31 October, 2008

سودی نظام کی خرابیاں اوراس کا متبادل

آج کی اس نشت کیلئے جو موضوع تجویز کیا گیا ہے وہ ربا سے متعلق ہے۔ جس کو اردو میں سود کہا جاتا ہے۔ اور غالباًاس موضوع کو اختیار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یوں تو ساری دنیا میں اس وقت سود کا نظام چلا ہوا ہے لیکن بالخصوص مغربی دنیا میں بیشتر معاشی سرگرمیاں سود کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو قدم قدم پر یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ کس طرح معاملات کریں اور سود سے کس طرح چھٹکارا حاصل کریں۔

اور آج کل مختلف قسم کی غلط بہمیاں بھی لوگوں کے درمیان پھیلائی جاریہ ہیں کہ آج کل معاشی زندگی میں جو سود چل رہاہے وہ درحقیقت حرام نہیں ہے اس لئے کہ یہ اس ربا کی تعریف میں داخل نہیں ہوتا جس کو قرآن کریم نے حرام قراردیا تھا۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے اس وقت یہ موضوع دیا گیا ہے کہ میں اس موضوع پر جو بنادی معلومات ہیں وہ قرآن و سنت اور موجودا حالات کی روشنی میں آپ کے سامنے پیش کروں۔

سودی معاملہ کرنے والوں کیے لئے اعلان جنگ

سب سے پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ سود کو قرآن کریم نے اتنا بڑا گناہ قراردیا ہے کہ شاید کسی اور گناہ کو اتنا بڑا گناہ قرار نہیں دیا مثلا شراب نوشی، خنزیر کھانا، زناکاری، بدکاری وغیرہ کے لیے قرآن کریم میں وہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے جو سود کے لیے استعمال کیے گئے ہیں چناچہ فرمایا کہ : اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور سود کا جو حصہ بھی رہ گیا ہو اس کو چھوڑ دو۔ اگر تمھارے اندر ایمان ہے اگر تم سود کو نہیں چھوڑو گے ، یعنی سود کے معاملات کرتے رہوگے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو یعنی ان کے لیے اللہ کی طرف سے لڑائی کا اعلان ہے یہ اعلان جنگ اللہ تعالی کی طرف سے کسی بھی گناہ پر نہیں کیا گیا۔

چناچہ جو لوگ شراب پیتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے خلاف اعلان جنگ ہے یا جو خنزیر کھاتے ہیں ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ لیکن سود کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ سود کے معاملات کو نہیں چھوڑتے ان کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے اتنی سخت اور سنگین وعید اس پر وارد ہوئی ہے اب سوال یہ ہے کہ اس پر سنگین اور سخت وعید کیوں ہے؟ اس کی تفصیل انشاء اللہ آگے معلوم ہوجائے گی۔

سود کس کو کہتے ہیں؟

لیکن اس سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سود کس کو کہتے ہیں؟ سود کیا چیز ہے اس کی تعریف کیا ہے؟ جس وقت قرآن مجید نے سود کو حرام قرار دیا اس وقت اہل عرب میں سود کا لین دین متعارف اور مشہورتھا۔ اس وقت سود اسے کہا جاتا تھا کہ کسی شخص کو دیئے ہوئے قرض پر طے کرکے کسی بھی قسم کی زیادہ رقم کا مطالبہ کیا جائے اسے سود کہا جاتا تھا۔ مثلا میں نے آج ایک شخص کو سور روپے بطور قرض دیئے ۔ اور میں اس سے کہوں کہ میں ایک مہینے کے بعد یہ رقم واپس لوں گا اور تم مجھے ایک سو دوروپے واپس کرنا اور یہ پہلے سے میںنے طے کردیا کہ ایک ماہ بعد ایک سودوروپے واپس لوں گا۔ تو یہ سود ہے۔

معاہدہ کے بغیر زیادہ دینا سود نہیں!

پہلے سے طے کرنے کی شرط اس لئے لگائی کہ اگر پہلے سے کچھ طے نہیں کیا ہے مثلا میں نے کسی کو سوروپے قرض دے دیے اور میں نے اس سے مطالبہ نہیں کیا کہ تم مجھے ایک سودوروپے واپس کرو گے لیکن واپسی کے وقت اس نے اپنی خوشی سے مجھے ایک سودوروپے دے دیئے۔ اور ہمارے درمیان یہ ایک سودوروپے واپس کرنے کی بات طے شدہ نہیں تھی تو یہ سود نہیں ہے اور حرام نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔

قرض کی واپسی کی عمدہ شکل!

خود حضور اقدس ۖ سے ثابت ہے کہ جب آپ کسی کے مقروض ہوتے تو وہ قرض خواہ قرض کا مطالبہ کرتا تو آپ وہ قرض کچھ زیادگی کے ساتھ بڑھتا ہوا واپس فرماتے ، تاکہ اس کی دل جوئی ہوجائے لیکن یہ زیادتی چونکہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتی تھی اس لیے وہ سود نہیں ہوتی تھی اور حدیث کی اصطلاح میں اس کو حسن القضاء کہا جاتا ہے یعنی اچھے طریقے سے قرض کی ادائیگی کرنا اور ادائیگی کے وقت اچھا معاملہ کرنا اور کچھ زیادہ دے دینا یہ سود نہیں ہے بلکہ نبی کریم ۖ نے یہاں تک فرمایا کہ یعنی تم میں بہترین لوگ وہ ہیںجو قرض کی ادائیگی میں اچھا معاملہ کرنے والے ہوں۔

لیکن اگر کوئی شخص قرض دیتے وقت یہ طے کرلے میں جب واپس لوں گا تو زیادتی کے ساتھ لوں گا اس کو سود کہتے ہیں۔ اور قرآن کریم نے اسی کو سخت اور سنگین الفاظ کے ساتھ حرام قراردیا ۔ اور سورہ بقرہ کے تقریبا پورے دو رکوع اس سود کی حرمت پر نازل ہوئے ہیں۔

قرآن کریم نے کس سود کو حرام قراردیا ہے؟

بعض اوقات ہمارے معاشرے میںیہ کہا جاتا ہے کہ جس سود کو قرآن کریم نے حرام قراردیا تھا۔ وہ درحقیقت یہ تھا کہ اس زمانے میں قرض لینے والا غریب ہوتا تھا۔ اور اس کے پاس روٹی اور کھانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے اگر وہ بیمار ہے تو اس کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے اگر گھر میں کوئی میت ہوگئی ہے تو اس کے پاس اس کو کفنانے اور دفنانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے ایسے موقع پر وہ غریب بیچارہ کسی سے پیسے مانگتا تو وہ قرض دینے والا اس سے کہتا کہ میں اس وقت تک قرض نہیںدوں گا جب تک تم مجھے اتنا فیصد زیادہ واپس نہیں دوگے تو چونکہ یہ ایک انسانیت کے خلاف بات تھی کہ ایک شخص کو ایک ذاتی ضرورت ہے اور وہ بھوکا ننگا ہے ایسی حالت میں اس کو سود کے بغیر پیسے فراہم نہ کرنا ظلم اور زیادتی تھی اسے لیے اللہ تعالی نے اس کو حرام قراردیا اور سود لینے والے کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

لیکن ہمارے دور میں اور خاص طور پر بینکوں میںجو سود کے ساتھ روپے کا لین دین ہوتا ہے اس میں قرض لینے والا کوئی غریب اور فقیر نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات وہ بڑا دولت مند اور سرمایہ دار ہوتا ہے۔اور وہ قرض اس لیے نہیں لیتا کہ اس کے پاس کھانے کو نہیں ہے یا اس کے پاس پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہیں۔ یا وہ کسی بیماری کے علاج کے لیے قرض نہیں لے رہا ہے بلکہ وہ اس لیے قرض لے رہا ہے تاکہ ان پیسوں کی اپنی تجارت اور کاروبار میں لگائے اور اس سے نفع کمائے۔ اب اگر قرض دینے والا شخص یہ کہے کہ تم میرے پیسے اپنے کاروبار میں لگاؤ گے ۔ اور نفع کماؤ گے تو اس نفع کا دس فیصد بطور نفع کے مجھے دو تو اس میں کیا قباحت اور برائی ہے ؟ اور یہ وہ سود نہیں ہے جس کو قرآن مجید نے حرام قراردیا ہے یہ اعتراض دنیا کے مختلف خطوں میں اٹھایا جاتا ہے۔

تجارتی قرض ابتدائی زمانے میں بھی تھے

ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ یہ کاروباری سود اور یہ تجارتی قرض حضور اقداس ۖ کے زمانے میںنہیں تھے بلکہ اس زمانے میں ذاتی اخراجات اور ذاتی استعمال کے لیے قرضے لیے جاتے تھے لہذا قرآن کریم اس کو کیسے حرام قرار دے سکتا ہے جس کا اس زمانے میں وجود ہی نہیں تھا۔ اس لیے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے جس سود کو حرام قراردیا وہ غریبوں اور فقیروں والا سود دتھا او ر یہ کاروباری سود حرام نہیں ہے۔

صورت بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی!

پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی چیز کے حرام ہونے کے لیے یہ بات ضروری نہیں کہ وہ اس خاص صورت میںحضور اقدس ۖ کے زمانے میں بھی پائی جائے اور حضور ۖ کے زمانے میں اس انداز سے اس کا وجود بھی ہو۔ قرآن کریم جب کسی چیز کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کی ایک حقیقت اس کے سامنے ہوتی ہے اور اس حقیقت کو وہ حرام قرار دیتا ہے چاہے اس کی کوئی خاص صورت حضور اقدس ۖ کے زمانے میں موجود ہو یا نہ ہو اس کی مثال یوں سمجھیں کہ قرآن کریم نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اور شراب کی حقیقت یہ ہے کہ ایسا مشروب جس میں نشہ ہو اب آج اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ صاحب آجکل کی یہ وہسکی بیئر اور برانڈی حضور اقدس ۖ کے زمانے میں تو نہیں پائی جاتی تھی۔

لہذا یہ حرام نہیں ہے تو یہ بات صحیح نہیں ہے اس لیے کہ حضور ۖ کے زمانے میں اگرچہ یہ اس خاص شکل میںموجود نہیں تھی لیکن اس کی حقیقیت یعنی ایس مشروب جو نشہ آور ہو موجود تھی او آنحضرت ۖ نے اس کو حرام قراردے دیا تھا۔ لہذا اب وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوگی، اب چاہے شراب کی نئی شکل آجائیاور اسکا نام چاہے وہسکی رکھ دیا جائے یا برانڈی رکھ لو یا بئیر رکھ لو یا کوک رکھ لو نشہ آور مشروب ہر شک اور ہر نام کے ساتھ حرام ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ کمرشل لون چونکہ اس زمانے میں نہیں تھے بلکہ آج پیدا ہوئے ہیں ۔ اسے لیے حرام نہیں ہیں۔ یہ خیا ل درست نہیں ۔

ایک لطیفہ!

ایک لطیفہ یاد آیا ہندوستان کے اند ایک گوّیا (گانے والا) تھا۔ وہ ایک مرتبہ حج کرنے چلا گیا۔ حج کے بعد وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ جارہاتھا کہ راستے میں ایک منزل پر اس نے قیام کیا اس زمانے میں مختلف منزلیں ہوتی تھیں۔ لوگ ان منزلوں پر رات گزارتے او اگلے دن صبح آگے سفرکرتے ۔ اس لیے گوّیے نے راستے میں ایک منزل پر راب گزارنے کے لیے قیام کیا اور اس منزل پر ایک عرب گوّیابھی آگیا، اور اس نے وہاں بیٹھ کر عربی میںگانا بجانا شروع کردیا عرب گوّیے کی آواز ذرا بھدی اور خراب تھی ۔ بدصورت بھی تھا اب ہندوستانی گوّیے کو اس کی آواز بہت بری لگی۔ اس نے اٹھ کر کہا کہ آج یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ حضور اقدس ۖ نے گانا بجانا کیوں حرام قراردیا تھا اس لیے کہ آپ نے ان بدوؤں کا گانا سنا تھا اس لیے حرام قراردے دیا اگر آپ میرا گانا سن لیتے تو آپ گانا بجانا حرام قرار نہ دیتے۔

آج کل کا مزاج!

آجکل یہ مزاج بن گیا ہے کہ ہر چیز کے بارے میںلوگ یہ کہتے ہیں کہ صاحب حضور اقدس ۖ کے زمانے میں یہ عمل اس طرح ہوتا تھا۔ اس لیے آپ نے اس کو حرام قرار دے دیا ۔ آج چونکہ یہ عمل اس طرح نہیں ہورہا ہے لہذا وہ حرام نہیں ہے کہنے والے یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ خنزیروں کو اس لیے حرام قراردیاگیا تھا کہ وہ گندے ماحول میں پڑے رہتے تھے غلاظت کھاتے تھے گندے ماحول میں ان کی پرورش ہوتی تھی اب تو بہت صاف ستھرے ماحول میں ان کی پرورش ہوتی ہے اور ان کے لیے اعلی درجے کے فارم قائم کردیے گئے ہیں لہذا اب ان کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

شریعت کا ایک اصول!

یادرکھیں قرآن مجید جب کسی چیز کو حرام قراردیتا ہے تو اس کی ایک حقیقت ہوتی ہے اس کی صورتیں چاہے کتنی بدل جائیں او ر اس کے بنانے اور تیار کرنے کے طریقے چاہے کتنے بدلتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ اور وہ حقیقت حرام ہوتی ہے یہ شریعت کا اصول ہے۔

زمانہ نبوت کے بارے میںایک غلط فہمی!

پھر یہ کہنا بھی درست نہی ہے کہ آنحضرت ۖ کے عہد مبارک میں تجارتی قرضوں کا رواج نہیں تھا۔ اور سارے قرضے صرف ذاتی استعمال کے لیے لیئے جاتے تھے اس موضوع پر حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے مسئلہ سود کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔ اس کا دوسرا حصہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے لکھا ہے۔ اس حصہ میں کچھ مثالیں پیش کی گئیں ہیں کہ سرکار دو عالم ۖ کے زمانے میں بھی تجارتی قرضوں کا لین دین ہوتا تھا۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ عرب صحرا نشین تھے تو اس کے ساتھ ہی لوگوں کے ذہن میں یہ تصورآتا ہے کہ وہ معاشرہ جس میں حضور اقدسۖ تشریف لائے تھے۔ وہ ایسا سادہ اور معمولی معاشرہ ہوگا جس میں تجارت وغیرہ تو ہوتی نہیں ہوگی اور اگر تجارت ہوتی بھی ہوگی تو صرف گندم اور جو وغیرہ کی ہوتی ہوگی۔ اور وہ بھی دس بیس روپے سے زیادہ کی نہیں ہوگی اس کے علاوہ کوئی بڑی تجارت نہیں ہوتی ہوگی عام طور پر ذہن میں یہ تصور بیٹھا ہوا ہے۔

ہر قبیلہ جائنٹ اسٹاک کمپنی ہوتا تھا!

لیکن یادرکھیے یہ بات درست نہیں عرب کا وہ معاشرہ جس میںحضور اقدس ۖ تشریف لائے اس میں بھی آج کی جدید تجارت کی تقریبا ساری بنیادی موجود تھیں۔ مثلا آج کل جائنٹ اسٹاک کمپنیاں ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چودھویں صدی کی پیداوار ہے اس سے پہلے جائنٹ اسٹاک کمپنی کا تصور نہیں تھا لیکن جب ہم عرب کی تاریخ پڑھتے ہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ عرب کے ہر قبیلے میں تجارت کا طریقہ یہ تھا کہ قبیلہ کے تمام آدمی ایک روپیہ دو روپیہ لاکر ایک جگہ جمع کرتے اور وہ رقم شام بھیج کر وہاں سے سامان تجارت منگواتے آپ نے تجارتی قافلوں کا نام سنا ہوگا۔

وہ کاروان یہی ہوتے تھے کہ سارے قبیلے نے ایک ایک روپیہ جمع کرکے دوسری جگہ بھیجا اور وہاں سے سامان تجارت منگوا کر یہاں فروخت کردیا چناچہ قرآن کریم میں یہ جو فرمایا کہ : وہ بھی اسی بناء پر کہ یہ عرب کے لوگ سردیوں میںیمن کی طرف سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام کی طرف سفر کرتے تھے اور گرمیوں اور سردیوں کے یہ سفر محض تجارت کے لیے ہوتے تھے۔ یہاں سے سامان لے جاکر وہاں بیچ دیا اور وہاں سے سامان لاکر یہاں بیچ دیا او ر بعض اوقات ایک ایک آدمی اپنے قبیلے سے دس لاکھ دینار قرض لیتا تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس لئے قرض لیتا تھا کہ اس کے گھر میں کھانے کو نہیں تھا؟ یا اس کے پاس میت کو کفن دینے کے لیے کپڑا نہیں تھا؟ ظاہر ہے کہ جب وہ اتنا بڑا قرض لیتا تھا تو وہ کمرشل مقصد کے لیے لیتا تھا۔

0 comments:

Post a Comment