31 October, 2008

ھنگامی حالت

دوسری عالمی جنگ کے دوران جب جنگ کی تباہی کی وجہ سے برطانیہ کی حالت بہت ابتر ہوگئی تھی اس وقت حکومت کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ اب جنگ بند کردینی چاہیے تو وقت کے حاکم نے ان مشیروں سے ایک بات پوچھی کہ بتاؤ کیا ہماری عدالتیں اب بھی عوام کو انصاف دے رہی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مشیروں نے کہا کہ ہاں ہماری عدالتیں اب بھی انصاف دے رہی ہیں۔ یہ جواب سننے کے بعدحاکم نے فیصلہ کیا کہ ہم جنگ جاری رکھیں گے کیونکہ جب تک ہماری عدالتیں انصاف دیتی رہیں گی اس وقت تک اس مملکت کی بنیادیں مضبوط رہیں گی او راس کے بعد وہ یوں گویا ہوا کہ جنگ ہمیں تباہ نہیں کرسکتی بلکہ جس دن ہماری عدالتوں نے انصاف دینا بند کردیا اس دن ہم تباہ ہوجائیں گے۔

حال ہی میںبرطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے استیعفے کے پیچھے بھی جو محرکات سامنے آئے ہیں وہ کچھ یوں ہیں یہی ہیں کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران فنڈز مہیا کرنے کے عوض ٹونی بلیئر نے کسی سے منتخب ہونے کے بعدمراعات دینے کا وعدہ کیا تھا انتخاب کے بعد وزیر اعظم کے خلاف یہ انکشاف ایک جونیئر ترین پولیس آفیسر نے کیا اور پھر قانون کی بالادستی کو قائم کرنے کے لیے وہ پولیس آفیسر بے دھڑک ٹونی بلیئر کے خلاف ضابطے کی کارروائی کرنے لگا اور یہ کارروائی بالاخر ٹونی بلیئرکے استیعفے اور اس جونیئر پولیس افسر کی ترقی پر ختم ہوئی

یہ ہے اُن کے گھر کی کہانی جنہیں ہم غیر مسلم ، خدا ناشناس اور دہریے کہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کیا کوئی جونیئر پولیس آفیسریہ ہمت کرسکتا ہے کہ وہ اپنے پیارے وزیر اعظم کے خلاف کوئی ضابطے کی کارروائی کرسکے یہاں تو چیف جسٹس کو انصاف کی بالادستی قائم کرنے کی یہ سزا ملی ہے کہ اسے دن دھاڑے عدالت کی کرسی سے اٹھا کر سڑک پر پھینک دیا گیا ہے اور اب سرکاری میڈیا میں شاہ کا خوشامدی ٹولہ ان ججوں کے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے۔ اس موقعہ پر وہی کچھ کہا جاسکتا جو ایک مرتبہ شیر نے بندر کو کہا تھا۔ جب بندر درخت پر چڑھ کر شیر کو گالیاں دینے لگا تو شیر نے بڑے تحمل سے بندر کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تم مجھے گالیاں نہیں دے رہے ہو بلکہ درخت کی بلندی مجھے گالیاں دے رہی ہے۔ خوشامدیوںکے اس ٹولے کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انہیں بھی کبھی ناچار اس درخت سے نیچے اترنا ہی پڑے گا۔آج جبکہ سب کے منہ بندکر کے ان کو بے لگام کردیا گیا ہے توان کے لیے موقعہ ہے کہ یہ سچ کے چہرے پر کالک ملنے کی اپنی سی کوشش کریں۔

عدل وانصاف کی بالادستی اور عدالتوں کی اہمیت کے دو واقعات آپ کے سامنے غیر مسلموں کے گھر انے سے رکھے ہیں اور اِدھر مسلمانوں کے گھر میں کیا ہورہا ہے؟ مملکت خدادادِ پاکستان دنیا کے نقشے پر وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا،ماضی میں اس ملک کی عدالتوں نے ہمیشہ آمروں کا ساتھ دیا، ظالموں کی حمایت کی، نظریہ ضرورت ایجاد کرکے، ہرگورکھ دھندے کو قانونی حمایت سے نوازہ اور آئینِ پاکستان کا منہ چڑایا، لیکن یہ طلسم بھی آخر ٹوٹا اور عدالتیں اس سحر سے آزاد ہوئیں۔ عدل وانصاف کے پاسدار جنہیں حکمرانوں نے تھپکیاں دے دے کر بہت عرصے تک سلائے رکھا وہ بھی آخر بیدار ہوئے ۔انہوں نے انصاف کا ترازو ہاتھ میں لیا آنکھوں پر عدل کی پٹی باندھی اور حقدار کو حق ملنے کا عمل شروع ہوا ستم شعاروں کے ہاتھ رکنے لگے!،بے بسی کے بادل چھٹنے لگے!، ظالم ٹھٹک گئے کہ یہ کس موسیٰ نے سامری کا طلسم توڑ دیا؟ ، عدل کے رکھوالوں اور انصاف کے پاسداروں کو کس نے خوابِ غفلت سے بیدار کردیا؟ شاہ اور اس کے حواری چیخ اٹھے کہ اتنے عرصے سے پاکستان بلا شرکت غیرے ہماری چراگاہ رہا ہے ہم نے جہاں سے چاہا کھایا جس چشمے سے چاہا پیا اور اب یہ کون ہمارے اوپر قدغنیں لگا رہا ہے؟ یہ کون ہمیں ہماری حدوں میںمحدود رہنے کا سبق دے رہا ہے؟ کون ہم سے ہمارا اختیار چھین رہا ہے؟ہمارا لوگوں کو گھروں سے راتوں رات اٹھالینے کااختیار! ہمارا بولتی زبانوں کو گدی سے کھینچ لینے کا اختیار! ہمارالکھتے قلموں کو توڑ دینے کااختیار!ہمارا آزاد شہریوں کو غلام بنالینے کا اختیار! یہ کون ہے؟ جو ہمارے وہ اختیارات ہم سے چھین رہا ہے جو عرصہ دراز سے پاکستان کے عوام نے ہمیں دے رکھے ہیں۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ ہم نے جب بھی عوام پر اپنے یہ اختیارات استعمال کیے عوام نے کبھی کوئی مزاحمت نہیں کی عوام اسے اپنا مقدر سمجھتے ہوئے برداشت کرتے ہیں اور اس کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھاتے ۔ جب عوام کو کوئی تکلیف نہیں ہے تو عدالتوں کو کیا مسئلہ ہے کہ وہ ہماری راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں؟

ظلم کے متوالوں کے لیے خطرہ جب اس حد تک بڑھا کہ مظلوم عوام کے بیدار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا اور اس بات کے امکانات پیدا ہونے لگے کہ کہیں عوام کو عدل اور انصاف کے حصول کی عادت نہ پڑ جائے۔ اس بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے وطن کے نام نہاد چوکیداروں اور عوام کے جعلی نمائندوںنے انصاف کے پاسداروں پر شب خون مارا، عدل کی بساط کو لپیٹا اور انصاف کے چشمہ صافی کے دھانے کو جبر کے پتھروں سے پاٹ دیا کہ اس وطن کے عوام کہیںانصاف کے حصول کے عادی نہ ہوجائیں۔

کیا ظلم کے پاسداروں کے لیے اب بھی سب سے بڑا خطرہ سپریم کورٹ بن سکے گی؟ کیونکہ سپریم کورٹ کا سربراہ اب بھی تو ایک جج ہی ہے؟

0 comments:

Post a Comment