31 October, 2008

میڈیا کی آزادی

صدر صاحب نے فرمایا کہ میڈیا کو جو آزادی دی گئی تھی اس آزادی کے دوران میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہر ہ نہیں کیا۔ مثال انہوں نے دی کہ جس طرح امریکہ عراق میں جسموں کے چیتھڑے ادھیڑ رہا ہے یا افغانستان میں جس طرح ایک سپر پاور اپنے ہتھیاروں کی آزمائش کررہی ہے اس سے وہاں لاشیں گرتی ہیں جسم تڑپتے ہیں اور خون بہتا ہے لیکن میڈیا پر کچھ بھی نہیں دکھایا جاتااسی طرح کی ذمہ داری کا مظاہرہ پاکستانی آزاد میڈیا کو بھی کرنا چاہیے تھا۔ یعنی ملک میں لاشیں گرتی رہتیں کشت و خون ہوتا رہتالیکن میڈیا انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے سب اچھا دکھاتا رہتا تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس نہ پھیلتا لوگ خوش رہتے اور نتیجے کے طور پر ملک ترقی کی راہوں پر گامزن رہتا۔

لیکن پرائیویٹ آزاد میڈیا نے تو حد کردی ہے جہاں کوئی آپریشن ہورہا ہوتا ہے وہاں یہ لوگ اپنا کیمرہ لیکر پہنچ جاتے ہیں اور عوام کو وہ کچھ دکھانا شروع کردیتے ہیں جو عام طور پر عوام سے چھپایا جاتاہے ۔ اس سے عوام میں اپنے حقوق کی پامالی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عوام کڑھتے ہیں اورمشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل آتے ہیں یوںحکومت کی رٹ کمزور پڑ جاتی ہے اور ملک میں امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ان سارے خطرات سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ "نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری " اس میڈیا کی گردن دبا دو تو سب ٹھیک ہوجائے گا پہلے بھی سب ٹھیک ہی چل رہا تھا یہ تو اس میڈیا کے آنے سے حالات خراب ہوگئے ۔اس لیے میڈیا کی آزادی پر پابندی لگا نی ضروری تھی جو لگا دی گئی ہے۔

صدر کا وژن بہت کلیئر ہے کہ میڈیا کو آزادی ضرور دی گئی تھی لیکن اتنی آزادی نہیں دی گئی تھی کہ وہ سب کچھ دکھانا شروع کردے ۔ ہمیں بہر حال اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ آزاد میڈیا دیوانے کا خواب ہے اور درحقیقت میڈیا کہیں بھی آزاد نہیں ہے ۔ وہ ممالک بھی کہ جن کی دی ہوئی پالیسی ہمارے ملک میں چلتی ہے اور جن کی بات مان کر بغیر سوچے سمجھے آنکھیں بند کرکے ہم اپنے روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں ۔ وہاں بھی میڈیا آزاد نہیں ہے۔بلکہ انکے وژن کے مطابق میڈیا تو برین واشنگ اور ذہن سازی کا ایک موثر اور کارگر ہتھیار ہے۔

سیاہ کو سفید ثابت کرنے کے لیے ، رات کو دن دکھانے کے لیے ، اچھے کو برا کہنے کے لیے ، دوست کو دشمن بنانے کے لیے امریکہ بہادر کو طیاروں ، میزائلوں اور بموں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ کام میڈیا بڑی آسانی سے کردیتا ہے۔میڈیا کے ذریعے انقلاب لائے جاتے ہیں ، میڈیا کے ذریعے جنگیں لڑی جاتی ہیں میڈیا کے ذریعے تختے الٹے جاتے ہیں، میڈیا کے ذریعے حکومتیں گرائی جاتی ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ آزاد میڈیا سے بہرحال ممکن نہیں ہوتا اس کے لیے میڈیا کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے ۔ میڈیا کے گلے میں پٹہ ڈالنا پڑتا ہے بلکہ اسے سدھانا پڑتا ہے پھر اس پر سواری ممکن ہوتی ہے ورنہ یہ سرکش گھوڑا ہے جو اپنے سوار کو کسی بھی وقت اٹھا کر نیچے پٹخ سکتا ہے۔ابھی یہ بات ہمیں اپنے آقاؤں سے سیکھنی ہے اور اسے پلے باندھ کررکھنا ہے۔

پرائیویٹ اور آزاد میڈیا کس کا آئیڈیا تھا؟ آزاد میڈیا کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟پہلے بھی جنہیں سچ سننے کا بہت ہی شوق ہوتا تھا وہ بی بی سی کاجھوٹ سچ سن کر کچھ اندازے لگالیا کرتے تھے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔باقی سب تو بڑے مزے سے اپنے پاکستانی ٹی وی کو دیکھتے اور سنتے تھے جہاں راوی سب چین ہی چین لکھتاہے۔ اورہر وقت سب اچھا ہے کہ صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔

میڈیا کو آزادی دیتے وقت شاید صدر صاحب کو یہ خیا ل نہیں رہا تھاکہ ہماری بلی کل ہمیں کو میاؤں کرے گی۔ اس بلی کو تواسی لیے انہوں نے فارسی محاورے کی مار ماردی اور" گربہ کشتن روزِ اول" کے مصداق ایک ہی وار کرکے اس سے جان چھڑا لی ۔ ورنہ یہ میڈیا تو گلے کا چھچھوندر بن کر رہ گیا تھا جو نہ اگلا جائے اور نگلا جائے۔

0 comments:

Post a Comment