31 October, 2008

جو رب کرے سو ہو

ایک فقیر صدا لگا رہا تھا۔ جو رب کرے سو ہو ۔ کہ ایک پتھر اس کے سر میں آلگا فقیر نے پلٹ کردیکھا تو پتھر مارنے والا کہنے لگا مجھے کیا دیکھتے ہو ۔ جو رب کرے سو ہو۔ تو فقیر نے جواب دیا کہ مجھے تو یقینا یہ پتھر میرے رب کے اذن سے ہی لگا ہے لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ بیچ میں منہ کس کا کالا ہوا ہے۔

ہوتا تو وہی ہے جو رب چاہتا ہے۔لیکن اپنے ہم وطنوں کو اپنی ہی توپوں کے گولوں اور اپنے ہی جہازوں کے بموں سے ہلاک کرکے جو لوگ اپنا منہ کالا کررہے ہیںآخر یہ بھی تو کبھی کسی کو جواب دہ ہوں گے۔ یقینا دنیا میں اپنے سے برتر اس طاقت کو جو عدل کی علمبردار بن کر کھڑی ہوگی اور آخرت میںیہ سب لوگ جواب دہ ہوں گے اس ہستی کے سامنے جو تمام جہانوں کی رب ہے ۔ بس معاملہ صرف آزمائش کی چند گھڑیوں کا ہے یا اس ڈھیل کا ہے جو اس کی جناب سے ہمیشہ مجرموں کو ظالموں کو اور طاغوتی قوتوں کی دی جاتی ہے تاکہ وہ اس کے غضب کی پوری طرح حقدار بن جائیں یہ چند گھڑیاں بیچ میں حائل ہیں ان کے گزر نے کی دیر ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ یہ گھڑیاں آزمائش ہیں باجوڑکے غریب اور مظلوم عوام کے لیے کہ ان کا صبر آزمایا جارہا ہے اور یہ لمحے آزمائش ہیں پورے ملک کی عوام کے لیے کہ ان کی اپنے بھائیوں سے ہمدردی آزمائی جارہی ہے۔ یہ وقت آزمائش ہے پاکستان کے حکمرانوں کے لیے کہ ان کی نیتیں آزمائی جارہی ہیں۔ یہ ساعتیں آزمائش ہیںپوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے کہ انکی غیرتیں آزمائی جارہی ہیں اور یہ دن آزمائش ہیں پاکستانی فوج کے جوانوں کے لیے کہ ان کا ایمان آزمایا جارہا ہے اور جب سب آزمائے جا چکیں گے اس وقت میرے رب کا حکم آپہنچے گا اور مصیبت زدوں کو صبر کا، بدنیتوں کو بری نیت کا،بے حسوں کو بے حسی کا، بے غیرتوں کو بے غیرتی کا اور بے ایمانوں کو انکی بے ایمانی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔

یہ سب معاملات توایک طے شدہ منصوبے کہ تحت انجام پارہے ہیں اور آپ جانتے ہی ہیں کہ ایک منصوبہ تو وہ ہے جو وقت کے فرعون امریکہ نے بنارکھا ہے اور ہمارے حکمران جو اصل میں ہوا و ہوس کے پجاری ، بزدل اور نا اہل ہیںوہ اس ضمن میں اپنی خواہش نفس کی تکمیل کے لیے امریکہ کی آشیرباد حاصل کررہے ہیں لیکن ایک منصوبہ وہ بھی ہے جسے پیدا کرنے والا، پالنے والا اور زندہ رکھنے والا خود چلارہا ہے اور اس کے نمائندے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔

یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارا جدید پڑھا لکھا طبقہ عموما فرامین نبوی ۖ سے ایک دوری اور بیزاری کی کیفیت کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہودی اور خصوصا یہودیوں کے منصوبہ ساز احادیث مبارکہ کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور خصوصا وہ پیشین گوئیاں جو اللہ کے رسول اللہ نے یہودیوں اور ارض فلسطین کے مستقبل کے حوالے سے کی ہیںان پر یہودی منصوبہ سازوں کی خاص نظر ہے اور وہ ان کے توڑ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پراحادیث میں یہ مضمون بھی آیا ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ملکر مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ لڑیں گے تو یہودیوں کواس وقت مسلمانوں سے چھپنے اور بچنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملے گی یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے بھی چھپے گا تووہ پتھر پکار اٹھے گا کہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ رسول اللہ ۖنے فرمایا کے البتہ اگر کوئی یہودی غرقد کی جھاڑی میں چھپ جائے گا تو یہ جھاڑی یا غرقد کا یہ درخت اس یہودی کو پناہ دے دے گا اور آپ حیران ہوں گے کہ اس حدیث کو مدنظر رکھ کر یہودی این جی اوز اور خصوصا اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کے مختلف پراجیکٹس کے ذریعے دنیا بھر میں غرقد کے درخت لگوا رہے ہیں یادر ہے کہ اس درخت کو احادیث مبارکہ میں یہودیوں کا دوست درخت کہا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں یہ مضمون بھی آیا ہے کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو ان کی مدد کو آنے والے لشکر خراسان سے سیاہ جھنڈے لے کر نکلیں گے جن کے بارے کہا گیا کہ انہیں کوئی طاقت آگے بڑھنے سے روک نہ سکے گی ۔ یہاں تک کہ وہ لشکر اپنے جھنڈے ایلیا یعنی یروشلم میں لے جاکر گاڑ دیں گے۔ یاد رہے کہ سیاہ جھنڈے لیکر یہ لشکر خراسان سے نکلے گا۔ آپ حیران ہوں گے یہ بات سن کر کہ خراسان وہی علاقہ ہے جس پر اس وقت امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں لشکر کشی کر رہی ہیں اور امریکہ کے صدارتی امیدوار بارک اوبامہ نے تو اپنی الیکشن مہم کے دوران واشگاف الفاظ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اگر وہ صدر بن گیا تو وہ عراق سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا اور اور افغانستان کے محاذ پر مزید فوج بھیج کر پوری قوت سے حملہ کرے گا یہ اس لیے ہوگا کہ جو یہودی لابی اسے الیکشن میں سپورٹ کررہی ہے اس پر پیسہ لگا رہی ہے دراصل یہ اس کا ایجنڈہ ہے کہ خراسان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ ان الفاظ میں بارک اوبامہ نے یہودیوں کو ان کے اس ایجنڈے کی تکمیل کی خوشخبری سنائی ہے۔ تاکہ وہ اس کے ساتھ ڈٹے رہیں اور مال خرچ کرتے رہیں۔ علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ بہت پہلے فرما گئے تھے کہ "فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے" اس لیے امریکہ میں ہونے والے نو دو گیارہ کے واقعات اور دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ کے پیچھے اصل ہاتھ یہودیوں کا ہی ہے انہیں کے منصوبے اور سرمائے سے ہمارے ہمسائے میں اور اب ہمارے اپنے ملک میں یہ مکروہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ یہودی ایسا کیوں کررہے ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ احادیث نبوی میں آنے والی پیشین گوئیوں کو سامنے رکھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ تمام قوتیں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرکے ایک ایسی قوم تیار کررہی ہیں ، جو میزائیلوں ، بموں ، توپوں اور ہوائی جہازوں کے حملوں کی گھن گرج میں پروان چڑھے گی اور اسے پھر ان چیزوں سے ڈر نہیں بھی لگے گا یہ وہ نسل تیار ہورہی ہے جوجب سیاہ جھنڈے لیکر نکلے گی تو امریکہ کیا امریکہ کا باپ بھی انہیں روک نہیں سکے گا اور یہ سیدھے جائیں گے یروشلم اور وہاں جاکر جب یہ اپنے جھنڈے گاڑیں گے تو پھر یروشلم یہودیوں کاآخری قبرستان بن جائے گا اسی لیے ان مسلمانوں کو جو یہودیوں کے ساتھ ملکر انکے عزائم کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہوگا تو وہی جو رب چاہے گا لیکن بیچ میں منہ ان کا کالا ہوجائے گا۔

میں حیران ہوں کہ کس طرح یہودیوں کی ہی ٹیکنالوجی اور پیسے سے ان کے خلاف ایک ایسی فوج کی تیاری شروع ہوچکی ہے جس کا توڑان کے پاس نہیں ہوگا یہ ہے اللہ کا وہ منصوبہ جو اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ خود یہودیوں کے ہاتھوں مکمل ہونے جارہا ہے۔

ذرا سوچیں کہ اگریہی یہودی جو اس وقت بہترین اسلحے سے لیس نیٹو فورسز پر پیسہ پانی کی طرح بہا ر ہے ہیں۔ تاکہ وہ خراسانیوں پر حملہ آور ہوں ۔اگر اس سے کم پیسے خرچ کرکے اگروہ ان لوگوں کی ترقی کے اقدامات کرتے یہاں جدید علوم پڑھائے جاتے زندگی گزارنے کی جدید ترین سہولتیں مہیا کی جاتیں سڑکیں بنتیں ۔ میڈیا کو آزادی ملتی یہاں ٹیلی ویژن اور انٹرنٹ کا دور دورا ہوتا تو کیا یہاں ایسی نسل پروان چڑھ سکتی تھی جو اتنی جنگ جو اور نڈر ہوتی یا ایسی فوج تیار ہوسکتی تھی جو ان سپر طاقتوں سے ٹکر لینے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتی ۔ نہیں کبھی نہیں ۔ البتہ جو حالات اب پیدا ہوچکے ہیں آپ دیکھتے جائیںگے کہ وہ میرے نبی ۖ کے الفاظ کو کس طرح حرف بحرف سچ ثابت کرتے جائیں گے۔

البتہ اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمیں اس انتہائی نازک وقت میں اپنا کردار پہچاننا ہے اور اسے ادا کرنا ہے کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے گونگے شیطان بن کر بیٹھے رہے تو عین ممکن ہے کہ ہمارا نام بھی ان لوگوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے جو یہودیوں کے ساتھ مل کر اپنا منہ کالا کررہے ہیں جو نام کے مسلمان تو ہیں لیکن انجام کے لحاظ سے یہودی ہوں گے۔

0 comments:

Post a Comment