ ٹیکس سے مستثنٰی ہے۔ہر سال وی ایچ پی کے اعلی عہدیداران امریکہ کے دورے کرکے چندہ جمع کرتے ہیں۔ یہ چندہ براہ راست مسلمانوں کے خلاف پُرتشدد تحریکیں چلانے میں استعمال ہوتا ہے۔جن کے ذریعے مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو جلایا اور مسمار کیا جاتا ہے۔

شیو سینا: شیو سینا کا مطلب ہے شیوا جی کی فوج۔ یہ ایک قوم پرست سیاسی پارٹی ہے جس کی بنیاد 19 جون 1966کو بال ٹھاکرے نے رکھی۔ بال ٹھاکرے ہی اس وقت اس پارٹی کا صدر ہے۔شیوسینا پر بجا طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوادینے کے الزامات ہیں۔سینا پر ممبئی فسادات اور پھر 1992میں ایودھیامیں بابری مسجد کو گرانے کے واقعات میں بھرپور حصہ لینے کے الزامات ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پیدا ہونے والی کسی بھی مصالحت کو سبوتاژ کرنا سینا کا خصوصی ہدف ہے۔پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچوں کی پچوں کو تباہ کرنے کا کام بھی یہ تنظیم کئی مرتبہ انجام دے چکی ہے۔ مثلاً شیو سینا نے 1991 میں ممبئی سٹیڈیم کی پچ کو اکھاڑ دیا اور اسی طرح 1999 میں انہوں نے دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کی پچ کو کھود ڈالا۔

ایک ہندو مصنف شکنتہ مہتا نے اپنی کتاب Maximum City جواس نے2004 میں ممبئی شہر پر لکھی تھی ۔ میں شیو سینا کے بار ے میں لکھا ہے۔مصنف نے بال ٹھاکرے کو انٹرویوکیا اور شیو سینا کے اور بہت سے گلی محلے کے عہدیداروں سے انٹرویوز کیے جس میں انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اکثر پرتشدد بلوؤں کے پیچھے انہیں کا ہاتھ رہا ہے۔

ان بڑی بڑی تنظیموں کے علاوہ بھارت میں اور بہت سے چھوٹی چھوٹی ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھی ہیں۔ لیکن ہم یہاںصرف بڑے بڑے گروہوں کا ذکر ہی کرسکے ہیں۔

اللہ کا شکر اس بات پر بھی ادا کرنا ہے کہ موہن داس گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی 9/11 سے پہلے ہی قتل ہوگئے ورنہ ہندوستان نے ان کے قتل کا الزام بھی پاکستان میں موجود کسی نام نہاد مذہبی تنظیم کے سر تھوپ دینا تھا اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی حکام کے پاس اس کے ناقابل تردید ثبوت بھی مہیا ہوجاتے۔ بھلے موہن داس گاندھی کو دہلی میں ایک ہندو بنیاد پرست نے قتل کیاہو اور گولڈن ٹمپل کو مسمار کرنے کے الزام میں اندار گاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کیاہواور LTTE سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے راجیو گاندھی کو قتل کیاہو الزام بہرحال مسلمان مسلح جہادی گروپوں میںسے کسی پر دھرا جانا تھا۔

دراصل ہندو انتہا پسندی ہی نام نہاد سیکولر ڈیموکریٹک انڈیا کا اصل چہرہ ہیں۔سیکولر ڈیموکریٹک ہندوستان میں بابری مسجد کو شہید کیے جانے کے واقعے کو کون بہلا سکتا ہے ۔ اسی طرح سیکڑوں اور مسجدیں ہیںجو ہندوستان کے وجود میں آنے کے بعد تباہ و برباد کردی گئیں۔

سکھوں کے دلوں میں بھی اب تک انڈین آرمی کی طرف سے گولڈن ٹمپل کو مسمار کیے جانے کی یادیں تازہ ہوں گی اور کتنے ہی گردوارے ہیں جو ہندوستان کے وجود میںآنے کے بعد تباہ کردیے گئے۔

اس سیکولر ڈیموکریٹک ہندوستان کے وجود میں آنے کے بعد اڑیسہ اور ناگ پور میں جلائے جانے والے چرچ عیسائیوں کو اب تک یاد ہوں گے۔

حال ہی میں 25 اگست 2008 کو اڑیسہ میں ایک عیسائی نن کو زندہ جلادیا گیا اور ایک ہندو انتہا پسند نے ایک اور نن کی آبرو ریزی کی اور پھر ان واقعات کے نتیجے میں عیسائیوںکا قتل عام کیا گیا۔

اور یہی سیکولر ڈیموکریٹک انڈیا کی اصل تصویر ہے کہ ہزاروں مسلم، عیسائی، سکھ اور بدھ مذاہب کے لوگوں کو ناپاک اقلیتیں سمجھ کر قتل کردینا۔ان کو گھروں سے گھسیٹ کر زندہ جلا دینا انکی عورتوں کی عزتیں لوٹنا۔ہزاروں عورتیں اور بچے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔ گجرات کا قتل عام، ممبئی کے پرتشدد واقعات، پنجاب ، کشمیر ، اڑیسہ اور احمد آباد کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں۔

اللہ کا شکر ہے، احسان ہے اس اللہ کا جس نے ہمیں آزاد اور خودمختار پاکستان دیا۔ ایک ایسا وطن جو ایسی بیماریوں سے پاک ہے۔

آخر میں میں اس بات پر زور دوں گا کہ براہ مہربانی آزادی کی قیمت پہچانیے اور اس کی قدر کو جانیے۔ اس بات کو محسوس کریں کہ ایک آزاد پاکستان ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کتنا اہم ہے۔ پاکستان کی تعمیر کیجیے، پاکستان سے محبت کیجیے، پاکستان پائندہ باد۔

0 comments:

Post a Comment