31 October, 2008

گفت و شنید

ایک دوست پوچھنے لگے کہ دشمن کتنی قسم کے ہوتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ دشمن تو دو ہی ہوتے ہیں۔ ایک آپکے دشمن کا دوست اور دوسرا آپکے دوست کا دشمن ۔ہنس کر بولے کہ دشمن تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک دشمن ، دوسرا جانی دشمن اور تیسرا رشتہ دار۔ اسی طرح جھوٹ کی بھی تین ہی قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک جھوٹ، دوسرا سفید جھوٹ اور تیسرے اعداد وشمار۔

ایمرجنسی کے نفاظ کے بعد آزاد میڈیا پر پابندی ہے اور سرکاری ٹیلی ویژن مسلسل امنِ عامہ کے اعدادو شمار جاری کررہا ہے ۔

--------------------

اُس دیہاتی سے تو آپ خوب واقف ہیں جو میلہ دیکھنے شہرگیا تھا اور اس کا کمبل چوری ہوگیا تھا۔ جب وہ واپس گاؤں پہنچا تو گاؤں والوں نے اس سے میلے کی روداد پوچھی تو کہنے لگا کہ میلہ کیا تھا؟ بس میرا کمبل چوری کرنے کے لیے یہ سب کھیل رچایا گیا تھا۔

آج کل جو میلہ ہمارے ملک میں لگا ہوا ہے یہ بھی شاید عدلیہ کا کمبل چوری کرنے کے لیے ہی لگایا گیا ہے۔

-----------------------

بزرگوں سے سنا تھا کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے اور جب سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستے میں بیٹھتا ہے۔

ہمارے ملک میں جس کی بھی موت آتی ہے وہ کرسی سے چمٹ جاتا ہے۔موت کی کرسی سے کون نہیں ڈرتا لیکن یہاں کرسی پر مرنے والے بہت ہیں۔

-------------------------

جس چھت کے چار میں سے دو ستون گر جائیں اس کے توازن کا کیا حال ہوگا؟ جدید ریاست کے چار ستون مانے جاتے ہیں ، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور میڈیا، انتظامیہ نے عدلیہ کو ڈھا دیا اور میڈیا کو گرا دیا، اب لنگڑی لولی دم توڑتی مقننہ کے ناتواں کندھوں میں اتنا دم کہاں ہے کہ وہ انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر اس چھت کو زیادہ دیر تک سہار سکے۔ ایسے موقعوں پر انگریزی کا ایک محاورہ بولا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے واقعات کے سائے پہلے ہی پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔مشورے کے درجے میں عرض ہے کہ اس سے پہلے کہ پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر جائے۔ منتظمِ اعلٰی کو نوشتہء دیوار پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ویسے بھی اس کرسی کی تاریخ کوئی اتنی تابناک نہیں ہے۔ بس ذرا ماضی قریب کے جھروکوں میں جھانک کر اپنے پیش روؤں کے انجام کی سبق آموز کہانی پڑھ لیں۔

---------------------

بچپن میں نانی جی سے شیخ چلی کی کہانی سنتے تھے ۔ جس کاایک سین یہ ہوتا تھا کہ شیخ چلی اسی ٹہنی کو کاٹتا ہے جس پر وہ خود بیٹھا ہوتا ہے۔جب پاس سے گزرنے والا ایک راہ گیر شیخ چلی کو ایسا کرنے سے منع کرتا ہے تو شیخ چلی اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ لیکن جب ٹہنی کٹ کرگرتی ہے اور شیخ صاحب زمین پر آجاتے ہیں تووہ بھاگ کر اس راہ گیر کے پاس جاتے ہیں کہ تُو تو سب کچھ جانتا ہے بتا میں کب مروں گا؟

آج کل ایسے راہ گیر کہاں جو شیخ چلی کو میسر تھے ۔ کاش کہ ایسا ہی کوئی راہ گیر ہمیں بھی مل جاتا جسے ہم اقتدار کے ایوانوں میں بھیجتے جہاںجاکر وہ ہمارے شیخ چلیوں کو بھی بتاتا کہ یہ ڈالی جس پر آپکا نشیمن ہے اسے نہ کاٹیے جب یہ کٹ کر گرے گی تو آپکے نشیمن کو ساتھ لیکر گرے گی۔

0 comments:

Post a Comment