31 October, 2008

برتنے کا سامان

بڑھیا نے بیٹی کو آواز دی "بیٹی متاع لے آؤ" یہ سننا تھا کہ رازی کے کان کھڑے ہوگئے کہ دیکھیں اب یہ لڑکی کیا لیکر آتی ہے اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی جھاڑو لے آئی۔ رازی فرماتے ہیں کہ تب میں نے جانا کہ اس لفظ متاع کا اصل مفہوم کیا ہے۔ متاع کا اصل مفہوم معلوم ہوجانے کے بعد ہی انسان دنیا میں اپنی کوششوں کے لیے درست سمت کا انتخاب کرسکتا ہے۔ کوشش اور جدوجہد کرناایک اعلی انسانی وصف ہے اور اس کوشش کا ہدف مقرر ہونا پوری قوت صرف ہونے کی دلیل ہے۔

البتہ جس نے" متاع" جمع کرنے لیے اپنی تمام زندگی صرف کردی اس نے گھٹیااور کم ترین ہدف کا چناؤ کیا۔ یاد رہے کہ اس دنیا کی زندگی میں کوشش کرناناکامی کا باعث نہیں ہے بلکہ اس دنیا کے لیے کوشش کرنا ناکامی کا سبب ہے۔ان دونوں باتوں کو علیحدہ علیحدہ سمجھنا ضروری ہے۔جو کوئی بھی اس دنیا کے لیے کوشش کرے گا وہ ناکام رہے گا۔ باری تعالی نے فرمایا " واقعہ یہ ہے کہ وہ تمام چیزیں جو اس زمین پر ہیں، انہیں ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے اور بالاخر جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے ایک چٹیل میدان بنادیںگے" (کہف: 7-8) آیت میں استعمال ہونے والا لفظ" زینت" خاص طور پر سمجھے جانے کے قابل ہے ۔ ایک اور مقام پر باری تعلی نے فرمایا "زینت بنادی گئی ہے لوگوں کے لیے محبت ان رغبت والی چیزوں کی جو عورتوں میں، اولاد میں، سونے چاندی کے بڑے بڑے ڈھیروں میں، منتخب گھوڑوں میں، مال مویشی میںاور کھیتوں میں ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ تو دنیاوی زندگی کا سازو سامان ہے اوربہترین ٹھکانہ تو اللہ کے پاس ہے" (آل عمران:14) لفظ زینت یہاں مقصد اور ہدف کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے انسان کا مقصد کچھ اور ہوتاہے لیکن زینت اور رونق والی چیزیں اسے اپنی طرف متوجہ کرکے اسے اصل مقصد سے غافل کردیتی ہیں۔ ایک شخص کسی کام کے لیے بازار گیا اور وہاں کچھ چیزوں کی زینت نے اسے اپنی طرف اس طرح متوجہ کرلیا کہ وہ اپنے بازار آنے کے مقصدسے ہی غافل ہوگیا وہ بھول گیا کہ میں کیا سودا خریدنے آیا تھا۔ایک طالب علم کمرہ امتحان میں بیٹھا ہے ۔ کمرے کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا ہے ۔طالب علم کی نشست انتہائی آرام دہ ہے۔ کمرے میں رونق ہی رونق ہے ۔ ٹیلی ویژن چل رہا ہے خدمت گار کھانے پینے کی مختلف اشیاء لیکر حاضرہیں ایک اشارے پر لذیذ اور مرغوب کھانے پیش کردیتے ہیں۔ ایک ثقافتی طائفہ رقص پیش کررہا ہے ۔ ایک بینڈ مسلسل سریلی دھنیں سنا رہا ہے۔ ایک میلے کا سماں ہے۔ طالب علم اس زینت میں ایسے کھو جاتا ہے کہ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس کمرے میں امتحان دینے آیا تھا۔وہ کمرہ امتحان کی زینت میں کھو کر اپنے امتحان کو بھول جاتا ہے۔وہ بھول جاتا ہے کہ اسے تو اس کمرے میں چند گنی چنی ساعتیں ہی گزارنی ہیںجن میں اس نے اپنا کام مکمل کرنا ہے۔بقول شاعر:

قلزمِ ہستی سے ابھرا ہے تُو مانندِ حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

زندگی اسی طرح امتحان لیتی ہے کہ دنیا میں بھیجے جانے والے شخص کے ساتھ بہت سی زینت کی چیزیں لگا دی جاتی ہیں ان زینت والی چیزوں کے پیچھے اس کا مقصد اور ہدف چھپا دیا جاتا ہے۔جب انسان اس دنیا پر سطحی نگاہ ڈالتا ہے تو وہ اس زینت کو اصل مقصد سمجھ کر اس کو پالینے کی جدوجہد میں لگ جاتا ہے یوں یہ زینت اسے اپنے اندر گُم کرلیتی ہے۔ اوراس کا حال یہ ہوتا ہے کہ

"بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست"

لیکن ایک دیدہ بینا رکھنے والا انسان اپنے مقصد کو اس زینت کے پیچھے چھپا ہو ا پالیتا ہے اور سمجھ جاتا ہے کہ میرا اصل مقصداس زینت سے لطف اندوز ہونا نہیںہے۔ یہ زینت تو مجھے آزمانے کے لے ، میرا امتحان لینے کے لیے یہاں رکھی گئی ہے۔ ایسا انسان اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان کر اس کے حصول کے لیے تن من دھن لگا دیتا ۔ زندگی وہ بھی بھرپور انداز میں گزارتا ہے۔ ہادی برحق نے فرمایا کہ "دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی اجنبی یا راہ چلتا مسافر ہو" اور پھر زینت کے حوالے سے ہادی برحق نے انتہائی راست گوئی سے فرمایا کہ "مجھے تمھاری دنیا سے خوشبو اور عورت پسند ہے" لیکن سیرت کا مطالعہ ہمیںیہ بتادے گا کہ یہ دونوں چیزیں کبھی بھی ہادی برحق کی زندگی کا مقصد نہیں بنیں آپ نے انہیں زینت کے درجے میں پسند فرمایا اور استعمال کیا۔

باری تعالی نے فرمایا " دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے" (الحدید) الکتاب نے اس سب کچھ کو جو زمین پر ہے یا تو "متاع الحیات الدنیا " کہا ہے یا اسے "متا ع الغرور" کہا ہے ۔ یعنی برتنے کا سامان ، یا دھوکے کا سامان اس کے لیے جوعربی لفظ استعمال ہوا ہے وہ ہے "متاع" یہ لفظ متاع بھی بہت عجیب ہے امام رازی ایک بہت بڑے مفسر ہو گزرے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ لفظ متاع کے اصل معنی کی تلاش میں میں عرب کے ایک گاؤں میں چلا گیا تاکہ دیکھوں کہ گاؤں کے لوگ جہاں خالص عربی زبان بولی جاتی ہے وہ اس لفظ متاع کو کن معنوںمیںاستعمال کرتے ہیں۔ عربوں کے ہاں یہ روایت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو خالص عربی زبان سیکھنے کے لے بچپن سے ہی کسی گاؤں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ وہ اس خیال کے تحت کہ شہروں میں کیونکہ دوسرے علاقوں کے لوگ تجارت کی غرض سے آتے ہیں اور ان سے بول چال کی وجہ سے شہر والوں کی زبان خالص نہیں رہتی ۔ عرب اپنی زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے تمام غیر عربوں کو عجمی کہہ کر پکارتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے گونگا۔ اسی لیے امام رازی لفظ متاع کا اصل مطلب سمجھنے کے لیے عرب کے ایک گاؤں میں چلے گئے ۔ وہاں ایک گھر میں مہمان بن کر ٹھہرگئے ۔ تاکہ اپنی مراد حاصل کرسکیں جب ایک دن گھر کی اماں نے بیٹی کو متاع لانے کے لے بھیجا توامام رازی کے کان کھڑے ہوگئے جب بیٹی جھاڑو لیکر آئی تو امام رازی نے اس لفظ کا مطلب پالیا۔ جھاڑو ایک ایسی چیز ہے کہ یہ کسی بھی گھر کی ضرورت ہوتی ہے جھاڑو کے بغیر گھر کو سنوارنا اور صاف ستھرا رکھنا ناممکن ہوتا ہے۔ یہ انسانی استعمال کی چیز ہے لیکن جب ہم جھاڑو کو استعمال کرچکتے ہیں تو اس جھاڑو کو گھر کے کسی کونے کھدرے میں ایک معمولی چیز کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ ضرورت کے وقت نہایت اہم ہونے کے باوجود جھاڑو کوکوئی بھی شخص سینے سے لگا کر اور سنبھال کرنہیں رکھتابلکہ اسے استعمال کے فورا بعد حقارت سے پھینک دیا جاتاہے۔ امام رازی فرماتے ہیں اسی لیے قرآن نے دنیا کی زینت والی تمام چیزوں کو جن میں ہر قسم کا مال و دولت شامل ہے کو برتنے کی چیزیں یعنی "متاع" کہا ہے۔ اس لیے ہمارا رویہ بھی ان چیزوں کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے جیسے جھاڑو کے ساتھ ہوتا ہے یعنی ضرورت پوری کرو اور بس چھوڑ دو۔ ٹشو پیپر کے استعمال سے آج کے دور میں متاع کے مفہوم کو سمجھا جاسکتا ہے۔ قرآن نے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے لیے لفظ متاع استعمال کرکے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اس دنیا کو تم ایسے ہی استعمال کرو جیسے ایک ٹشو پیپر کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹشوپیپر حاصل کیا ، اسے استعمال کیا اور جب ضرورت پوری ہوگئی تو اسے پھینک دیا ،آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو استعمال کے بعد گندہ ٹشو پیپر سنبھال کر رکھتا ہو اور ٹشو پیپرز کو گن گن کر ان کا حساب رکھتا ہو۔ بلکہ یوں ہوتا ہے کہ ٹشو پیپر گھر میں ہونے ضروری ہیں اگر یہ نہیں ہوں گے تو صفائی ستھرائی قائم رکھنے میں مشکل پیش آئے گی ۔ ہاں جب ضرورت پوری ہوگئی تو ان کامقام کوڑے دان ہے نہ کہ آپکی بہترین قمیض کا جیب کہ جہاںآپ گندے ٹشو پیپرز رکھا کریں۔

0 comments:

Post a Comment