31 October, 2008

جمھور کی سیاست

ہمارے ملک کی سیاست ۔اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔ ضیاالحق صاحب کا مارشل لاء دور ختم ہوا تو پہلے ہی الیکشن میں چالیس کے قریب نام نہاد سیاسی پارٹیاں میدان میں کود پڑیں۔ دو الیکشن ہوئے اور دھول چھٹ گئی سب تتر بتر ہوگئے نہ پارٹیاں رہیں اور نہ پارٹیوں والے رہے۔ پھر وہی گنی چنی چند پارٹیاں رہ گئیں جن کا واقعی صفحہ ہستی پہ کوئی وجود تھا۔ کچھ دیر کے لیے رکا ہوا سیاسی عمل لولے لنگڑے انداز میں اپنی تمام تر کوتاہیوں کے ساتھ چلااور پھر ایک آمر نے آکر اس کے تمام راستے مسدود کردیے ۔کسی ملک کا صحت مند سیاسی نظام ایک نیلگوں جھیل کی مانند ہوتا ہے جس کے صاف ستھرے پانی سے معاشرہ سیراب ہوتا ہے۔اجتماعیات انسانی کی آبیاری ہوتی ہے۔ سماج معاش اور سیاست کو اس سے تازگی اور صحت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن اس جھیل میں سے پانی کے بہنے کے عمل کو اگر روک دیا جائے توصاف پانی کی یہ جھیل گندے پانی کا ایک جوہڑ بن کر رہ جاتی ہے اور اس گندے پانی سے گھن آنے لگتی ہے یہ پانی جب معاشرے کے سماجی اور معاشی نظام کو سیراب کرتا ہے تو اس کا بھی ستیاناس ہوجاتا ہے۔ یہی حال اس وقت ہمارے سیاسی نظام کا ہے ۔ حرص و ہوس اور جاہ و مال کے پجاری اس نظام کو چلنے نہیں دیتے اور ملک و قوم کے مفادات کو پس پشت ڈال کرخونِ دہقاں و مزدور سے اپنے ذاتی مفاد کی آبیاری کرتے ہیں۔ظلم و ستم کا یہ بادل پہم برس رہا ہے۔ امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ غربت و افلاس کا عفریت جہالت اور پسماندگی کو ہوا دے رہا ہے۔حالات کا جبر اعلی اخلاقی اقدار کو پامال کررہا ہے۔ سفلی جذبات کو پروان چڑھانے کے لیے ماحول سازگار ہورہا ہے۔ آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔ مستقبل کی سنگینی اور ہلاکت خیزی نوشتہ دیوارہے۔ سیاسی عمل کو بار بار تہ و بالا کرکے سیاست کے اندر رواں تطہیرکے عمل کو روک دیا جاتا ہے۔جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کرپٹ سیاست دان بار بار معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو دھوکہ دینے آجاتے ہیں۔ عوام کو موقعہ نہیں ملتا کہ وہ ان سیاسی طالع آزماؤں کی درست جانچ پرکھ کرکے اپنا حق رائے دہی ان کے خلاف استعمال کرسکیں یوںجمھور سے ووٹ کا حق چھین کر اور جمھوریت کو بار بار فوجی آمریت کا ٹیکہ لگا کرملک کے سیاسی نظام کو شل کردیا جاتا ہے۔سرحدوں کے محافظ اسمبلیوں میں آبیٹھتے ہیں ۔ انہیں عوام اس ملک کے شہری نہیں بلکہ دشمن ملک کے سپاہی نظر آتے ہیں ملک میدان جنگ بن جاتا ہے۔ہر طرف افراتفری اور خون خرابے کا راج ہوتا ہے یہ ہے اس مملکت خداد پاکستان کی تاریخ جو پچھلے کئی عشروںسے مورخ کے قلم سے نہیں بلکہ بندوق کی گولی سے لکھی جارہی ہے۔ لیکن یادرہے کہ یہ صورت حال پیش خیمہ بن رہی ہے کسی انقلاب کا۔ انصاف کے راستے مسدود کردیے گئے ہیں اور انقلاب کے راستے کھل رہے ہیں۔ یہ انقلاب ایک عظیم طوفان ہوگا جوظلم کی فصیلوں کوجڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔ آیئے اس انقلاب کا انتظار کرنے کی بجائے اس کی راہ ہموار کریں۔ معاشرے میں پھر جائیں اپنے اردگردکو دیکھیں ذار ماحول پر نظر ڈالیں اور تلاش کریںایسی قوتوں اور اجتماعیتوںاور افراد کو کہ جنہوں نے اپنے آپ کواس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے اور اس جابرانہ سسٹم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے وقف کررکھا ہے اوروہ اپنی صلاحیتوں کومسلسل اس مقصد کے لیے خرچ کررہے ہیں ۔آگے بڑھیں اور دامے ، درمے ، سخنے ، قدمے مدد کریں ایسے افراد اور جماعتوں کی تاکہ جلد از جلد ظلم کی اس اندھیری رات کی صبح ہو اور تاریکی کے اس پردے سے روشن مستقبل کی سحر نمودار ہو ،عدل کی، استحکام کی ، بھائی چارے اور قوم کے وقار کی سحر۔ آئیں تلاش کریں ، اس کو جو اس سحرِ فروزاں کی آمد پر اپنا خون جگر نچھاو رکررہا ہے۔ وہ خواہ کوئی بھی ہو،کسی بھی فرقے اور قبیلے سے تعلق رکھتا ہو اس کا حق ہے کہ اس کا ساتھ دیا جائے مسلسل جدوجہد اور کشاکش کا یہ عمل صبر آزما بھی ہے اور محنت طلب بھی ، آئیے محنت کریں صبر کریں۔

یہ محنت اور کوشش کس طریقے پر ہو ،یعنی اس کا منہج کیا ہواس سلسلے میں گذارش یہ ہے کہ راستہ تو وہ چننا چاہیے جو بہترین ہو ۔رب نے خود فرمادیاہے کہ تمھارے لیے ہمارے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔مکہ جسے الکتاب بکہ بھی کہتی ہے۔ بکہ میں بھی حالات کچھ ایسے ہی تھے ۔اُس وقت البتہ بم دھماکے نہیں ہوتے تھے قتل و غارت ، چوری ڈاکے اسی طرح تھے ۔ آج چوری بھی بہت سائنٹفک ہوگئی ہے اور قتل غارت کی ٹیکنالوجی بھی بہت ترقی کر گئی ہے۔چور چوری کرجاتا ہے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوجاتا ہے لیکن ثبوت تلاش کرنے نکلیں تو نشان تک نہیں ملتا، سینکڑوں انسان ایک لمحے میں اپنے خون میں نہاجاتے ہیں لیکن کسی کے ہاتھ پر ان کے خون ناحق کا نشان تک نہیں ملتا ، سب کے ہاتھ صاف رہتے ہیں۔ اُس وقت ان شعبوں میں ایسی ترقی نہیں ہوئی تھی جتنی آج دیکھنے میں آرہی ہے۔اس وقت قاتل پہچان لیے جاتے تھے اورانتقام بھی لیا جاتاتھا۔ ایسے ہی حالات میں خیر البشر نے ایک فرد واحد کی حیثیت سے درستگی کے عمل کا آغاز کیااور رب فرماتا ہے کہ اگر تم بھی یہ کام کرنا چاہتے ہو تو بہترین نمونہ اسی زندگی سے ملے گا۔ نمونے اور رول ماڈل تو اور بھی بہت ہوں گے لیکن بہترین یقینا وہی ہے جس کی نشاندہی رب نے خود کردی۔ وہ نمونہ کیا تھا۔ عدل و انصاف کی بالادستی کے نظریے کی دعوت سے اس عمل کا آغاز ہوا۔ جنہوں نے مانا انہیں اکٹھا کرکے ایک قوت بنائی گئی جنہوں نے انکار کیا ان سے دلیل کے ساتھ بات کی جاتی رہی ۔ جو لوگ ساتھ آتے گئے ان کی تربیت کی جاتی رہی ، تربیت کی ترتیب اس طرح سے تھی کہ الکتاب کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی تھیں، اس سے تزکیہ ہوتا تھا،فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین کیا جاتا تھااور حکمت کی باتیں سکھائی جاتی تھیں۔ تربیت کی مراحل میں اہم ترین حکم یہ تھا کہ جب تک طاقت حاصل نہیں ہوئی تربیت کا عمل جاری ہے ، ظلم کو سہنا ہے اوراپنے اندر برداشت کا مادہ پیداکرناہے اور جب اتنی قوت حاصل ہوگئی کہ باطل نظام سے ٹکر لی جاسکتی تھی تو اس جدوجہد نے یہ رخ اختیار کیا کہ آگے بڑھ کر باطل کو للکارا گیا اور چیلنج کیا گیا، یہ للکار باطل کو میدان میں لے آئی حق و باطل میدان جنگ میں ٹکرائے حق کو فتح ہوئی باطل پسپا ہوگیا۔ رب نے کہہ دیا کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل مٹنے کے لیے ہی تھا۔ یہ کشمکش یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔ لیکن آج ہر میدان میں حق کے دعویداروں کو ناکامی ہورہی ہے۔ ہرجگہ پسپائی ان کا مقدر بن رہی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ آج حق کے پیروکاروں نے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا ہوا جسے رب نے بہترین طریقہ کہا ہے۔آئیں اس راستے کی طرف اس طریقے کی طرف جس کے خدوخال کا ایک نقشہ آپ سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جو جماعتیں آج اس طریقے پر کاربند ہیں، جسے رب نے بہترین بتایا ہے اور رب کے رسول نے کرکے دکھایا ہے ۔ ان کا ساتھ دیں کیونکہ یہی نجات اور کامیابی کی راہ ہے۔

وطن عزیز کے حوالے سے پہلا اور اولین تقاضہ ہے اس کی جان بچانا اور دوسرا تقاضہ ہے اسے مسلمان کرنا۔ریاست کو استحکام بخشنے کے لیے اس کی جان بچانے کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ اس ریاست کا کوئی نظام ہو جسے احسن طریقے سے چلنے دیا جائے ورنہ افراتفری اور لاقانونیت سے یہ سرزمین بے آئین بن کررہ جائے گی۔یہ صورت حال خود اس کے وجود کے لیے خطرے کا باعث ہے اور سیاسی نظام کو بار بار تہ و بالا کرکے کسی فرد واحد کی حکومت اس ملک میں چلے جو خود کسی کے حکم کا غلام ہو اور غیروں کے جوتے کی نوک چاٹتا ہے۔ اس نظام کے چلنے کو حق مان لیا جائے تو ہر وہ چیز باطل ہے جو اس نظام کو چلنے نہیں دیتی ۔ ہا ں جب اس ملک میں نظام کو چلنے دینے کی روایت پڑ جائے تو اس کے نظام کو درست رخ پر ڈالنے کی جدوجہد جو اس نظام کو صحیح معنوں میں رب کا نمائندہ نظام بنائے اور اس نعرے کی طرف پیش قدمی ہو ۔

الحکم للہ الارض للہ

0 comments:

Post a Comment