31 October, 2008

خود کشی کی وجہ بے بسی یا اسلام؟

نہ جانے کیوں شبیر اس معصوم سی جان کا دشمن بن گیاتھا۔اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ اسے ضرور سبق سکھائے گا۔ ایک روز جب وہ کمرے میں اکیلی تھی۔شبیر کمرے میں گھس گیا اور دروازے کو پیچھے سے کنڈی لگادی۔ اب وہ معصوم ننھی سی جان اس کے سامنے تھی اور جان گئی تھی کہ یہ شخص اب مجھے مار کر ہی دم لے گا۔وہ شبیر کے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈنڈا بھی دیکھ رہی تھی اور اس کے ارادے کو بھی بھانپ گئی تھی۔ اس نے اِدھر ُادھر دیکھا لیکن اسے بھاگنے کی کوئی راہ نظر نہ آئی۔کیونکہ شبیر نے بھاگنے کے تمام راستے بند کردیے تھے۔ جب وہ سمجھ گئی کہ اب فرار کی تمام راہیں مسدود ہوگئیں ہیں تو وہ چھوٹی سی بلی بپھری ہوئی شیرنی بن گئی اور اس نے شبیر پر حملہ کردیا اور اتنی تیزی سے حملہ کیا کہ شبیر گھبرا کر پیچھے ہٹا ڈنڈا اس کے ہاتھ سے گر گیا اور بلی نے اسے اپنے پنجوںسے زخمی کردیا ۔ شبیر کے پیٹ سینے اور چہرے پر زخم آئے وہ زخم خوردہ ہوکر شور مچانے لگا اور بلی سے دور ہوکر ایک کونے میں کھڑا ہوگیا اور بلی اتنے غصے میں آگئی کہ وہ بند دروازے کے سامنے جاکر بیٹھ گئی اور شبیر کی کمرے سے باہر نکلنے کی راہ کو مسدود کردیا۔ شبیر بند کمرے سے آوازیں دینے لگا کہ اسے کمرے سے باہر نکالیں باہر کھڑے دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیا ہوگیا ہے وہ باہر کیوں نہیں آرہا۔جب شبیر نے انہیں بتایا کہ بلی نے اس کا راستہ روکا ہوا ہے اور وہ اسے باہر نہیں آنے دیتی۔تو سب حیرت زدہ ہوگئے۔ سوچیں ایک چھوٹی سی بلی کو شیر کس نے بنایا ۔ جب آپ نے اسے گھیر کر کونے میں دھکیل دیا تو بلی شیر بن گئی۔ اسی طرح جب کسی انسان کے لیے فرار کے تمام راستے بند کر دیے جائیں اور اسے دیوار سے لگا دیا جائے تو پھروہ انسان انسان نہیں رہتا بلکہ خود کش بمبار بن جاتا ہے۔ نہ جانے ہمارے دانشوروں ، سیاستدانوں اور حکمرانوں کو یہ بات کب سمجھ آئے گی۔

کبھی آپ نے اس بات پر غور کیا کہ صرف مسلمان ہی کیوں دہشت گرد کہلاتے ہیں؟ آئیں اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ صرف مسلمان ہی کیوں بنیاد پرست اور انتہاپسند ہیں؟

اپنے ہی بچوں اور بیوی کا قاتل: ٹائیمز آن لائن اخبار میں خبرچھپی کہ ایک مسلمان نے امریکہ میں اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کردیا کیونکہ اس کا ایک بوائے فرینڈ تھا۔پھر اسی طرح یوکے کی ایک آن لائن اخبار دی انڈیپینڈینٹ میں خبر چھپی کہ ایک مسلمان نے اپنی بیوی اور اور بچوں کو اس لیے قتل کردیا کیونکہ وہ مغربی طرز زندگی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اسی طرح ایک اور آن لائن انگریزی اخبار لائیو لیک کی خبر ہے کہ ایک مسلمان باپ نے اپنی بیٹی کو قتل کردیا۔

ان اخبارات کو پڑھ کر آپ کو یقینا ایسا محسوس ہوگا کہ امریکہ اور انگلینڈ میں بسنے والے مسلمانوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو قتل کرتے پھرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہاں غیر مسلم کیا کررہے ہوتے ہیں۔ایک آن لائن اخبار guardtan.co.uk کی سرخی ہے باپ جو اپنے بچوں کو مار دیتے ہیں۔ ایک اور آن لائن اخبار NYCکی سرخی ہے وہ باپ گرفتار ہوگیا جس نے اپنی 13سالہ بیٹی کو قتل کردیا ۔ایک اور اخبار کی سرخی ہے کہ فیلاڈیلفیا میں ایک ماں نے بیان دیا کہ میرے شوہر نے بیٹے کو ویڈیو گیم کھیلنے پر قتل کردیا۔ گوگل آن لائن کی سرخی ہے کہ شوہر نے بیوی کو اذیت دینے کے لیے اپنے بیٹوں کو قتل کردیا۔ ایک اور اخبار نے سرخی جمائی کہ پولیس کے ذرائع کے مطابق ایک شخص نے اپنی بیوی اور دو معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا۔ دیکھا آپ نے میڈیانے واقعات کی کیسی تصویر کشی کی ہے؟ وہ کبھی یہ نہیں لکھیں گے کہ کسی ہندو، عیسائی یہودی یا بدھ نے اپنی بیٹی یا بیٹے کو قتل کردیا، بلکہ جب مسلمان کا معاملہ ہوگا تو اسے جلی حروف میںلکھیں گے ایک مسلمان نے یہ جرم کیا یہ اس لیے تاکہ آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ مسلمان ہی بنیاد پرست اور انتہاپسند ہیں۔

اسی طرح دہشت گردی کا معاملہ ہے جو مسلمانوں کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر WikiAnswers پر بار بار پوچھے جانے والے سوالات میں آپ کو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ 1960 سے اب تک" اسلامی" دہشت گردوں کے ہاتھوں کتنے امریکی قتل ہوئے؟ Telegraph.co.ukنے سرخی جمائی کہ مسلمان دہشت گرد چائناحملے میں مارے گئے۔BBC Newsکی ہیڈلائن ہے کہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں فائرنگ سے 33افراد ہلاک ہوگئے لیکن فائرنگ کرنے والے کا مذہب نہیں بتایا گیا کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھا۔ CNN.com/US کی سرخی ہے کہ ایلونائی یونیورسٹی امریکہ میںایک بندوق والے سمیت 6افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا لیکن ان لوگوں کے مذہب کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ یہ مسلمان نہیںتھے ۔ویسے قاتلوں کا لازما کوئی نہ کوئی مذہب اور عقیدہ تو ہوتا ہی ہے۔لیکن کسی بھی مجرم کا مذہب یا عقیدہ صرف اسی وقت لکھ جاتا ہے جب وہ مسلمان ہو۔

پھر بھی شاید آپ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ خودکش بمبار حملوں کا رواج تو مسلمانوں نے ہی ڈالا ہے۔اس لیے اصل دہشت گرد تومسلمان ہی ہیں۔کیونکہ جو خبریں آپ اخباروں میں پڑھتے ہیں وہ بھی اسی طرح کی ہوتی ہیں۔ مثلا ایک اسلامی خود کش بمبار نے یروشلم میں ایک بس پر حملہ کردیا۔ایک مسلمان بمبار نے حملہ کرکے 12افراد کو ماردیا۔اخبار BNET کی سرخی ہے کہ ایک مسلمان بمبار پر الزام ہے کہ اس نے بمبئی میں حملے کیے۔اگر یہ مسلمان تھے تو یہ کون ہیں۔The New York Times جولائی 12 ، 2008 کی سرخی ہے ۔ خود کش بمبار نے سری لنکا کے صدر پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا۔ایک اور آن لائن اخبار کی خبر ہے سری لنکا میں ایک خودکش بمبار نے ایک حکومتی اہلکار سمیت 13 افراد کو ہلاک کردیا۔

جنوبی ایشیا میں خود کش حملے کس نے متعارف کروائے۔لیبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلیم (LTTE) جو ایک نان مسلم تنظیم ہے انہوں نے 5جولائی 1987 میں Nelliady Army Camp پر پہلا خود کش حملہ کرکے 40 فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔یہ تنطیم اس وقت آزاد تامل ریاست کے لیے لڑ رہی ہے۔ انہوں نے 1987میں خود کش حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت سے اب تک یہ تقریبا 200 خود کش حملے کرچکے ہیں۔یہ بہت تباہ کن حملے تھے جن سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔یہ دنیا کی واحد تنظیم ہے جو خود کش حملے کے ذریعے ایک مملکت کے سربراہ کو قتل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔مئی 1993 میں انہوں سری لنکا کے صدر پریما داسا کو22اور لوگوں سمیت ایک خود کش حملے میں ہلاک کردیا۔اس تنظیم کی ایک خود کش بمبار نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کو اس وقت ہلاک کردیاجب وہ 1991 میں مدراس میں اپنی الیکشن مہم چلا رہے تھے۔17دسمبر 1999 کو اس تنظیم نے سری لنکن صدر چندریکا کمارا ٹونگا کو بھی ایک خود کش بمبار کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی جس میں وہ زخمی ہوگئیں البتہ ہلاک نہیں ہوئیں۔ان خودکش بمباروں کے مذہب کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ غیر مسلم ہیں۔

خود کشی اور خود کش حملوں کے بارے میںکچھ حقائق ضرور مدنظر رکھیں۔پرانے وقتوں سے خود کشی کا محرک عموما جنگ یا جنگ کے بعد شکست رہی ہے تاکہ گرفتاری اور گرفتاری کے بعد تشدد اور دشمن کی غلامی سے بچا جاسکے۔

رومن معاشرے میں خود کشی عزت برقرار رکھنے کا واحد راستہ سمجھا جاتا تھا۔رومن معاشرے میں جب عزت دار لوگ کسی بڑے جرم میں ملوث ہوجاتے تھے تو وہ اپنے خاندان کی عزت بچانے کے لیے اور عدالت کے سامنے پیش ہونے اور سزا سنائے جانے سے قبل ہی خود کشی کرلیتے تھے۔

جنوبی امریکہ کے بارانی جنگلات میں رہنے والے Kaiowasقبیلے نے حکومت کی طرف سے ان کا عقیدہ اور زمین چھینے جانے کے سبب بڑے پیمانے پر احتجاجاً خودکشی کرلی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں کے فوجی یونٹ ہتھیار ڈالنے کے بجائے آخری آدمی کے مر جانے تک لڑتے تھے۔انکے اس طریقے میں ان کے ہاں پائے جانے والےSamurai مجاہدوں کا طریقہ کار جھلکتا ہے جو دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے موت کو زندگی پر ترجیح دیتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد Viet Minh موت کے رضاکار جو فرانسیسی استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہدکررہے تھے۔ وہ فرانسیسی ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لیے ایک لمبی چھڑی جیسا بم ہاتھ میں پکڑ کر استعمال کرتے تھے۔ خود بھی تباہ ہوتے تھے اور ٹینکوں کو بھی تباہ کردیتے تھے۔

گیارہویں صدی کے فرانسیسی ربی رشی نے شہد کی مکھیوں کی طرح لڑنے کے طریقے کو رواج دیا یعنی جس طرح شہد کی مکھی ڈنگ مار کر مر جاتی ہے اسی طرح دشمن پر کاری زخم لگا کر مر جاؤ۔

جدید خود کش حملے جو بنیادی طور پر ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ان کا سراغ ہمیں اس وقت سے ملتا ہے جب روس کے Czar Alexander II کو 1881 میں قتل کیا گیا۔الیگزینڈر سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک گلی میں گاڑی چلاتے ہوئے خود کش حملے وجہ سے جو ایک ہاتھ سے بنے ہوئے دستی بم کے ذریعے کیا گیا تھا سے زخمی ہوگیا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

خود کی قربانی کا عمل جاپانی کامی کازی بمباروں نے جنگ عظیم دو م کے خاتمے کے قریب متعارف کروایا جب وہ خود بم میں بیٹھ کر اسے اڑاتے ہوئے ٹھیک اس کے ہدف تک پہنچاتے تھے۔

دریائے اوڈار پر لگے ہوئے روسی پلوں کو برلن کی لڑائی کے دوران خود کش بمباروں نے تباہ کیا۔

کروسیڈز کی ایک متنازع مثال یہ ہے کہ Knigths Templar نے اپنا ہی ایک جہاز اڑا دیا جس میں 140 عیسائی سوار تھے لیکن اس جہاز کے اڑائے جانے سے 1400 مسلمان شہید ہوئے۔

سترہویں صدی کے اوخر میں جب 1661 میں تائیوان پر قبضے کی جنگ لڑی جارہی تھی اس وقت زخمی ہونے والے ڈچ فوجی بجائے قیدی بننے کے اپنے آپ کو اور اپنے پکڑنے والے دونوں کو "بلیک پاؤڈر" بارود سے اڑادیتے تھے۔

جدید دور میںخود کشی یا خودکش حملے کی ایک مثال یہ بھی ہے جب بیلجین انقلاب کے دوران ڈچ لیفٹیننٹ جان وان سپیجک نے اپنا جہاز Antwerp کی بندرگاہ پر دھماکے سے اڑا دیا تاکہ بیلجین اسے قیدی نہ بنا سکیں۔

برطانوی استعمار کے خلاف بغاوت جو 1818 اور1848 میں ہوئی میں سنہالیوں نے برطانوی افواج کے خلاف کئی ایک خود کش حملے کیے۔ان حملوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ حملہ آور کھوکھلے درختوں کے تنوں میں اپنے بموں سمیت چھپ جاتے تھے اور جب برطانوی فوجی کانوائے ان کے قریب سے گزرتا تھا تو وہ اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیتے تھے۔

کیا یہ سب لوگ مسلمان تھے۔ یقینا نہیں۔ اسی لیے میڈیا کبھی ان خود کش بمباروں کا ذکر نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کا مذہب بتائے گا۔

پاکستانی افواج کے شیر دل اور سینہ سپر جوانوں نے بھی دفاع وطن کی خاطر اپنے جسم سے بم باندھ کر ہندوستانی ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر انھیں تباہ و برباد کرنے کی مثال قائم کی ہوئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے کب خودکش حملے کرنے شروع کیے؟ یہ 80 کی دھائی کی بات ہے جب مسلمانوں نے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف خودکش حملے شروع کیے۔ کیا یہ اس لیے ہوا کہ اسرائیل اور فلسطین کی آپس میں جنگ جاری ہے؟آپ نے دیکھی ہوگی یہ جنگ ایک طرف مسلح اسرئیلی فوجی اور دوسری طرف نہتے فلسطینی بچے ، ایک طرف ٹینک اور دوسری طرف سے ان ٹینکوں پر پھینکے جانے والے پتھر، ایک طرف امریکہ کی فیکٹریوں میں بنے ہوئے اسلحے کے ڈھیر اور دوسری طرف نہتے فلسطینی بچے جو پتھروں سے لیس ہیں۔ یہ ہے فلسطین اور اسرائیل کی وہ جنگ جس نے فلسطینیوں کوخودکش بمبار بننے پر مجبور کیا۔

خدانخواستہ اگر کبھی آپکے ساتھ ایسا ہو کہ کوئی جابر ، سنگدل اور پتھر دل فوجی اپنے جدید ترین اسلحے سے لیس ہوکر آپکے گھر میں گھس جائے اور آپکی عورتوں اور بچوں کو گولیوں سے بھون ڈالے تو آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ وہی کچھ نہیں کریں گے جو انسانی تاریخ میں بے بس اوربا غیرت لوگ کرتے رہے ہیں ۔ وہی کچھ جو دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں نے امریکیوں کے ساتھ کیا ۔ وہی کچھ جو اٹھارویں صدی میں سنہالیوں نے برطانویوں کے ساتھ کیا ۔ وہی کچھ جو رومی اپنی عزت بچانے کے لیے کرتے رہے ہیں۔ وہی کچھ جو فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف کررہے ہیں ۔

کیا ایسا نہیں ہے کہ نہتے ،بے بس، مجبورو لاچار اور باغیرت لوگ خواہ وہ کسی بھی زمانے یا تہذیب سے تعلق رکھتے ہوں انکا طریقہ کار ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔

1 comments:

Muzaffar Bukhari said...

Agreed to the historical facts you have mentioned above. also agree on your conclusion that A Muslim is deliberately pinpointed in western media if he/she does indulges in such activities.

But what I don't agree is that you seem to be trying to rationalize the suicide bombing in Pakistan by giving the example of Shabir and Cat. The problem is that in reality, the CAT of this story is not focusing only SHABIR. In fact, Innocent and civilians have been targeted more than the defense / law enforcement agencies, for no good reason.

So I disagree on relating the above story to the current scenario in Pakistan.

Best.

Post a Comment