31 October, 2008

خزانے کے سانپ

تم کسی منہ سے مجھے تبلیغ کررہے ہو اپنی زبان بند رکھو تو بہتر ہے ،ہماری بلی اور ہمیں کو میاؤں، تم ہمارا دیا ہواکھاتے ہو،نظام تم ہمارا دیا ہوا چلا رہے ہو،دفاع کے لیے اسلحہ تمھیں ہم دیتے ہیں۔ رہن سہن ، زبان، معاشرت ہر چیزمیں تم ہمارے پیروکار ہو اور ہمیں آکرتم وعظ سناتے ہو،جبکہ تمھارے قومی کردارکی یہ حالت ہے کہ کرپشن میں تم دنیا میں پہلے نمبر پر ہو، تم کہتے کچھ ہو کرتے کچھ ہو،بند کرو اپنی یہ جھک جھک اور اپنا رستہ ناپو!!

جب بھی ہم میں سے کسی دوست کی تبلیغی رگ پھڑکتی ہے اور وہ اپنے کسی یورپین یا امریکن دوست کو وعظ سناتا ہے تو اسے یہی جواب ملتا ہے۔دل خون کے آنسو روتا ہے، آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں اور زبان گنگ ہوجاتی ہے کہ اس بات کا کیا جواب ہے کہ ہم سیاست،معیشت اور معاشرت میں نہ صرف یہ کہ ان کے پیروکار ہیں بلکہ ان کے طفیلی ہیں۔ ایک پیروکار اپنے آقا کواور ایک طفیلی اپنے پالنے والے کو جب اپنے دین کی تبلیغ کرے گا تو وہ اس سے یہی کہے گا کہ" چھوٹی منہ اور بڑی بات" تمھارا منہ بنتا نہیں ایسی باتیں کرنے کا اگر تمھارے زبانی دعوؤں کے مطابق واقعی تمھارے پاس کوئی نظام ، کوئی طرزِ معاشرت و سیاست اورنظام معیشت ہے تو تم پہلے خو داسے اپناتے کیوں نہیں ہو؟

ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ وہ خزانہ کہ جس کے ذریعے سے ہم دنیاکی بادشاہت حاصل کرسکتے تھے جس کے استعمال سے تمام دنیا میں ہماری عزت ہوسکتی تھی وہ خزانہ ہمارے پاس ہے لیکن ہم تو خزانے کے سانپ ہیں جو نہ خود خزانے کو استعمال کرسکتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو خزانے کے قریب آنے دیتا ہے۔

دین اسلام کیا ہے ؟ قرآن کیسی کتاب ہے؟ قرآن کا انسان مطلوب کیسا ہوتا ہے ؟ اس وقت یہ تمام حقیقتیں ہمارے بُرے کردار کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔دوسری قومیں اسلام کو نہیں جانتیں، وہ قرآن سے مانوس نہیں ہیں البتہ وہ ہمیں دیکھتی ہیں کہ یہ ہیں وہ لوگ جو اسلام کے ماننے والے ہیں اور یہ ہیں وہ لوگ جو قرآن پر عمل کرنے والے ہیں ۔ ہمارے کردار کی گراوٹ اور دنیا میں ہماری ذلت اور پستی انہیں اس بات سے دور رکھتی ہے وہ اسلام کو سمجھیں یا قرآن کو سیکھیں۔ہم اللہ کے دین کے جعلی نمائندے ہیں، ہم نقلی مجاہد ہیں! اور ہم اسلام کے اس دنیا میں پھیلنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

علامہ مشرقی بہت لائق شخص تھے انہوں نے بیسیوں مضامین میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہوئی تھی۔ انقلابِ روس کے فورا بعد وہ روس چلے گئے اور وہاں جاکر انہوں نے روسی راہنماؤں کے سامنے اسلام کی اتنی زبردست تبلیغ کی کہ انقلاب روس کے پاسداران ان کے بیان سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ضرور اسلام کو سٹڈی کرنا چاہیے اور اگر واقعی اسلام ایسا ہے جیسا کہ علامہ مشرقی کہہ رہے ہیں توہم اس نظام کو اپنی اس مملکت کے لیے اختیار کرلیں گے چناچہ اس ضمن میں اسلام کے بغور مطالعے اور اس پر تحقیق کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی علامہ مشرقی سے پوچھا گیا کہ اب آپ ہمیں بتائیں کہ یہ نظام کس ملک میں عملی طور پر رائج ہے تاکہ ہم اس کی سٹڈی کرسکیں ۔ علامہ مشرقی فرماتے ہیں کہ اس لمحے میرا سر شرم سے جھک گیا اور میری زبان بند ہوگئی کہ میں انہیں کیا بتاؤں کہ دنیا میں کسی بھی اسلامی ملک میں یہ نظام ابھی تک رائج نہیںہوسکا۔

اسے مسلمانوں کی اسلام دشمنی کہیں، یا اسلام بیزاری کہیں کہ انہوں نے ابھی تک اسلام کو اپنے کسی بھی ملک میں رائج نہیں ہونے دیا۔

1 comments:

Anonymous said...

Website on Allama Mashriqi ( a genius and world class leader)
http://www.allamamashraqi.com

Post a Comment