31 October, 2008

میرے پیارے بیٹے

سامنے کھڑکی میں ایک کوا آکر بیٹھا تو بوڑھے باپ نے جوان بیٹے سے پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ بابا یہ کوا ہے۔ باپ نے کچھ دیر بعد پھر پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ بابا آپ کو بتایا نا کہ یہ کوا ہے۔ باپ نے کچھ وقفہ دے کر پھر پوچھا کہ بیٹے یہ کیا ہے تو بیٹا برہمی سے بولا کہ آپ کو پتا نہیں چلتا کہ یہ کوا ہے میں کتنی مرتبہ آپ کو بتا چکا ہوں کہ یہ کوا ہے کوا۔ باپ نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ بیٹا ، بچپن میں جب یہی سوال تم مجھ سے سو مرتبہ پوچھتے تھے تو میں ہر مرتبہ تمھیں سمجھاتا تھا کہ یہ کوا ہے۔

میرے بیٹے جب میں بوڑھا ہوجاؤں گا توتم میرے ساتھ صبر سے پیش آنا اور مجھے سمجھنے کی کوشش کرنا۔

بیٹے دیکھنا جب میں کھانا کھاتے ہوئے اپنے کپڑے گندے کردوںاورمجھے کپڑے پہننا بھی نہ آئے تواس پربھی صبر کرنا اور یاد کرنا کہ کسی طرح میں نے تمھیں کپڑے پہننا، صاف رہنا اور جوتوں کے تسمے باندھنا سکھایا ۔

بیٹے بڑھاپے میں جب میں تم سے ایک ہی بات بار بار دھرا دھرا کربیان کروں تو تم صبر کرنا، مجھے ٹوکنا مت اور میری بات کو سنتے رہنا اور یاد کرنا کہ کس طرح بچپن میں ایک ہی کہانی میں تمھیں بار بار سناتا تھا اور سناتا ہی رہتا تھا جب تک کہ تم سو نہیں جاتے تھے۔

بیٹے جب میں نہانا نہ چاہوں تو تم مجھے ڈانٹنا مت اور نہ ہی مجھے شرم دلانا اور یاد کرنا کہ کس طرح بچپن میں میں تمھارے پیچھے بھاگتا تھا جب تم نہانا نہیں چاہتے تھے اور میں کس کس طرح تمھیں منانے کے لیے ہزاروں بہانے بناتا تھا۔

دیکھنا جب بڑھاپے میں مجھے کمپیوٹر اور نئی چیزوں کی سمجھ نہ آئے تو میرے اوپر ہنسنے کے بجائے مجھے وقت دینا اور سکھانے کی کوشش کرنا اور یاد کرنا میں نے تمھیں بہت سی چیزیں سکھائیں، اچھی طرح کھانا کھانا، صحیح طرح کپڑے پہننا ، زندگی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا تمھیں کس نے سکھایا؟

جب کبھی میں بھول جاؤں یا بولتے بولتے گفتگو کا سرا میرے ہاتھ سے نکل جائے تو مجھے یاد آنے کے لیے وقت دینا اور اگر مجھے یاد نہ بھی آئے تو محسوس نہ کرنا کیونکہ اصل بات گفتگو نہیں ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ تم میرے پاس بیٹھے رہو اور مجھے سنتے رہو۔

جب کبھی میرا کچھ کھانے پینے کو جی نہ چاہے تو مجھ پر جبر نہ کرنا، مجھے پتا ہے کب مجھے کھانا ہے اور کب نہیں کھانا۔

بیٹے جب میری کمزور ٹانگیں میرا سہارا نہ بن سکیں تو میرا ہاتھ تھام لینا بالکل اسی طرح جیسے میں نے تمھارا ہاتھ تھاما تھا جب تم اپنی زندگی کا پہلا قدم چلنے لگے تھے۔

بیٹے جب کبھی میں تمھیں کہوں کہ اب میں زندہ نہیں رہنا چاہتا تو مجھ سے ناراض نہ ہونا کیونکہ یہ بات تمھیں دیر سے سمجھ میں آئے گی کہ میری عمر میں جیا نہیں جاتا بلکہ زندہ رہا جاتا ہے۔

کسی دن تم اس بات کو بھی پالوگے کہ اپنی تمام تر غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود میں نے تمھارے لیے ہمیشہ بہترین چیز اور بہترین راستے کا انتخاب کیا ہے۔

اپنے بوڑھے باپ کو دیکھ کر غمگین نہ ہونا، غصے میں اپنے آپ کو لاچار یا مجبور نہ سمجھنا بلکہ میرے پاس رہنا اور میری مدد کرنا،جس طرح میں نے تمھاری مدد کی تھی جب تم اپنی زندگی کا آغاز کررہے تھے۔ تم صبر سے اور محبت سے میرا ہاتھ تھام کر میرے راستے پر چلانا اس کے بدلے میں میں تمھیں اپنی مسکراہٹ دوں گا اور اپنا پیار دوں گا۔

حکیم لقمان بہت دانا شخص تھے ۔ ان کی تعریف قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت یعنی دانائی عطا کی تھی اسی لیے وہ اللہ کا بہت شکر گزار تھا۔لقمان حکیم نے بھی اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلا کر کچھ نصیحتیں کی تھیں۔

پہلی بات انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہی کہ بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

حضرت لقمان کی دوسری نصیحت یہ تھی کہ بیٹا کوئی عمل جو خواہ رائی کے دانے کی طرح چھوٹا ہو اور وہ پھر اسے کسی چٹان کے اندر چھپ کر یا آسمانوں کی پنہائیوں میں کیا جائے یا زمین کے اندر گھس کر کیا جائے اللہ اسے قیامت کے دن نکال لائے گا کیونکہ اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔

تیسری نصیحت حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ کی کہ اے میرے بیٹے نماز قائم رکھنا، نیکی کا حکم دیتے رہنا اور بدی سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تم پر پڑے اس پر صبر کرنا کیونکہ یہ بہت ہمت کا کام ہے۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو چوتھی نصیحت یہ کی کہ لوگوں کے لیے اپنے گال پُھلا کر نہ رکھنا اور زمین پر اکڑ کرنہ چلنا کیونکہ اللہ کو اترانے والے شیخی خورے پسند نہیں ہیں۔

پانچویں نصیحت یہ کہ اپنی چال میں اعتدال پیدا کر اور بولتے وقت اپنی آواز کو پست رکھ کیونکہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

قرآن نے جہاں باپ کا ذکر کیا جو اپنے بیٹے کو نصیحتیں کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس طرح گزارے کہ وہ ایک کامیاب انسان بن جائے بالکل اسی طرح قرآن بیٹے کو بھی نصیحت کرتا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر تو سورة لقمان میں آیا ہے۔جبکہ سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالی بیٹوں کو انکے والدین کے حق میں یوں نصیحت فرماتے ہیں۔ تمھارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمھارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔ اور ادب سے ان کے آگے جھکے رہنا اور انکے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پالا ہے تو بھی انکے حال پر اسی طرح رحم فرما۔ جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے تمھارا پروردگا اس سے بخوبی واقف ہے اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخش دینے والا ہے اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی میں مال نہ اڑاؤ اس لیے کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان تو اپنے رب کی نعمتوں کا کفر کرنے والا ہے۔

والدین کو اولاد سے بڑی امیدیں ہوتی ہیں اور والدین اپنے آپ کو اولاد پر کھپادیتے ہیں۔ بدلے میں وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد انکی فرمانبردار ہو اور انکے بڑھاپے کا سہارا بنے بظاہر تو اس بات میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی لیکن قرآن نے اولاد اور مال سے ایسی امیدیں لگانے روکا ہے۔ سورة الکہف کا اس حوالے سے خاص ہی مقام ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ مال اور اولاد محض دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔ اصل میں باقی رہنے والی چیز تو نیکیاں ہیں، جو تیرے رب کے نزدیک زیادہ بہتر ہیں نتیجے کے اعتبار سے بھی اور امید لگانے کے اعتبار سے بھی ۔ یعنی قرآن نے بین السطور بتادیا ہے کہ مال اور اولاد امید لگانے کی چیز نہیں ہیں۔امید لگانی ہے تو اپنے عمل سے لگاؤ ۔

0 comments:

Post a Comment