31 October, 2008

دہشت گردی

غم کی شدت سے وہ روئے جارہا تھا اوربے بسی نے اس کے سارے نقوش دھندلا دیے تھے۔ وہ دھاڑیں مارمار کر رورہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ ان سب کو اسی طرح تڑپا تڑپا کر مارتا جس طرح انہوں نے اس کے بچے کو مارا تھااس کا دل چاہ رہا تھا کہ اسے موقع ملے تو وہ انہیں بھی جلا کرمارے جس طرح انہوں نے اس کے بچے کو جلایا تھا۔اس کی بیٹی کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کاش کہ وہ مرگئی ہو، کاش کہ وہ جل گئی ہو لیکن زندہ ان ظالموں کے ہاتھ نہ لگی ہو یہ سوچ کر کہ ظالم اسے اٹھا کرلے گئے ہیں وہ اور بھی دیوانہ ہورہا تھا اس کا غم ناقابل بیان تھا اس کا غصہ آہستہ آہستہ شدید انتقام کی آگ میں ڈھل رہا تھا۔

1992 میں جب پاکستان میں سیلاب آیاتواس وقت سعودی عرب میں مقیم ایک پٹھان کو اس کے گھر سے پیغام آیا کہ تم جلدی گھر آجاؤ ہم لوگ شدید خطرے میں ہیں یہاں سیلاب سے صورت حال بہت خطرناک ہورہی ہے۔ اس پٹھان نے اپنے کفیل کو کہا کہ مجھے چھٹی دو میں نے گھر جانا ہے میری فیملی شدید خطرے میںہے، لیکن پٹھان کی فریاد سن کر اس سعودی کفیل کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور اس نے اپنے پٹھان ملازم کو چھٹی نہ دی۔ سعودیہ میں کفیل سسٹم رائج ہے بس یوں سمجھ لیں کہ یہ عرب میں رائج پرانے غلام سسٹم کی جدید شکل ہے۔ ویزوں کے ذریعے غلام بھرتی کیے جاتے ہیںاور پھر ان پر زندگی تنگ کردی جاتی ہے۔ سارے کاغذات کفیل اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور غلاموں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جاؤ خود بھی کھاؤ اور ہمیں بھی کما کر کھلاؤ ،کفیلوں کے ریٹ مقرر ہوتے ہیں یا یہ کہ پاکستان سے بلا کر لوگوں کو اپنی بکریوں اور اونٹوں کے باڑے میں بندکردیا جاتا ہے کہ یہاں کام کرو اب باہر کی دنیا سے تمھارا کوئی رابطہ نہیں اسی طرح وہ پٹھان بھی اپنے سعودی کفیل کے اونٹوں کے باڑے میں کام کرتا تھا۔ جب اس نے اپنے کفیل سے کہا کہ میراگھر خطرے میں ہے مجھے چھٹی دے دو تو سعودی نے سنی ان سنی کردی اور اسے چھٹی نہ دی چند روز ہی گزرے ہوں گے کہ یہ دل دہلادینے والی خبر آئی کہ تمھارا سارا کنبہ سیلاب کے پانی میں ڈوب گیا ہے۔اس خبر نے پٹھان کے اندر انتقام کی ایسی آگ بھڑکائی کہ جس سے کفیل کاسارا کنبہ جل کر راکھ ہوگیا۔ ہوا یوں کہ اس پٹھان نے موقع پاتے ہی ایک رات چھری لیکر کفیل کی ساری فیملی کو کفیل سمیت ذبح کردیا اور خود آلہ قتل سمیت تھانے میں پیش ہوگیا اور کہنے لگا کہ جب میرا کوئی نہیں بچا تو یہ کفیل کیوں زندہ رہے۔ بالکل یہی حال اس شخص کا بھی تھا جو لال مسجد کے باہر کھڑا اپنے بچوں کو رو رہا تھا انتقام کی آگ اس کے سینے میں بھی بھڑک رہی تھی اور وہ وہاں سے عہد کرکے اٹھا تھا کہ اب جب تک میرے جسم میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے میں ان ظالموں کو نہیں چھوڑوں گا میں انہیں مار مار کے انہیں ذبح کرکرکے ان کے لاشے کوچہ و بازار میں پھینکوں گا اوریوں لال مسجد کو لگائی جانے والی آگ سے اب پورا ملک جل رہا ہے۔

پھربھی یہ پوچھتے ہیں کہ دہشت گردی کی اصل وجہ کیا ہے؟ ان عقل کے اندھوں کو کوئی بتائے کہ دہشت گردی کا اصل سبب تم خود ہو۔یہ دہشت گرد کون ہیں کہاں سے آئے ہیں ؟میں تمھیں کچھ دہشت گردوں کے پتے بتاتا ہوں۔ جن کے ناموں کی فہرستیں تمھارے پاس پہلے سے موجود ہیں۔جاؤ ان کے خلاف ایکشن کرو۔ وہ تمام والدین اب دہشت گرد ہیں جن کے بچوں کو تم نے جلا دیا اور وہ تمام بھائی دہشت گرد ہیںجن کی بہنوں کو تم نے قتل کردیا یا تم انہیں اٹھا کرلے گئے اور اب ان کی عزتوں سے کھیل رہے ہو،وہ سب لوگ یا توخود دہشت گرد بن چکے ہیں یا دہشت گردوں کے پشت پناہ ہیں جن کے معصوم بچوں پر تم نے اسلام آباد میں گولیاں برسائی ہیں وہ تمام لوگ دہشت گرد ہیں، جنہوں نے اپنے پیاروں کے بے گور و کفن لاشے اس مملکت خدادا پاکستان کے دارلحکومت میں تڑپتے دیکھے تھے۔ ان سب کے نام تمھارے پاس ہیں ۔ جاؤ ان کے خلاف ایکشن کرو جیسے تم نے ان کے بچوں اور بچیوں کے خلاف ایکشن کیا۔

انہیں کس نے دہشت گرد بنایا ؟ انہیں تم نے دہشت گرد بنایا، انہیں ظلم نے دہشت گرد بنایا، انہیں ظالموں اور ان کے حواریوں نے دہشت گرد بنایا، جہاں جہاں تم ظلم کے بیج بو رہے ہو، وہاں وہاں سے قوم دہشت گردی کی فصل کاٹ رہی ہے۔تم جانتے ہو کہ کتنے بیٹے تم نے مار دیے تمھیں معلوم ہے کہ کتنوں کو تم زندہ اٹھا کر لے گئے اور اب تک اپنے عقوبت خانوں میں رکھا ہوا ہے وہ سب اور ان کے متعلقین جو ظلم کی اس آگ میں جل جل کے خود بھی شعلہ جوالہ بن چکے ہیں ۔ وہ سب دہشت گرد ہیں اور تمھیں ان کے پتے معلوم ہیں تم ان سب کو جانتے ہو اور تم نے ہی انہیں انسان سے دہشت گرد بنایا ہے!!لیکن کیا تمھیں کسی نے نہیں بتایا،یا تمھیں خود بھی اس بات کا ادراک ابھی تک نہیں ہوا کہ جو آگ تم نے ان معصوموں کے گھروں میں لگائی ہے، وہ آگ اب خود تمھارے گھر تک پہنچنے والی ہے، ظلم کے دن تو ویسے ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ انقلاب تو فی الحال خون مانگ رہا ہے اور مظلوم اس کے لیے اپنے خون کی ندیاں بہا رہے ہیں۔ لوگ مررہے ہیں ۔ کوچہ و بازار خونِ غریب کی سرخی سے رنگین ہیں۔ ظلم بڑھ رہا ہے تمھاری لگائی ہوئی آگ اب بجھے گی نہیں غریب اپنے مستقبل کی خاطر اپنے حال کے ایندھن سے اس آگ کو جلائے ہوئے ہے۔ یہ آگ ایک چنگاری سے الاؤ بن چکی ہے۔ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے یہ آگ جو تم نے غریب کا آنگن جلانے کے لیے بھڑکائی تھی اب تمھارے چمن کے سارے پھول جلا کر ہی بجھے گی ۔

دہشت گردی کیوں ہوتی ہے؟ یہ ظلم سے جنم لیتی ہے،اور ظالم کو اپنی لپیٹ میں لے کر دم لیتی ہے۔ نفرتوںاور ظلمتوں کے بیج بونے والو تم نے کبھی سوچا ہے کہ غریب کے جذبات کو گولیوں کی بوچھاڑ سے نہیں بلکہ پیار سے ٹھنڈاکیا جاسکتا ہے۔ ظلم کے پجاریو تم جانتے ہو کہ ناانصافی کے اس اندھیرے کو عدل کے دیپ جلا کر ختم کیا جاسکتا ہے۔ تم سمجھتے نہیں کہ انصاف کا دروازہ جب بند ہوتا ہے تو انقلاب کی آندھیاںچلتی ہیں۔ اقتدار کے بھوکو تمھارے علم میں ہونا چاہیے کہ تمھاری جاہ و مال کی محبت غریب کو غربت کی لکیر سے اتنا نیچے لے گئی ہے کہ اب وہاں سے اوپر اٹھنا اس کے بس میں نہیں رہا۔

دہشت گردی کی بیماری کا علاج بادشاہ کے ہاتھ میں ہے جس دن یہ مطلق العنان بادشاہ عوام کی فلاح اور عدل کے قیام جیسے الفاظ کا مطلب جان جائے گا اس دن یہ بیماری خود ہی ختم ہوجائے گی۔فی الوقت یقینا یہ الفاظ بادشاہِ وقت کے لیے کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں اسی لیے ظلمتِ شب کی گہرائی اور گیرائی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

دہشت گردی جیسی بیماری جو ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل گئی ہے اس کے پھیلانے میں شاہ اور شاہ کے مصاحبوں کا منفی کردار تو روزِ روشن کی طرح عیاںہے؟دیکھنا یہ ہے کہ اس کے پھیلاؤ یا تدارک کے حوالے سے معاشرے کے دوسرے طبقات کا کردار کیا ہے؟

معاشرے کا سب سے محترم، قابلِ عزت اور توقیر کے لائق طبقہ علمائے کرام۔علماء کی ایک تقسیم تو خود ہادی برحق نے فرمادی تھی یعنی علمائے حق اور علمائے سُو۔حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کے ساتھ ستر ہزارحمایتی علماء کا لشکر ہوگا اور یقینا یہ علمائ، علمائے سُو ہی ہوں گے۔ ہمارے دورکے علماء کی اس بنیادی تقسیم کے علاوہ اور بھی تقسیمیں ہیں۔ ایک ہیں سیاسی علماء اور دوسرے ہیں غیر سیاسی علمائ۔ سیاسی علماء اس الیکشن ، ممبری اور کرسی کی سیاست میں ایسے پھنسے ہیں کہ بس وہ حمایتی علماء بن کررہ گئے ہیں۔ ایسے ایسے سیاسی کرتب اس طبقہء علماء نے دکھائے ہیں کہ الامان الحفیظ، بڑے بڑے جغادری اور چغد قسم کے سیاست دانوں کو کوسوں پیچھے چھوڑگئے ہیں ان علماء سے خیر کی کیا توقع ہوسکتی ہے؟ جنہوںنے چند ٹکوں کے لیے عزتِ سادات ہی داؤ پر لگا دی ہے۔دہشت گردی کے خاتمے میں ان علماء کا جو کردار ہوسکتا تھا اس سے یہ کوسوں دور ہیں۔رہ گئے غیر سیاسی علماء تو ان کے بھی دو طبقے ہیں ایک ہیں مسلح جہادی علماء اور دوسرے غیر مسلح علماء ۔ جہادی علماء کے ہاتھوں میں استعماری طاقتوں اوران کے ایجنٹوں نے پہلے خود ہی اسلحہ پکڑایا انہیں جہاد کا سبق پڑھایا اوراب اسی طبقے کو عالمی استعماری طاقتوں کے کہنے پر دبایا جارہا ہے۔ انکے ہاتھوں میں تو وہی اسلحہ ہے جوتم نے خود انہیں دیا تھا اور انہوں نے ٹریننگ بھی تو تم ہی سے حاصل کی ہوئی ہے۔ اب تم خود ہی ان کے دشمن ہوگئے ہو۔ہوسکتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میںاب تمھارے دشمنوں کا اسلحہ ہو کیونکہ دشمن کا دشمن تو دوست ہوتا ہے۔

رہ گئے غیر سیاسی، غیرمسلح علماء جن کا کوئی کردار بنتا ہے اس روگ کے ختم کرنے میں ان سے گزارش ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کریں جو ان پر ان کے ضمیر اور اس قوم کا قرض ہے اسے چکانے کی کوشش کریں۔

دہشت گردی ختم کرنے میں سیاست دانوں کا کیا کردار ہے؟ سیاست دانوں کا کردار ہی کیا ہوتا جو وہ اداکریں گے۔ قوم کی کشتی دہشت گردی کے گرداب میں ہچکولے کھارہی ہے اور ان کے سامنے الیکشن کی چھیچھڑے لٹکا ئے جاچکے ہیں یہ الیکشن الیکشن کھیلیں گے اور مزے کریں گے قوم جائے بھاڑ میں۔

میڈیا کا کردار یہ ہے کہ بادشاہ کا ذاتی میڈیا ہر وقت دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنے کی بھرپور کوشش میں لگا رہتا ہے۔ شاہ کے خوشامدیوں کا ٹولہ ہر وقت شاہ اور اس کے مصاحبوں کے کالے کرتوتوں پر پردے ڈالتا رہتا ہے۔ شاہ کے ذاتی میڈیا پر شاہ کے سارے گناہ نیکیاں بنا کر پیش کیے جاتے رہتے ہیں۔ البتہ سرکاری میڈیا پر جھوٹ سن سن کر جب آپکے کان پک جائیں تو الحمدللہ اب آزاد میڈیا کی اس ملک میں موجود گی بادِسموم میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کا احساس دلاتی ہے۔ آزاد میڈیا کو تبدیلی کا راستہ ہموار کرنے اور سچ کا بول بالا کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔

عالمی برادری اور عالمی استعماری طاقتوں کا کردار انتہائی منفی ہے کیونکہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کے ڈانڈے انہیں سے جاکر ملتے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ یہ آستین کے سانپ بظاہر دوست بباطن دشمن کبھی بھی ہماری سیاست کو قرار نہیں لینے دیں گے۔ یہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہروقت کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ کھڑا کیے رکھیں گے جس سے ہمارے ملکی نظام کی جڑیں کمزور ہوتی رہیں گی۔ اپنا یہ کردار نہ انہوں نے کبھی چھوڑا ہے اور نہ کبھی چھوڑیں گے ۔ خدا ہمیں ہی اتنی سمجھ دے دے کہ ہم ان کے نیچے سے نکل آئیں۔

دشمنوں کا کردار وہی ہے جو دشمنوں کا ہونا چایئے، بچھو کی فطرت میں ہے ڈسنا وہ ڈسا کرے گا۔ دشمن دہشت گردوں کی مدد کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

حکمرانوں نے غربت ختم کرنے کا جو فارمولا طے کیا ہوا ہے اگر اس پر اسی طرح عمل درآمد ہوتا رہا تو غریب عوام تو ویسے ہی ختم ہوجائیں گے اور اس طرح حکمران غربت ختم کرنے میں کامیاب بھی ہوجائیں گے۔جب غریب ہی نہ رہا تو غربت کہاں کی۔فی الوقت تو غریب اپنا بھرپور کردار اداکررہے ہیں، دہشت گردوں کے بموں کو وہ اپنے جسموں پر سہہ رہے ہیں، غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔طبقاتی تقسیم کا بھاری بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ لٹ رہے ہیں مررہے ہیں۔پھر بھی بادشاہ اگریہ کہے کہ غریبوں کا کوئی کردار نہیں ہے بادشاہ کے کیا کہنے وہ تو بادشاہ ہے۔

دہشت گردی کی بیماری روز بروز اس قوم کی رگوں میں گہری اترتی چلی جارہی ہے۔ کون دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن رہے ہیں؟ اپنے ہی مظلوم اور پسے ہوئے بہن بھائی، اس کا علاج کیا ہے ؟ "علاج اس کا ہے وہی آبِ نشاط انگیز" ، عوام کی ہمدردی، دل کی نرمی، اگر آپ نے ہاتھ میں خنجر اٹھایا ہے تو اسے یوں چلائیے جیسے ایک ہمدرد سرجن نشتر کو اپنے مریض کے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے نہ کہ آپ کے ہاتھ کا خنجر کسی خون آشام ڈاکوکے ہاتھ کا چُھرا بن جائے جس سے وہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کی جان لیتا ہے۔ علماء مفاد پرستی کی سیاست کو ترک کرکے اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قابل گرفت یہی طبقہ ہے اگر یہ حق کے راستے کو چھوڑدیں۔ سیاست دان قوم کے لیڈروں کا کردار اپناتے ہوئے اگر اپنے ازلی دشمنوں اور عالمی استعماری طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے ان کے عزائم پر نظر رکھیں ، قوم کی درست سمت میں راہنمائی کریں اور وطن کی اس کشتی کو دہشت گردی کے گرداب سے باہر لانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں تودہشت گردی کی اس بیماری سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

0 comments:

Post a Comment