31 October, 2008

خود کشی کی وجہ بے بسی یا اسلام؟

نہ جانے کیوں شبیر اس معصوم سی جان کا دشمن بن گیاتھا۔اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ اسے ضرور سبق سکھائے گا۔ ایک روز جب وہ کمرے میں اکیلی تھی۔شبیر کمرے میں گھس گیا اور دروازے کو پیچھے سے کنڈی لگادی۔ اب وہ معصوم ننھی سی جان اس کے سامنے تھی اور جان گئی تھی کہ یہ شخص اب مجھے مار کر ہی دم لے گا۔وہ شبیر کے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈنڈا بھی دیکھ رہی تھی اور اس کے ارادے کو بھی بھانپ گئی تھی۔ اس نے اِدھر ُادھر دیکھا لیکن اسے بھاگنے کی کوئی راہ نظر نہ آئی۔کیونکہ شبیر نے بھاگنے کے تمام راستے بند کردیے تھے۔ جب وہ سمجھ گئی کہ اب فرار کی تمام راہیں مسدود ہوگئیں ہیں تو وہ چھوٹی سی بلی بپھری ہوئی شیرنی بن گئی اور اس نے شبیر پر حملہ کردیا اور اتنی تیزی سے حملہ کیا کہ شبیر گھبرا کر پیچھے ہٹا ڈنڈا اس کے ہاتھ سے گر گیا اور بلی نے اسے اپنے پنجوںسے زخمی کردیا ۔ شبیر کے پیٹ سینے اور چہرے پر زخم آئے وہ زخم خوردہ ہوکر شور مچانے لگا اور بلی سے دور ہوکر ایک کونے میں کھڑا ہوگیا اور بلی اتنے غصے میں آگئی کہ وہ بند دروازے کے سامنے جاکر بیٹھ گئی اور شبیر کی کمرے سے باہر نکلنے کی راہ کو مسدود کردیا۔ شبیر بند کمرے سے آوازیں دینے لگا کہ اسے کمرے سے باہر نکالیں باہر کھڑے دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیا ہوگیا ہے وہ باہر کیوں نہیں آرہا۔جب شبیر نے انہیں بتایا کہ بلی نے اس کا راستہ روکا ہوا ہے اور وہ اسے باہر نہیں آنے دیتی۔تو سب حیرت زدہ ہوگئے۔ سوچیں ایک چھوٹی سی بلی کو شیر کس نے بنایا ۔ جب آپ نے اسے گھیر کر کونے میں دھکیل دیا تو بلی شیر بن گئی۔ اسی طرح جب کسی انسان کے لیے فرار کے تمام راستے بند کر دیے جائیں اور اسے دیوار سے لگا دیا جائے تو پھروہ انسان انسان نہیں رہتا بلکہ خود کش بمبار بن جاتا ہے۔ نہ جانے ہمارے دانشوروں ، سیاستدانوں اور حکمرانوں کو یہ بات کب سمجھ آئے گی۔

کبھی آپ نے اس بات پر غور کیا کہ صرف مسلمان ہی کیوں دہشت گرد کہلاتے ہیں؟ آئیں اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ صرف مسلمان ہی کیوں بنیاد پرست اور انتہاپسند ہیں؟

اپنے ہی بچوں اور بیوی کا قاتل: ٹائیمز آن لائن اخبار میں خبرچھپی کہ ایک مسلمان نے امریکہ میں اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کردیا کیونکہ اس کا ایک بوائے فرینڈ تھا۔پھر اسی طرح یوکے کی ایک آن لائن اخبار دی انڈیپینڈینٹ میں خبر چھپی کہ ایک مسلمان نے اپنی بیوی اور اور بچوں کو اس لیے قتل کردیا کیونکہ وہ مغربی طرز زندگی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اسی طرح ایک اور آن لائن انگریزی اخبار لائیو لیک کی خبر ہے کہ ایک مسلمان باپ نے اپنی بیٹی کو قتل کردیا۔

ان اخبارات کو پڑھ کر آپ کو یقینا ایسا محسوس ہوگا کہ امریکہ اور انگلینڈ میں بسنے والے مسلمانوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو قتل کرتے پھرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہاں غیر مسلم کیا کررہے ہوتے ہیں۔ایک آن لائن اخبار guardtan.co.uk کی سرخی ہے باپ جو اپنے بچوں کو مار دیتے ہیں۔ ایک اور آن لائن اخبار NYCکی سرخی ہے وہ باپ گرفتار ہوگیا جس نے اپنی 13سالہ بیٹی کو قتل کردیا ۔ایک اور اخبار کی سرخی ہے کہ فیلاڈیلفیا میں ایک ماں نے بیان دیا کہ میرے شوہر نے بیٹے کو ویڈیو گیم کھیلنے پر قتل کردیا۔ گوگل آن لائن کی سرخی ہے کہ شوہر نے بیوی کو اذیت دینے کے لیے اپنے بیٹوں کو قتل کردیا۔ ایک اور اخبار نے سرخی جمائی کہ پولیس کے ذرائع کے مطابق ایک شخص نے اپنی بیوی اور دو معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا۔ دیکھا آپ نے میڈیانے واقعات کی کیسی تصویر کشی کی ہے؟ وہ کبھی یہ نہیں لکھیں گے کہ کسی ہندو، عیسائی یہودی یا بدھ نے اپنی بیٹی یا بیٹے کو قتل کردیا، بلکہ جب مسلمان کا معاملہ ہوگا تو اسے جلی حروف میںلکھیں گے ایک مسلمان نے یہ جرم کیا یہ اس لیے تاکہ آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ مسلمان ہی بنیاد پرست اور انتہاپسند ہیں۔

اسی طرح دہشت گردی کا معاملہ ہے جو مسلمانوں کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر WikiAnswers پر بار بار پوچھے جانے والے سوالات میں آپ کو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ 1960 سے اب تک" اسلامی" دہشت گردوں کے ہاتھوں کتنے امریکی قتل ہوئے؟ Telegraph.co.ukنے سرخی جمائی کہ مسلمان دہشت گرد چائناحملے میں مارے گئے۔BBC Newsکی ہیڈلائن ہے کہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں فائرنگ سے 33افراد ہلاک ہوگئے لیکن فائرنگ کرنے والے کا مذہب نہیں بتایا گیا کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھا۔ CNN.com/US کی سرخی ہے کہ ایلونائی یونیورسٹی امریکہ میںایک بندوق والے سمیت 6افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا لیکن ان لوگوں کے مذہب کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ یہ مسلمان نہیںتھے ۔ویسے قاتلوں کا لازما کوئی نہ کوئی مذہب اور عقیدہ تو ہوتا ہی ہے۔لیکن کسی بھی مجرم کا مذہب یا عقیدہ صرف اسی وقت لکھ جاتا ہے جب وہ مسلمان ہو۔

پھر بھی شاید آپ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ خودکش بمبار حملوں کا رواج تو مسلمانوں نے ہی ڈالا ہے۔اس لیے اصل دہشت گرد تومسلمان ہی ہیں۔کیونکہ جو خبریں آپ اخباروں میں پڑھتے ہیں وہ بھی اسی طرح کی ہوتی ہیں۔ مثلا ایک اسلامی خود کش بمبار نے یروشلم میں ایک بس پر حملہ کردیا۔ایک مسلمان بمبار نے حملہ کرکے 12افراد کو ماردیا۔اخبار BNET کی سرخی ہے کہ ایک مسلمان بمبار پر الزام ہے کہ اس نے بمبئی میں حملے کیے۔اگر یہ مسلمان تھے تو یہ کون ہیں۔The New York Times جولائی 12 ، 2008 کی سرخی ہے ۔ خود کش بمبار نے سری لنکا کے صدر پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا۔ایک اور آن لائن اخبار کی خبر ہے سری لنکا میں ایک خودکش بمبار نے ایک حکومتی اہلکار سمیت 13 افراد کو ہلاک کردیا۔

جنوبی ایشیا میں خود کش حملے کس نے متعارف کروائے۔لیبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلیم (LTTE) جو ایک نان مسلم تنظیم ہے انہوں نے 5جولائی 1987 میں Nelliady Army Camp پر پہلا خود کش حملہ کرکے 40 فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔یہ تنطیم اس وقت آزاد تامل ریاست کے لیے لڑ رہی ہے۔ انہوں نے 1987میں خود کش حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت سے اب تک یہ تقریبا 200 خود کش حملے کرچکے ہیں۔یہ بہت تباہ کن حملے تھے جن سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔یہ دنیا کی واحد تنظیم ہے جو خود کش حملے کے ذریعے ایک مملکت کے سربراہ کو قتل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔مئی 1993 میں انہوں سری لنکا کے صدر پریما داسا کو22اور لوگوں سمیت ایک خود کش حملے میں ہلاک کردیا۔اس تنظیم کی ایک خود کش بمبار نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کو اس وقت ہلاک کردیاجب وہ 1991 میں مدراس میں اپنی الیکشن مہم چلا رہے تھے۔17دسمبر 1999 کو اس تنظیم نے سری لنکن صدر چندریکا کمارا ٹونگا کو بھی ایک خود کش بمبار کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی جس میں وہ زخمی ہوگئیں البتہ ہلاک نہیں ہوئیں۔ان خودکش بمباروں کے مذہب کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ غیر مسلم ہیں۔

خود کشی اور خود کش حملوں کے بارے میںکچھ حقائق ضرور مدنظر رکھیں۔پرانے وقتوں سے خود کشی کا محرک عموما جنگ یا جنگ کے بعد شکست رہی ہے تاکہ گرفتاری اور گرفتاری کے بعد تشدد اور دشمن کی غلامی سے بچا جاسکے۔

رومن معاشرے میں خود کشی عزت برقرار رکھنے کا واحد راستہ سمجھا جاتا تھا۔رومن معاشرے میں جب عزت دار لوگ کسی بڑے جرم میں ملوث ہوجاتے تھے تو وہ اپنے خاندان کی عزت بچانے کے لیے اور عدالت کے سامنے پیش ہونے اور سزا سنائے جانے سے قبل ہی خود کشی کرلیتے تھے۔

جنوبی امریکہ کے بارانی جنگلات میں رہنے والے Kaiowasقبیلے نے حکومت کی طرف سے ان کا عقیدہ اور زمین چھینے جانے کے سبب بڑے پیمانے پر احتجاجاً خودکشی کرلی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں کے فوجی یونٹ ہتھیار ڈالنے کے بجائے آخری آدمی کے مر جانے تک لڑتے تھے۔انکے اس طریقے میں ان کے ہاں پائے جانے والےSamurai مجاہدوں کا طریقہ کار جھلکتا ہے جو دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے موت کو زندگی پر ترجیح دیتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد Viet Minh موت کے رضاکار جو فرانسیسی استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہدکررہے تھے۔ وہ فرانسیسی ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لیے ایک لمبی چھڑی جیسا بم ہاتھ میں پکڑ کر استعمال کرتے تھے۔ خود بھی تباہ ہوتے تھے اور ٹینکوں کو بھی تباہ کردیتے تھے۔

گیارہویں صدی کے فرانسیسی ربی رشی نے شہد کی مکھیوں کی طرح لڑنے کے طریقے کو رواج دیا یعنی جس طرح شہد کی مکھی ڈنگ مار کر مر جاتی ہے اسی طرح دشمن پر کاری زخم لگا کر مر جاؤ۔

جدید خود کش حملے جو بنیادی طور پر ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ان کا سراغ ہمیں اس وقت سے ملتا ہے جب روس کے Czar Alexander II کو 1881 میں قتل کیا گیا۔الیگزینڈر سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک گلی میں گاڑی چلاتے ہوئے خود کش حملے وجہ سے جو ایک ہاتھ سے بنے ہوئے دستی بم کے ذریعے کیا گیا تھا سے زخمی ہوگیا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

خود کی قربانی کا عمل جاپانی کامی کازی بمباروں نے جنگ عظیم دو م کے خاتمے کے قریب متعارف کروایا جب وہ خود بم میں بیٹھ کر اسے اڑاتے ہوئے ٹھیک اس کے ہدف تک پہنچاتے تھے۔

دریائے اوڈار پر لگے ہوئے روسی پلوں کو برلن کی لڑائی کے دوران خود کش بمباروں نے تباہ کیا۔

کروسیڈز کی ایک متنازع مثال یہ ہے کہ Knigths Templar نے اپنا ہی ایک جہاز اڑا دیا جس میں 140 عیسائی سوار تھے لیکن اس جہاز کے اڑائے جانے سے 1400 مسلمان شہید ہوئے۔

سترہویں صدی کے اوخر میں جب 1661 میں تائیوان پر قبضے کی جنگ لڑی جارہی تھی اس وقت زخمی ہونے والے ڈچ فوجی بجائے قیدی بننے کے اپنے آپ کو اور اپنے پکڑنے والے دونوں کو "بلیک پاؤڈر" بارود سے اڑادیتے تھے۔

جدید دور میںخود کشی یا خودکش حملے کی ایک مثال یہ بھی ہے جب بیلجین انقلاب کے دوران ڈچ لیفٹیننٹ جان وان سپیجک نے اپنا جہاز Antwerp کی بندرگاہ پر دھماکے سے اڑا دیا تاکہ بیلجین اسے قیدی نہ بنا سکیں۔

برطانوی استعمار کے خلاف بغاوت جو 1818 اور1848 میں ہوئی میں سنہالیوں نے برطانوی افواج کے خلاف کئی ایک خود کش حملے کیے۔ان حملوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ حملہ آور کھوکھلے درختوں کے تنوں میں اپنے بموں سمیت چھپ جاتے تھے اور جب برطانوی فوجی کانوائے ان کے قریب سے گزرتا تھا تو وہ اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیتے تھے۔

کیا یہ سب لوگ مسلمان تھے۔ یقینا نہیں۔ اسی لیے میڈیا کبھی ان خود کش بمباروں کا ذکر نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کا مذہب بتائے گا۔

پاکستانی افواج کے شیر دل اور سینہ سپر جوانوں نے بھی دفاع وطن کی خاطر اپنے جسم سے بم باندھ کر ہندوستانی ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر انھیں تباہ و برباد کرنے کی مثال قائم کی ہوئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے کب خودکش حملے کرنے شروع کیے؟ یہ 80 کی دھائی کی بات ہے جب مسلمانوں نے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف خودکش حملے شروع کیے۔ کیا یہ اس لیے ہوا کہ اسرائیل اور فلسطین کی آپس میں جنگ جاری ہے؟آپ نے دیکھی ہوگی یہ جنگ ایک طرف مسلح اسرئیلی فوجی اور دوسری طرف نہتے فلسطینی بچے ، ایک طرف ٹینک اور دوسری طرف سے ان ٹینکوں پر پھینکے جانے والے پتھر، ایک طرف امریکہ کی فیکٹریوں میں بنے ہوئے اسلحے کے ڈھیر اور دوسری طرف نہتے فلسطینی بچے جو پتھروں سے لیس ہیں۔ یہ ہے فلسطین اور اسرائیل کی وہ جنگ جس نے فلسطینیوں کوخودکش بمبار بننے پر مجبور کیا۔

خدانخواستہ اگر کبھی آپکے ساتھ ایسا ہو کہ کوئی جابر ، سنگدل اور پتھر دل فوجی اپنے جدید ترین اسلحے سے لیس ہوکر آپکے گھر میں گھس جائے اور آپکی عورتوں اور بچوں کو گولیوں سے بھون ڈالے تو آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ وہی کچھ نہیں کریں گے جو انسانی تاریخ میں بے بس اوربا غیرت لوگ کرتے رہے ہیں ۔ وہی کچھ جو دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں نے امریکیوں کے ساتھ کیا ۔ وہی کچھ جو اٹھارویں صدی میں سنہالیوں نے برطانویوں کے ساتھ کیا ۔ وہی کچھ جو رومی اپنی عزت بچانے کے لیے کرتے رہے ہیں۔ وہی کچھ جو فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف کررہے ہیں ۔

کیا ایسا نہیں ہے کہ نہتے ،بے بس، مجبورو لاچار اور باغیرت لوگ خواہ وہ کسی بھی زمانے یا تہذیب سے تعلق رکھتے ہوں انکا طریقہ کار ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔

سیکولر انڈیا

آئیں آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمھوریت ، سیکولر ڈیموکریٹک انڈیا کی سیر کرواتے ہیں۔

کچھ باتیں تاریخ کے جھروکے سے کیونکہ تاریخ کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ نے تاریخ بھلائی تو تاریخ نے آپ کو بھلادیا۔قوموں کی زندگی میں تاریخ کی حقیقت مسلمہ ہے۔ تاریخ یاد رکھنے کی شے ہے وقتا فوقتا اس میں جھانکتے رہنا ضروری ہے۔

آپ کو 1937 یاد ہے؟ جب ہندوستان کے گیارہ میں سے نو صوبوں میں کانگرس کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔اقتدار سنبھالتے ہی کانگرس نے ہندی زبان کو قومی اور دیوناگری زبان کو دفتری زبان قرار دے دیا تھا۔ گائے کو ذبح کرنا ممنوع قرار دے دیاتھا۔ سکولوں میں گاندھی جی کی تصویر کو پوجنا مسلمان بچوں کے لیے بھی ضروری قراردے دیا گیا ۔مسلم دشمنی پر مبنی "بانکم چندرا چترجی" کے ناول" آنند ماتھ" میں لکھے ہوئے گانے " بندے ماترم "کو قومی ترانہ قرار دے دیا گیا۔نئی مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگادی گئی۔ مسجدوں کے سامنے نماز کے اوقات میں ڈھول پیٹنے کا رواج پڑا۔

کیا آپ کو "وردہ تعلیمی سکیم " یاد ہے؟ کانگرس نے صوبوں میں ایک نئی تعلیمی پالیسی متعارف کروائی جس کانام تھا "وردہ تعلیمی سکیم " اس تعلیمی سکیم کا مرکزی خیال یہ تھا کہ مسلمان بچوں کو اسلامی نظریات سے متنفر کردو۔

کیا آپ کو" ویدیا مندر سکیم" یاد ہے؟ سی پی اور بہار کے صوبوں میں" ویدیا مندر سکیم" رائج کی گئی۔ جس کے تحت ایلیمنٹری لیول پر مندر کی تعلیم ہر ایک کے لیے لازم قراردے دی گئی۔

کیا آپ اس درد اور کرب کو محسوس کرسکتے ہیں جو کانگرس کے ان اقدامات کی وجہ سے سیکولر ہندوستان میں اقلیتوں پر روا رکھا گیا۔

گیاریں صدی کے آغاز میں مشہور مسلمان سائنس دان" البیرونی" نے ہندوستان کا سفر کیا البیرونی اپنے سفرنامے میں اپنے مشاہدات قلم بند کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہندو اور مسلمان بہت سے معاملات اور عادات میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں وہ کہتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کو "ملاچھ" یا ناپاک کہتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے ، کھانے اور پینے سے بھی پرہیز کرتے ہیں مبادا کہ کہیں وہ ناپاک نہ ہوجائیں۔ 22 مارچ 1940 کو قائد اعظم نے جو تقریر منٹو پارک لاہور میں کی تھی اس کا خلاصہ اور لب و لہجہ بھی وہی تھا جو البیرونی نے اپنے مشاہدات سے 1911میں قلم بند کیا تھا۔

آج ہمارے ملک پاکستان میں کچھ لوگ بہت زور و شور سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کیوں بنایا گیاتھا؟ اس ملک کو بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ لوگ یا تو اپنی تاریخ کو بھول گئے ہیں یا زندگی کی گہماگمی اور مصروفیات میں انہیں کبھی تاریخ کا مطالعہ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

میں نے مندجہ بالا سطور میں آپ کو اسی تاریخ کی ایک جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ توتھی تاریخ کی بات جو تاریخی حوالوں سے کی گئی۔ چلیں کچھ بات آج کے ہندوستان کی کرتے ہیں۔ تقسیم کے وقت دو مملکتیں وجود میں آئیں، ایک تھا پاکستان جہاں اسلامی قانون کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ دیا جانا تھا اور دوسری تھی ہندوستان یعنی ہندوؤں کی سرزمین جسے بے جا طور پر سیکولر انڈیا کہا گیا۔ ہمیں نام نہاد سیکولر ڈیموکریٹک ہندوستان میں پائی جانے والی ہندو انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں ضرور جان لینا چاہیے کہ ہندوستان میں ان تنظیموں کا اثر و نفوز اور کردار کیا ہے؟

آپ جانتے ہیں کہ یہ نعرہ کس ہندو تنظیم کا ہے؟ کہ ہندوستان کے مسلمان اور عیسائی کیونکہ ہندو سے مسلمان یا عیسائی بنے ہیں اس لیے انہیں اپنے آبائی مذہب یعنی ہندو ازم کی طرف واپس پلٹ جانا چاہیے اور جس مسلمان یا عیسائی کو یہ منظور نہ ہوتو اسے چاہیے کہ وہ ہندوستان چھوڑ دے۔

کیا آپ جانتے ہیں کونسی ہندو انتہا پسند تنظیم کا یہ نعرہ ہے کہ ہندوستان ہندوؤں کا ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ کون سی ہندو انتہا پسند تنظیم ایک خیراتی ادارے کے طور پرIRS Section 50-3-Cکے تحت امریکہ میں رجسٹرڈ ہے؟

ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریا سیوک سنکھ (آر ایس ایس) آج کی تمام ہندو انتہا پسند تنظیموں کی ماں ہے۔یہ 1925 میں قائم ہوئی تھی۔بدنام زمانہ آر ایس ایس 1948 میں اس وقت مشہور ہوئی جب اس تنظیم کے ایک رکن "نتھورام گوداس"نے گاندھی " باپو جی" کو پاکستان اور مسلمانوں کو ہندوستان میں برداشت کرنے کے جرم میں قتل کردیا۔

آر ایس ایس کے مطابق انڈین مسلمان اور عیسائی کیونکہ بنیادی طور پر ہندو سے مسلمان یا عیسائی بنے ہیں اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ واپس ہندو بن جائیں اور اگر انہیں ہندو بننا منظور نہیںہے تو انہیں ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

بی جے پی:بی جے پی کا قیام 1951میں عمل میں آیا اور 1980 تک اسے بھارتیا جناسنکھ (بی جے ایس) کہا جاتا تھا اور بنیادی طور پر اس کا قیام آر ایس ایس کے سیاسی ونگ کے طور پر عمل میں آیا تھا۔

بی جے پی نے ہندو انتہا پسندوں کوایسے ہتھکنڈوں اور نعروں سے مشتعل کیا جن سے ہندوستانی اقلیتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ مثلاً انہوں مسلم اکثریتی علاقے جموں وکشمیر کو دیا جانے والا خصوصی سٹیٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی نے ان شودروں کو جو مسلمان ہوچکے تھے واپس ہندو بنانے کی تحریک چلائی اور یہ بی جے پی ہی تھی جس نے 1984میںایودھیا کی بابری مسجد کو مسمار کرکے اس کی جگہ رام مندر بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔ اس طرح بی جے پی کے سیاست دانوںپھینکی وہی چنگاری سے آگ لگی اور دولاکھ ہندو انتہاپسند ہتھوڑے ، بہالے اور کدالیں لے کر بابری مسجد کو گرانے کے لیے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ۔ مسجد کی طرف مارچ کرتے ہوئے یہ انتہا پسند ہندو نعرے لگا رہے تھے کہ ہندوستان ہندو کا ہے اور مسلمانوں کی موت ہے۔ یوںبی جے پی نے بابری مسجد کو منہدم کروادیا۔

وی ایچ پی :یہ ایک اور ہندو انتہا پسند تنظیم ہے جو 1964میں قائم کی گئی۔1984تک یہ تنظیم بھی بابری مسجد کی جگہ رام جنم بھومی مندر بنانے کی تحریک میں پیش پیش رہی اور اس نے ہندو دیہاتیوں کو یہ راہ دکھائی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مذہبی اجتماعات منعقد کرکے اپنی مٹی سے رام جنم بھومی کی تعمیر کے لیے اینٹیں بنائیں اور ان اینٹوں کو ایودھیا بھیجیں۔

ایک دھائی سے زیادہ عرصہ گزرگیا ہے کہ وی ایچ پی کی شاخیں امریکہ میں بھی قائم اور اس کا ہیڈکواٹر ریاست کینٹکی میں ہے۔وی ایچ پی امریکہ میں ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کا لاکھوں ڈالر کا سالانہ چندہ ٹیکس سے مستثنٰی ہے۔ہر سال وی ایچ پی کے اعلی عہدیداران امریکہ کے دورے کرکے چندہ جمع کرتے ہیں۔ یہ چندہ براہ راست مسلمانوں کے خلاف پُرتشدد تحریکیں چلانے میں استعمال ہوتا ہے۔جن کے ذریعے مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو جلایا اور مسمار کیا جاتا ہے۔

شیو سینا: شیو سینا کا مطلب ہے شیوا جی کی فوج۔ یہ ایک قوم پرست سیاسی پارٹی ہے جس کی بنیاد 19 جون 1966کو بال ٹھاکرے نے رکھی۔ بال ٹھاکرے ہی اس وقت اس پارٹی کا صدر ہے۔شیوسینا پر بجا طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوادینے کے الزامات ہیں۔سینا پر ممبئی فسادات اور پھر 1992میں ایودھیامیں بابری مسجد کو گرانے کے واقعات میں بھرپور حصہ لینے کے الزامات ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پیدا ہونے والی کسی بھی مصالحت کو سبوتاژ کرنا سینا کا خصوصی ہدف ہے۔پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچوں کی پچوں کو تباہ کرنے کا کام بھی یہ تنظیم کئی مرتبہ انجام دے چکی ہے۔ مثلاً شیو سینا نے 1991 میں ممبئی سٹیڈیم کی پچ کو اکھاڑ دیا اور اسی طرح 1999 میں انہوں نے دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کی پچ کو کھود ڈالا۔

ایک ہندو مصنف شکنتہ مہتا نے اپنی کتاب Maximum City جواس نے2004 میں ممبئی شہر پر لکھی تھی ۔ میں شیو سینا کے بار ے میں لکھا ہے۔مصنف نے بال ٹھاکرے کو انٹرویوکیا اور شیو سینا کے اور بہت سے گلی محلے کے عہدیداروں سے انٹرویوز کیے جس میں انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اکثر پرتشدد بلوؤں کے پیچھے انہیں کا ہاتھ رہا ہے۔

ان بڑی بڑی تنظیموں کے علاوہ بھارت میں اور بہت سے چھوٹی چھوٹی ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھی ہیں۔ لیکن ہم یہاںصرف بڑے بڑے گروہوں کا ذکر ہی کرسکے ہیں۔

اللہ کا شکر اس بات پر بھی ادا کرنا ہے کہ موہن داس گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی 9/11 سے پہلے ہی قتل ہوگئے ورنہ ہندوستان نے ان کے قتل کا الزام بھی پاکستان میں موجود کسی نام نہاد مذہبی تنظیم کے سر تھوپ دینا تھا اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی حکام کے پاس اس کے ناقابل تردید ثبوت بھی مہیا ہوجاتے۔ بھلے موہن داس گاندھی کو دہلی میں ایک ہندو بنیاد پرست نے قتل کیاہو اور گولڈن ٹمپل کو مسمار کرنے کے الزام میں اندار گاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کیاہواور LTTE سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے راجیو گاندھی کو قتل کیاہو الزام بہرحال مسلمان مسلح جہادی گروپوں میںسے کسی پر دھرا جانا تھا۔

دراصل ہندو انتہا پسندی ہی نام نہاد سیکولر ڈیموکریٹک انڈیا کا اصل چہرہ ہیں۔سیکولر ڈیموکریٹک ہندوستان میں بابری مسجد کو شہید کیے جانے کے واقعے کو کون بہلا سکتا ہے ۔ اسی طرح سیکڑوں اور مسجدیں ہیںجو ہندوستان کے وجود میں آنے کے بعد تباہ و برباد کردی گئیں۔

سکھوں کے دلوں میں بھی اب تک انڈین آرمی کی طرف سے گولڈن ٹمپل کو مسمار کیے جانے کی یادیں تازہ ہوں گی اور کتنے ہی گردوارے ہیں جو ہندوستان کے وجود میںآنے کے بعد تباہ کردیے گئے۔

اس سیکولر ڈیموکریٹک ہندوستان کے وجود میں آنے کے بعد اڑیسہ اور ناگ پور میں جلائے جانے والے چرچ عیسائیوں کو اب تک یاد ہوں گے۔

حال ہی میں 25 اگست 2008 کو اڑیسہ میں ایک عیسائی نن کو زندہ جلادیا گیا اور ایک ہندو انتہا پسند نے ایک اور نن کی آبرو ریزی کی اور پھر ان واقعات کے نتیجے میں عیسائیوںکا قتل عام کیا گیا۔

اور یہی سیکولر ڈیموکریٹک انڈیا کی اصل تصویر ہے کہ ہزاروں مسلم، عیسائی، سکھ اور بدھ مذاہب کے لوگوں کو ناپاک اقلیتیں سمجھ کر قتل کردینا۔ان کو گھروں سے گھسیٹ کر زندہ جلا دینا انکی عورتوں کی عزتیں لوٹنا۔ہزاروں عورتیں اور بچے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔ گجرات کا قتل عام، ممبئی کے پرتشدد واقعات، پنجاب ، کشمیر ، اڑیسہ اور احمد آباد کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں۔

اللہ کا شکر ہے، احسان ہے اس اللہ کا جس نے ہمیں آزاد اور خودمختار پاکستان دیا۔ ایک ایسا وطن جو ایسی بیماریوں سے پاک ہے۔

آخر میں میں اس بات پر زور دوں گا کہ براہ مہربانی آزادی کی قیمت پہچانیے اور اس کی قدر کو جانیے۔ اس بات کو محسوس کریں کہ ایک آزاد پاکستان ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کتنا اہم ہے۔ پاکستان کی تعمیر کیجیے، پاکستان سے محبت کیجیے، پاکستان پائندہ باد۔

میرے پیارے بیٹے

سامنے کھڑکی میں ایک کوا آکر بیٹھا تو بوڑھے باپ نے جوان بیٹے سے پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ بابا یہ کوا ہے۔ باپ نے کچھ دیر بعد پھر پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ بابا آپ کو بتایا نا کہ یہ کوا ہے۔ باپ نے کچھ وقفہ دے کر پھر پوچھا کہ بیٹے یہ کیا ہے تو بیٹا برہمی سے بولا کہ آپ کو پتا نہیں چلتا کہ یہ کوا ہے میں کتنی مرتبہ آپ کو بتا چکا ہوں کہ یہ کوا ہے کوا۔ باپ نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ بیٹا ، بچپن میں جب یہی سوال تم مجھ سے سو مرتبہ پوچھتے تھے تو میں ہر مرتبہ تمھیں سمجھاتا تھا کہ یہ کوا ہے۔

میرے بیٹے جب میں بوڑھا ہوجاؤں گا توتم میرے ساتھ صبر سے پیش آنا اور مجھے سمجھنے کی کوشش کرنا۔

بیٹے دیکھنا جب میں کھانا کھاتے ہوئے اپنے کپڑے گندے کردوںاورمجھے کپڑے پہننا بھی نہ آئے تواس پربھی صبر کرنا اور یاد کرنا کہ کسی طرح میں نے تمھیں کپڑے پہننا، صاف رہنا اور جوتوں کے تسمے باندھنا سکھایا ۔

بیٹے بڑھاپے میں جب میں تم سے ایک ہی بات بار بار دھرا دھرا کربیان کروں تو تم صبر کرنا، مجھے ٹوکنا مت اور میری بات کو سنتے رہنا اور یاد کرنا کہ کس طرح بچپن میں ایک ہی کہانی میں تمھیں بار بار سناتا تھا اور سناتا ہی رہتا تھا جب تک کہ تم سو نہیں جاتے تھے۔

بیٹے جب میں نہانا نہ چاہوں تو تم مجھے ڈانٹنا مت اور نہ ہی مجھے شرم دلانا اور یاد کرنا کہ کس طرح بچپن میں میں تمھارے پیچھے بھاگتا تھا جب تم نہانا نہیں چاہتے تھے اور میں کس کس طرح تمھیں منانے کے لیے ہزاروں بہانے بناتا تھا۔

دیکھنا جب بڑھاپے میں مجھے کمپیوٹر اور نئی چیزوں کی سمجھ نہ آئے تو میرے اوپر ہنسنے کے بجائے مجھے وقت دینا اور سکھانے کی کوشش کرنا اور یاد کرنا میں نے تمھیں بہت سی چیزیں سکھائیں، اچھی طرح کھانا کھانا، صحیح طرح کپڑے پہننا ، زندگی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا تمھیں کس نے سکھایا؟

جب کبھی میں بھول جاؤں یا بولتے بولتے گفتگو کا سرا میرے ہاتھ سے نکل جائے تو مجھے یاد آنے کے لیے وقت دینا اور اگر مجھے یاد نہ بھی آئے تو محسوس نہ کرنا کیونکہ اصل بات گفتگو نہیں ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ تم میرے پاس بیٹھے رہو اور مجھے سنتے رہو۔

جب کبھی میرا کچھ کھانے پینے کو جی نہ چاہے تو مجھ پر جبر نہ کرنا، مجھے پتا ہے کب مجھے کھانا ہے اور کب نہیں کھانا۔

بیٹے جب میری کمزور ٹانگیں میرا سہارا نہ بن سکیں تو میرا ہاتھ تھام لینا بالکل اسی طرح جیسے میں نے تمھارا ہاتھ تھاما تھا جب تم اپنی زندگی کا پہلا قدم چلنے لگے تھے۔

بیٹے جب کبھی میں تمھیں کہوں کہ اب میں زندہ نہیں رہنا چاہتا تو مجھ سے ناراض نہ ہونا کیونکہ یہ بات تمھیں دیر سے سمجھ میں آئے گی کہ میری عمر میں جیا نہیں جاتا بلکہ زندہ رہا جاتا ہے۔

کسی دن تم اس بات کو بھی پالوگے کہ اپنی تمام تر غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود میں نے تمھارے لیے ہمیشہ بہترین چیز اور بہترین راستے کا انتخاب کیا ہے۔

اپنے بوڑھے باپ کو دیکھ کر غمگین نہ ہونا، غصے میں اپنے آپ کو لاچار یا مجبور نہ سمجھنا بلکہ میرے پاس رہنا اور میری مدد کرنا،جس طرح میں نے تمھاری مدد کی تھی جب تم اپنی زندگی کا آغاز کررہے تھے۔ تم صبر سے اور محبت سے میرا ہاتھ تھام کر میرے راستے پر چلانا اس کے بدلے میں میں تمھیں اپنی مسکراہٹ دوں گا اور اپنا پیار دوں گا۔

حکیم لقمان بہت دانا شخص تھے ۔ ان کی تعریف قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت یعنی دانائی عطا کی تھی اسی لیے وہ اللہ کا بہت شکر گزار تھا۔لقمان حکیم نے بھی اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلا کر کچھ نصیحتیں کی تھیں۔

پہلی بات انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہی کہ بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

حضرت لقمان کی دوسری نصیحت یہ تھی کہ بیٹا کوئی عمل جو خواہ رائی کے دانے کی طرح چھوٹا ہو اور وہ پھر اسے کسی چٹان کے اندر چھپ کر یا آسمانوں کی پنہائیوں میں کیا جائے یا زمین کے اندر گھس کر کیا جائے اللہ اسے قیامت کے دن نکال لائے گا کیونکہ اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔

تیسری نصیحت حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ کی کہ اے میرے بیٹے نماز قائم رکھنا، نیکی کا حکم دیتے رہنا اور بدی سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تم پر پڑے اس پر صبر کرنا کیونکہ یہ بہت ہمت کا کام ہے۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو چوتھی نصیحت یہ کی کہ لوگوں کے لیے اپنے گال پُھلا کر نہ رکھنا اور زمین پر اکڑ کرنہ چلنا کیونکہ اللہ کو اترانے والے شیخی خورے پسند نہیں ہیں۔

پانچویں نصیحت یہ کہ اپنی چال میں اعتدال پیدا کر اور بولتے وقت اپنی آواز کو پست رکھ کیونکہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

قرآن نے جہاں باپ کا ذکر کیا جو اپنے بیٹے کو نصیحتیں کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس طرح گزارے کہ وہ ایک کامیاب انسان بن جائے بالکل اسی طرح قرآن بیٹے کو بھی نصیحت کرتا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر تو سورة لقمان میں آیا ہے۔جبکہ سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالی بیٹوں کو انکے والدین کے حق میں یوں نصیحت فرماتے ہیں۔ تمھارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمھارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔ اور ادب سے ان کے آگے جھکے رہنا اور انکے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پالا ہے تو بھی انکے حال پر اسی طرح رحم فرما۔ جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے تمھارا پروردگا اس سے بخوبی واقف ہے اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخش دینے والا ہے اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی میں مال نہ اڑاؤ اس لیے کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان تو اپنے رب کی نعمتوں کا کفر کرنے والا ہے۔

والدین کو اولاد سے بڑی امیدیں ہوتی ہیں اور والدین اپنے آپ کو اولاد پر کھپادیتے ہیں۔ بدلے میں وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد انکی فرمانبردار ہو اور انکے بڑھاپے کا سہارا بنے بظاہر تو اس بات میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی لیکن قرآن نے اولاد اور مال سے ایسی امیدیں لگانے روکا ہے۔ سورة الکہف کا اس حوالے سے خاص ہی مقام ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ مال اور اولاد محض دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔ اصل میں باقی رہنے والی چیز تو نیکیاں ہیں، جو تیرے رب کے نزدیک زیادہ بہتر ہیں نتیجے کے اعتبار سے بھی اور امید لگانے کے اعتبار سے بھی ۔ یعنی قرآن نے بین السطور بتادیا ہے کہ مال اور اولاد امید لگانے کی چیز نہیں ہیں۔امید لگانی ہے تو اپنے عمل سے لگاؤ ۔

جو رب کرے سو ہو

ایک فقیر صدا لگا رہا تھا۔ جو رب کرے سو ہو ۔ کہ ایک پتھر اس کے سر میں آلگا فقیر نے پلٹ کردیکھا تو پتھر مارنے والا کہنے لگا مجھے کیا دیکھتے ہو ۔ جو رب کرے سو ہو۔ تو فقیر نے جواب دیا کہ مجھے تو یقینا یہ پتھر میرے رب کے اذن سے ہی لگا ہے لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ بیچ میں منہ کس کا کالا ہوا ہے۔

ہوتا تو وہی ہے جو رب چاہتا ہے۔لیکن اپنے ہم وطنوں کو اپنی ہی توپوں کے گولوں اور اپنے ہی جہازوں کے بموں سے ہلاک کرکے جو لوگ اپنا منہ کالا کررہے ہیںآخر یہ بھی تو کبھی کسی کو جواب دہ ہوں گے۔ یقینا دنیا میں اپنے سے برتر اس طاقت کو جو عدل کی علمبردار بن کر کھڑی ہوگی اور آخرت میںیہ سب لوگ جواب دہ ہوں گے اس ہستی کے سامنے جو تمام جہانوں کی رب ہے ۔ بس معاملہ صرف آزمائش کی چند گھڑیوں کا ہے یا اس ڈھیل کا ہے جو اس کی جناب سے ہمیشہ مجرموں کو ظالموں کو اور طاغوتی قوتوں کی دی جاتی ہے تاکہ وہ اس کے غضب کی پوری طرح حقدار بن جائیں یہ چند گھڑیاں بیچ میں حائل ہیں ان کے گزر نے کی دیر ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ یہ گھڑیاں آزمائش ہیں باجوڑکے غریب اور مظلوم عوام کے لیے کہ ان کا صبر آزمایا جارہا ہے اور یہ لمحے آزمائش ہیں پورے ملک کی عوام کے لیے کہ ان کی اپنے بھائیوں سے ہمدردی آزمائی جارہی ہے۔ یہ وقت آزمائش ہے پاکستان کے حکمرانوں کے لیے کہ ان کی نیتیں آزمائی جارہی ہیں۔ یہ ساعتیں آزمائش ہیںپوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے کہ انکی غیرتیں آزمائی جارہی ہیں اور یہ دن آزمائش ہیں پاکستانی فوج کے جوانوں کے لیے کہ ان کا ایمان آزمایا جارہا ہے اور جب سب آزمائے جا چکیں گے اس وقت میرے رب کا حکم آپہنچے گا اور مصیبت زدوں کو صبر کا، بدنیتوں کو بری نیت کا،بے حسوں کو بے حسی کا، بے غیرتوں کو بے غیرتی کا اور بے ایمانوں کو انکی بے ایمانی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔

یہ سب معاملات توایک طے شدہ منصوبے کہ تحت انجام پارہے ہیں اور آپ جانتے ہی ہیں کہ ایک منصوبہ تو وہ ہے جو وقت کے فرعون امریکہ نے بنارکھا ہے اور ہمارے حکمران جو اصل میں ہوا و ہوس کے پجاری ، بزدل اور نا اہل ہیںوہ اس ضمن میں اپنی خواہش نفس کی تکمیل کے لیے امریکہ کی آشیرباد حاصل کررہے ہیں لیکن ایک منصوبہ وہ بھی ہے جسے پیدا کرنے والا، پالنے والا اور زندہ رکھنے والا خود چلارہا ہے اور اس کے نمائندے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔

یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارا جدید پڑھا لکھا طبقہ عموما فرامین نبوی ۖ سے ایک دوری اور بیزاری کی کیفیت کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہودی اور خصوصا یہودیوں کے منصوبہ ساز احادیث مبارکہ کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور خصوصا وہ پیشین گوئیاں جو اللہ کے رسول اللہ نے یہودیوں اور ارض فلسطین کے مستقبل کے حوالے سے کی ہیںان پر یہودی منصوبہ سازوں کی خاص نظر ہے اور وہ ان کے توڑ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پراحادیث میں یہ مضمون بھی آیا ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ملکر مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ لڑیں گے تو یہودیوں کواس وقت مسلمانوں سے چھپنے اور بچنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملے گی یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے بھی چھپے گا تووہ پتھر پکار اٹھے گا کہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ رسول اللہ ۖنے فرمایا کے البتہ اگر کوئی یہودی غرقد کی جھاڑی میں چھپ جائے گا تو یہ جھاڑی یا غرقد کا یہ درخت اس یہودی کو پناہ دے دے گا اور آپ حیران ہوں گے کہ اس حدیث کو مدنظر رکھ کر یہودی این جی اوز اور خصوصا اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کے مختلف پراجیکٹس کے ذریعے دنیا بھر میں غرقد کے درخت لگوا رہے ہیں یادر ہے کہ اس درخت کو احادیث مبارکہ میں یہودیوں کا دوست درخت کہا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں یہ مضمون بھی آیا ہے کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو ان کی مدد کو آنے والے لشکر خراسان سے سیاہ جھنڈے لے کر نکلیں گے جن کے بارے کہا گیا کہ انہیں کوئی طاقت آگے بڑھنے سے روک نہ سکے گی ۔ یہاں تک کہ وہ لشکر اپنے جھنڈے ایلیا یعنی یروشلم میں لے جاکر گاڑ دیں گے۔ یاد رہے کہ سیاہ جھنڈے لیکر یہ لشکر خراسان سے نکلے گا۔ آپ حیران ہوں گے یہ بات سن کر کہ خراسان وہی علاقہ ہے جس پر اس وقت امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں لشکر کشی کر رہی ہیں اور امریکہ کے صدارتی امیدوار بارک اوبامہ نے تو اپنی الیکشن مہم کے دوران واشگاف الفاظ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اگر وہ صدر بن گیا تو وہ عراق سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا اور اور افغانستان کے محاذ پر مزید فوج بھیج کر پوری قوت سے حملہ کرے گا یہ اس لیے ہوگا کہ جو یہودی لابی اسے الیکشن میں سپورٹ کررہی ہے اس پر پیسہ لگا رہی ہے دراصل یہ اس کا ایجنڈہ ہے کہ خراسان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ ان الفاظ میں بارک اوبامہ نے یہودیوں کو ان کے اس ایجنڈے کی تکمیل کی خوشخبری سنائی ہے۔ تاکہ وہ اس کے ساتھ ڈٹے رہیں اور مال خرچ کرتے رہیں۔ علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ بہت پہلے فرما گئے تھے کہ "فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے" اس لیے امریکہ میں ہونے والے نو دو گیارہ کے واقعات اور دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ کے پیچھے اصل ہاتھ یہودیوں کا ہی ہے انہیں کے منصوبے اور سرمائے سے ہمارے ہمسائے میں اور اب ہمارے اپنے ملک میں یہ مکروہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ یہودی ایسا کیوں کررہے ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ احادیث نبوی میں آنے والی پیشین گوئیوں کو سامنے رکھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ تمام قوتیں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرکے ایک ایسی قوم تیار کررہی ہیں ، جو میزائیلوں ، بموں ، توپوں اور ہوائی جہازوں کے حملوں کی گھن گرج میں پروان چڑھے گی اور اسے پھر ان چیزوں سے ڈر نہیں بھی لگے گا یہ وہ نسل تیار ہورہی ہے جوجب سیاہ جھنڈے لیکر نکلے گی تو امریکہ کیا امریکہ کا باپ بھی انہیں روک نہیں سکے گا اور یہ سیدھے جائیں گے یروشلم اور وہاں جاکر جب یہ اپنے جھنڈے گاڑیں گے تو پھر یروشلم یہودیوں کاآخری قبرستان بن جائے گا اسی لیے ان مسلمانوں کو جو یہودیوں کے ساتھ ملکر انکے عزائم کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہوگا تو وہی جو رب چاہے گا لیکن بیچ میں منہ ان کا کالا ہوجائے گا۔

میں حیران ہوں کہ کس طرح یہودیوں کی ہی ٹیکنالوجی اور پیسے سے ان کے خلاف ایک ایسی فوج کی تیاری شروع ہوچکی ہے جس کا توڑان کے پاس نہیں ہوگا یہ ہے اللہ کا وہ منصوبہ جو اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ خود یہودیوں کے ہاتھوں مکمل ہونے جارہا ہے۔

ذرا سوچیں کہ اگریہی یہودی جو اس وقت بہترین اسلحے سے لیس نیٹو فورسز پر پیسہ پانی کی طرح بہا ر ہے ہیں۔ تاکہ وہ خراسانیوں پر حملہ آور ہوں ۔اگر اس سے کم پیسے خرچ کرکے اگروہ ان لوگوں کی ترقی کے اقدامات کرتے یہاں جدید علوم پڑھائے جاتے زندگی گزارنے کی جدید ترین سہولتیں مہیا کی جاتیں سڑکیں بنتیں ۔ میڈیا کو آزادی ملتی یہاں ٹیلی ویژن اور انٹرنٹ کا دور دورا ہوتا تو کیا یہاں ایسی نسل پروان چڑھ سکتی تھی جو اتنی جنگ جو اور نڈر ہوتی یا ایسی فوج تیار ہوسکتی تھی جو ان سپر طاقتوں سے ٹکر لینے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتی ۔ نہیں کبھی نہیں ۔ البتہ جو حالات اب پیدا ہوچکے ہیں آپ دیکھتے جائیںگے کہ وہ میرے نبی ۖ کے الفاظ کو کس طرح حرف بحرف سچ ثابت کرتے جائیں گے۔

البتہ اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمیں اس انتہائی نازک وقت میں اپنا کردار پہچاننا ہے اور اسے ادا کرنا ہے کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے گونگے شیطان بن کر بیٹھے رہے تو عین ممکن ہے کہ ہمارا نام بھی ان لوگوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے جو یہودیوں کے ساتھ مل کر اپنا منہ کالا کررہے ہیں جو نام کے مسلمان تو ہیں لیکن انجام کے لحاظ سے یہودی ہوں گے۔

سودی نظام کی خرابیاں اوراس کا متبادل

آج کی اس نشت کیلئے جو موضوع تجویز کیا گیا ہے وہ ربا سے متعلق ہے۔ جس کو اردو میں سود کہا جاتا ہے۔ اور غالباًاس موضوع کو اختیار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یوں تو ساری دنیا میں اس وقت سود کا نظام چلا ہوا ہے لیکن بالخصوص مغربی دنیا میں بیشتر معاشی سرگرمیاں سود کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو قدم قدم پر یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ کس طرح معاملات کریں اور سود سے کس طرح چھٹکارا حاصل کریں۔

اور آج کل مختلف قسم کی غلط بہمیاں بھی لوگوں کے درمیان پھیلائی جاریہ ہیں کہ آج کل معاشی زندگی میں جو سود چل رہاہے وہ درحقیقت حرام نہیں ہے اس لئے کہ یہ اس ربا کی تعریف میں داخل نہیں ہوتا جس کو قرآن کریم نے حرام قراردیا تھا۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے اس وقت یہ موضوع دیا گیا ہے کہ میں اس موضوع پر جو بنادی معلومات ہیں وہ قرآن و سنت اور موجودا حالات کی روشنی میں آپ کے سامنے پیش کروں۔

سودی معاملہ کرنے والوں کیے لئے اعلان جنگ

سب سے پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ سود کو قرآن کریم نے اتنا بڑا گناہ قراردیا ہے کہ شاید کسی اور گناہ کو اتنا بڑا گناہ قرار نہیں دیا مثلا شراب نوشی، خنزیر کھانا، زناکاری، بدکاری وغیرہ کے لیے قرآن کریم میں وہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے جو سود کے لیے استعمال کیے گئے ہیں چناچہ فرمایا کہ : اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور سود کا جو حصہ بھی رہ گیا ہو اس کو چھوڑ دو۔ اگر تمھارے اندر ایمان ہے اگر تم سود کو نہیں چھوڑو گے ، یعنی سود کے معاملات کرتے رہوگے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو یعنی ان کے لیے اللہ کی طرف سے لڑائی کا اعلان ہے یہ اعلان جنگ اللہ تعالی کی طرف سے کسی بھی گناہ پر نہیں کیا گیا۔

چناچہ جو لوگ شراب پیتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے خلاف اعلان جنگ ہے یا جو خنزیر کھاتے ہیں ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ لیکن سود کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ سود کے معاملات کو نہیں چھوڑتے ان کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے اتنی سخت اور سنگین وعید اس پر وارد ہوئی ہے اب سوال یہ ہے کہ اس پر سنگین اور سخت وعید کیوں ہے؟ اس کی تفصیل انشاء اللہ آگے معلوم ہوجائے گی۔

سود کس کو کہتے ہیں؟

لیکن اس سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سود کس کو کہتے ہیں؟ سود کیا چیز ہے اس کی تعریف کیا ہے؟ جس وقت قرآن مجید نے سود کو حرام قرار دیا اس وقت اہل عرب میں سود کا لین دین متعارف اور مشہورتھا۔ اس وقت سود اسے کہا جاتا تھا کہ کسی شخص کو دیئے ہوئے قرض پر طے کرکے کسی بھی قسم کی زیادہ رقم کا مطالبہ کیا جائے اسے سود کہا جاتا تھا۔ مثلا میں نے آج ایک شخص کو سور روپے بطور قرض دیئے ۔ اور میں اس سے کہوں کہ میں ایک مہینے کے بعد یہ رقم واپس لوں گا اور تم مجھے ایک سو دوروپے واپس کرنا اور یہ پہلے سے میںنے طے کردیا کہ ایک ماہ بعد ایک سودوروپے واپس لوں گا۔ تو یہ سود ہے۔

معاہدہ کے بغیر زیادہ دینا سود نہیں!

پہلے سے طے کرنے کی شرط اس لئے لگائی کہ اگر پہلے سے کچھ طے نہیں کیا ہے مثلا میں نے کسی کو سوروپے قرض دے دیے اور میں نے اس سے مطالبہ نہیں کیا کہ تم مجھے ایک سودوروپے واپس کرو گے لیکن واپسی کے وقت اس نے اپنی خوشی سے مجھے ایک سودوروپے دے دیئے۔ اور ہمارے درمیان یہ ایک سودوروپے واپس کرنے کی بات طے شدہ نہیں تھی تو یہ سود نہیں ہے اور حرام نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔

قرض کی واپسی کی عمدہ شکل!

خود حضور اقدس ۖ سے ثابت ہے کہ جب آپ کسی کے مقروض ہوتے تو وہ قرض خواہ قرض کا مطالبہ کرتا تو آپ وہ قرض کچھ زیادگی کے ساتھ بڑھتا ہوا واپس فرماتے ، تاکہ اس کی دل جوئی ہوجائے لیکن یہ زیادتی چونکہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتی تھی اس لیے وہ سود نہیں ہوتی تھی اور حدیث کی اصطلاح میں اس کو حسن القضاء کہا جاتا ہے یعنی اچھے طریقے سے قرض کی ادائیگی کرنا اور ادائیگی کے وقت اچھا معاملہ کرنا اور کچھ زیادہ دے دینا یہ سود نہیں ہے بلکہ نبی کریم ۖ نے یہاں تک فرمایا کہ یعنی تم میں بہترین لوگ وہ ہیںجو قرض کی ادائیگی میں اچھا معاملہ کرنے والے ہوں۔

لیکن اگر کوئی شخص قرض دیتے وقت یہ طے کرلے میں جب واپس لوں گا تو زیادتی کے ساتھ لوں گا اس کو سود کہتے ہیں۔ اور قرآن کریم نے اسی کو سخت اور سنگین الفاظ کے ساتھ حرام قراردیا ۔ اور سورہ بقرہ کے تقریبا پورے دو رکوع اس سود کی حرمت پر نازل ہوئے ہیں۔

قرآن کریم نے کس سود کو حرام قراردیا ہے؟

بعض اوقات ہمارے معاشرے میںیہ کہا جاتا ہے کہ جس سود کو قرآن کریم نے حرام قراردیا تھا۔ وہ درحقیقت یہ تھا کہ اس زمانے میں قرض لینے والا غریب ہوتا تھا۔ اور اس کے پاس روٹی اور کھانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے اگر وہ بیمار ہے تو اس کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے اگر گھر میں کوئی میت ہوگئی ہے تو اس کے پاس اس کو کفنانے اور دفنانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے ایسے موقع پر وہ غریب بیچارہ کسی سے پیسے مانگتا تو وہ قرض دینے والا اس سے کہتا کہ میں اس وقت تک قرض نہیںدوں گا جب تک تم مجھے اتنا فیصد زیادہ واپس نہیں دوگے تو چونکہ یہ ایک انسانیت کے خلاف بات تھی کہ ایک شخص کو ایک ذاتی ضرورت ہے اور وہ بھوکا ننگا ہے ایسی حالت میں اس کو سود کے بغیر پیسے فراہم نہ کرنا ظلم اور زیادتی تھی اسے لیے اللہ تعالی نے اس کو حرام قراردیا اور سود لینے والے کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

لیکن ہمارے دور میں اور خاص طور پر بینکوں میںجو سود کے ساتھ روپے کا لین دین ہوتا ہے اس میں قرض لینے والا کوئی غریب اور فقیر نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات وہ بڑا دولت مند اور سرمایہ دار ہوتا ہے۔اور وہ قرض اس لیے نہیں لیتا کہ اس کے پاس کھانے کو نہیں ہے یا اس کے پاس پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہیں۔ یا وہ کسی بیماری کے علاج کے لیے قرض نہیں لے رہا ہے بلکہ وہ اس لیے قرض لے رہا ہے تاکہ ان پیسوں کی اپنی تجارت اور کاروبار میں لگائے اور اس سے نفع کمائے۔ اب اگر قرض دینے والا شخص یہ کہے کہ تم میرے پیسے اپنے کاروبار میں لگاؤ گے ۔ اور نفع کماؤ گے تو اس نفع کا دس فیصد بطور نفع کے مجھے دو تو اس میں کیا قباحت اور برائی ہے ؟ اور یہ وہ سود نہیں ہے جس کو قرآن مجید نے حرام قراردیا ہے یہ اعتراض دنیا کے مختلف خطوں میں اٹھایا جاتا ہے۔

تجارتی قرض ابتدائی زمانے میں بھی تھے

ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ یہ کاروباری سود اور یہ تجارتی قرض حضور اقداس ۖ کے زمانے میںنہیں تھے بلکہ اس زمانے میں ذاتی اخراجات اور ذاتی استعمال کے لیے قرضے لیے جاتے تھے لہذا قرآن کریم اس کو کیسے حرام قرار دے سکتا ہے جس کا اس زمانے میں وجود ہی نہیں تھا۔ اس لیے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے جس سود کو حرام قراردیا وہ غریبوں اور فقیروں والا سود دتھا او ر یہ کاروباری سود حرام نہیں ہے۔

صورت بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی!

پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی چیز کے حرام ہونے کے لیے یہ بات ضروری نہیں کہ وہ اس خاص صورت میںحضور اقدس ۖ کے زمانے میں بھی پائی جائے اور حضور ۖ کے زمانے میں اس انداز سے اس کا وجود بھی ہو۔ قرآن کریم جب کسی چیز کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کی ایک حقیقت اس کے سامنے ہوتی ہے اور اس حقیقت کو وہ حرام قرار دیتا ہے چاہے اس کی کوئی خاص صورت حضور اقدس ۖ کے زمانے میں موجود ہو یا نہ ہو اس کی مثال یوں سمجھیں کہ قرآن کریم نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اور شراب کی حقیقت یہ ہے کہ ایسا مشروب جس میں نشہ ہو اب آج اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ صاحب آجکل کی یہ وہسکی بیئر اور برانڈی حضور اقدس ۖ کے زمانے میں تو نہیں پائی جاتی تھی۔

لہذا یہ حرام نہیں ہے تو یہ بات صحیح نہیں ہے اس لیے کہ حضور ۖ کے زمانے میں اگرچہ یہ اس خاص شکل میںموجود نہیں تھی لیکن اس کی حقیقیت یعنی ایس مشروب جو نشہ آور ہو موجود تھی او آنحضرت ۖ نے اس کو حرام قراردے دیا تھا۔ لہذا اب وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوگی، اب چاہے شراب کی نئی شکل آجائیاور اسکا نام چاہے وہسکی رکھ دیا جائے یا برانڈی رکھ لو یا بئیر رکھ لو یا کوک رکھ لو نشہ آور مشروب ہر شک اور ہر نام کے ساتھ حرام ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ کمرشل لون چونکہ اس زمانے میں نہیں تھے بلکہ آج پیدا ہوئے ہیں ۔ اسے لیے حرام نہیں ہیں۔ یہ خیا ل درست نہیں ۔

ایک لطیفہ!

ایک لطیفہ یاد آیا ہندوستان کے اند ایک گوّیا (گانے والا) تھا۔ وہ ایک مرتبہ حج کرنے چلا گیا۔ حج کے بعد وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ جارہاتھا کہ راستے میں ایک منزل پر اس نے قیام کیا اس زمانے میں مختلف منزلیں ہوتی تھیں۔ لوگ ان منزلوں پر رات گزارتے او اگلے دن صبح آگے سفرکرتے ۔ اس لیے گوّیے نے راستے میں ایک منزل پر راب گزارنے کے لیے قیام کیا اور اس منزل پر ایک عرب گوّیابھی آگیا، اور اس نے وہاں بیٹھ کر عربی میںگانا بجانا شروع کردیا عرب گوّیے کی آواز ذرا بھدی اور خراب تھی ۔ بدصورت بھی تھا اب ہندوستانی گوّیے کو اس کی آواز بہت بری لگی۔ اس نے اٹھ کر کہا کہ آج یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ حضور اقدس ۖ نے گانا بجانا کیوں حرام قراردیا تھا اس لیے کہ آپ نے ان بدوؤں کا گانا سنا تھا اس لیے حرام قراردے دیا اگر آپ میرا گانا سن لیتے تو آپ گانا بجانا حرام قرار نہ دیتے۔

آج کل کا مزاج!

آجکل یہ مزاج بن گیا ہے کہ ہر چیز کے بارے میںلوگ یہ کہتے ہیں کہ صاحب حضور اقدس ۖ کے زمانے میں یہ عمل اس طرح ہوتا تھا۔ اس لیے آپ نے اس کو حرام قرار دے دیا ۔ آج چونکہ یہ عمل اس طرح نہیں ہورہا ہے لہذا وہ حرام نہیں ہے کہنے والے یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ خنزیروں کو اس لیے حرام قراردیاگیا تھا کہ وہ گندے ماحول میں پڑے رہتے تھے غلاظت کھاتے تھے گندے ماحول میں ان کی پرورش ہوتی تھی اب تو بہت صاف ستھرے ماحول میں ان کی پرورش ہوتی ہے اور ان کے لیے اعلی درجے کے فارم قائم کردیے گئے ہیں لہذا اب ان کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

شریعت کا ایک اصول!

یادرکھیں قرآن مجید جب کسی چیز کو حرام قراردیتا ہے تو اس کی ایک حقیقت ہوتی ہے اس کی صورتیں چاہے کتنی بدل جائیں او ر اس کے بنانے اور تیار کرنے کے طریقے چاہے کتنے بدلتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ اور وہ حقیقت حرام ہوتی ہے یہ شریعت کا اصول ہے۔

زمانہ نبوت کے بارے میںایک غلط فہمی!

پھر یہ کہنا بھی درست نہی ہے کہ آنحضرت ۖ کے عہد مبارک میں تجارتی قرضوں کا رواج نہیں تھا۔ اور سارے قرضے صرف ذاتی استعمال کے لیے لیئے جاتے تھے اس موضوع پر حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے مسئلہ سود کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔ اس کا دوسرا حصہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے لکھا ہے۔ اس حصہ میں کچھ مثالیں پیش کی گئیں ہیں کہ سرکار دو عالم ۖ کے زمانے میں بھی تجارتی قرضوں کا لین دین ہوتا تھا۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ عرب صحرا نشین تھے تو اس کے ساتھ ہی لوگوں کے ذہن میں یہ تصورآتا ہے کہ وہ معاشرہ جس میں حضور اقدسۖ تشریف لائے تھے۔ وہ ایسا سادہ اور معمولی معاشرہ ہوگا جس میں تجارت وغیرہ تو ہوتی نہیں ہوگی اور اگر تجارت ہوتی بھی ہوگی تو صرف گندم اور جو وغیرہ کی ہوتی ہوگی۔ اور وہ بھی دس بیس روپے سے زیادہ کی نہیں ہوگی اس کے علاوہ کوئی بڑی تجارت نہیں ہوتی ہوگی عام طور پر ذہن میں یہ تصور بیٹھا ہوا ہے۔

ہر قبیلہ جائنٹ اسٹاک کمپنی ہوتا تھا!

لیکن یادرکھیے یہ بات درست نہیں عرب کا وہ معاشرہ جس میںحضور اقدس ۖ تشریف لائے اس میں بھی آج کی جدید تجارت کی تقریبا ساری بنیادی موجود تھیں۔ مثلا آج کل جائنٹ اسٹاک کمپنیاں ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چودھویں صدی کی پیداوار ہے اس سے پہلے جائنٹ اسٹاک کمپنی کا تصور نہیں تھا لیکن جب ہم عرب کی تاریخ پڑھتے ہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ عرب کے ہر قبیلے میں تجارت کا طریقہ یہ تھا کہ قبیلہ کے تمام آدمی ایک روپیہ دو روپیہ لاکر ایک جگہ جمع کرتے اور وہ رقم شام بھیج کر وہاں سے سامان تجارت منگواتے آپ نے تجارتی قافلوں کا نام سنا ہوگا۔

وہ کاروان یہی ہوتے تھے کہ سارے قبیلے نے ایک ایک روپیہ جمع کرکے دوسری جگہ بھیجا اور وہاں سے سامان تجارت منگوا کر یہاں فروخت کردیا چناچہ قرآن کریم میں یہ جو فرمایا کہ : وہ بھی اسی بناء پر کہ یہ عرب کے لوگ سردیوں میںیمن کی طرف سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام کی طرف سفر کرتے تھے اور گرمیوں اور سردیوں کے یہ سفر محض تجارت کے لیے ہوتے تھے۔ یہاں سے سامان لے جاکر وہاں بیچ دیا اور وہاں سے سامان لاکر یہاں بیچ دیا او ر بعض اوقات ایک ایک آدمی اپنے قبیلے سے دس لاکھ دینار قرض لیتا تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس لئے قرض لیتا تھا کہ اس کے گھر میں کھانے کو نہیں تھا؟ یا اس کے پاس میت کو کفن دینے کے لیے کپڑا نہیں تھا؟ ظاہر ہے کہ جب وہ اتنا بڑا قرض لیتا تھا تو وہ کمرشل مقصد کے لیے لیتا تھا۔

سلامی یا نیوترا

ہمارے ایک کزن جن کی ڈیوٹی ایک شادی کے موقعے پر سلامی جمع کرنے کی لگ گئی انہوں نے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث سلامی جمع کروائے بغیر گزر جانے والے ایک صاحب کو زبردستی روک کر ان سے سلامی وصول کی ۔ آج بھی جب یہ بات یاد آتی ہے تو ہم اس کا لطف لیتے ہیں

مہمانوں کو دعوت پر بلا کر کھانا کھلانے اور اس کے بعددستِ سوال دراز کرکے پیسے وصول کرنے کی اس رسم کو سلامی کا نام دے کر ہم نے مسلمان کرنے کی کوشش توکی ہے جبکہ اس رسم کا اصل نام نینداریا نیوترا ہے یہ ہندی زبان کے الفاظ ہیں۔ آج بھی دیہات میں اس رسم کو اکثر لوگ نیندرے ہی کے نام سے جانتے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ایک ہندووانہ رسم ہے۔

رسموں کے حوالے سے اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ رسم و رواج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا حالانکہ سب جانتے ہیں کہ رہن سہن کھانے پینے اور لباس و پوشاک کا تعلق تو معاشرے کے جغرافیائی حالات اور کلچر سے ہوتا ہے لیکن رسم و رواج کا تعلق عموما مذہب سے ہی ہوتا ہے۔ رسمیں کلچر سے نہیں بلکہ مذہب سے بنتی ہیں۔ اسی لیے ہندو خواہ کسی بھی علاقے کے ہوں انکا کوئی بھی کلچر ہو انکی رسمیں بہرحال ان کے مذہب کے مطابق ہوتی ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کی شادی بیاہ کی رسمیں بھی ان کے مذہب کے تحت طے شدہ ہیں۔ لیکن برصغیر کے مسلمان معاشرے میں ایسے مکتبہ ہائے فکر پائے جاتے ہیں جو رسموں کو مذہب سے علیحدہ خیال کرتے ہیں ان میں قابل ذکر ہیں سیکولر اور لبرل مسلمان جو عموما اس بات سے انکار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ رسموں کا کوئی تعلق مذہب سے ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو رسموں کو کلچر کا حصہ مانتے ہوئے رسموںکو علاقے اور ثقافت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ایسے افراد کے ہاں وہ تمام رسمیں قابل قبول ہیں جو علاقے میں صدیوں سے رائج ہیں اوررسموںکا سرے سے ہندو یا مسلمان ہونا نہیں مانتے۔ لیکن ایک مسلمان معاشرے میں انسان جتنا بھی سیکولر ہوجائے جتنا لبرل ہوجائے پھر بھی کہیں نہ کہیں اس کا ٹاکرا مذہب سے اور مذہبی لوگوں سے پڑتا ہے۔ جن کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے رہن سہن اور رسم و رواج میں اسلام کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ ایسے افراد کو مطمئن کرنے کے لیے یا انکے اعتراض کو سرے سے ختم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان میں سے پہلا اقدام یہ ہوتا ہے کہ جو رسمیں ہم نے ہندو معاشرے یا مذہب کے زیرِ اثر اپنائی ہوئی ہیں انکے نام بدل کر اسلامی نام رکھ لیے جاتے ہیں۔ تاکہ ان رسموں پر اعتراض کم سے کم ہو اور اسلام سے ان کی اجنبیت ختم ہوجائے مثلا لفظ "نیندرا" کو اسلامی ذہن قبول نہیں کرتا البتہ اسی رسم کو جب" سلامی" کہا جائے گا تو ایک اسلامی ذہن کے لیے یہ لفظ قابل قبول ہوجائے گا۔دوسرا اقدام یہ کیاجاتا ہے کہ کچھ منطقی اور عقلی دلائل سے رسم کا دفاع کیا جاتا ہے۔مثلا نیندرے کے حق میں جو دلائل دیے جاتے ہیںوہ کچھ اس طرح سے ہیں شادی کے موقعے پر اگر لوگ مل جل کر کچھ پیسے دے کر شادی والے گھر کی مدد کردیں تو یہ بات تو عین اسلامی اخوت بھائی چارے اور شرعی اصولوں کے عین مطابق ہے اور دوسرے یہ کہ اسلام تحفے تحائف دینے سے کب منع کرتا ہے بلکہ ایک دوسرے کو تحفے دینے کو تو اسلام تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس سے آپس کی محبت بھی بڑھتی ہے۔لیکن یقینا یہ باتیں کرتے ہوئے ہم مذہب کے کچھ بنیادی حقائق سے صرفِ نظر کرجاتے ہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ شادی کے موقعہ پر لڑکی والوں کے ہاں کھانے کی کوئی دعوت سنتِ رسول اور عمل صحابہ سے ثابت ہی نہیں ہے اور ہمارے معاشرے میں ماضی قریب تک یہ طرزِ عمل رہا ہے کہ شادی کی ایک ہی دعوت ہوتی تھی اور وہ ولیمے کی دعوت تھی اور ولیمے کے حوالے سے بھی اصول یہ ہے کہ جتنی دولہے میاں کی استطاعت ہو اتنی دعوت کردی جائے چند دوستوں یا رشتہ داروں کو بلاکربھی ولیمے دعوت کھلائی جاسکتی ہے جس سے شادی کا یہ عمل خفیہ نہ رہے بلکہ معلوم ہوجائے کہ شادی ہوئی ہے۔ اب مسئلہ پھر یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ناک کٹ جائے گی اگر شاندار قسم کی دعوت نہ ہوئی ۔ بس یہیں سے ساری قباحتوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔ لوگ کیا کہیں گے اور ناک کٹ جائے گی۔ نمود ونمائش کے اس دور میں لوگوں کو دکھانے کے لیے اور ناک کٹنے سے بچانے کے لیے ساری مصیبتوں کو ہم نے گلے لگا کر رکھا ہوا ہے۔لیکن یہاں اگر طرز عمل یہ اختیار کرلیا جائے کہ شادی بیاہ کے موقع پر لوگوں کو خوش کرنے کے بجائے اللہ اور رسول کو خوش کرلیا جائے اور اپنی ناک کو بلند کرنے کے بجائے رسول اللہ کے طریقے کو پامال ہونے سے بچا کر بلند کرلیا جائے تو نیندرا دینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ نہ نمود ونمائش کی ضرورت پڑے گی نہ لمبے چوڑے خرچے کرنے پڑیں گے اور نہ نیندرے کے نام پر گھر آئے مہمانوں سے پیسے مانگنے کی ضرورت پڑے گی۔ اللہ کی کتاب کہتی ہے کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ جبکہ نیندرا دے کر ہم ایک ہندووانہ رسم کو زندہ رکھنے اور رسول اللہ کے طریقے کو پامال کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہوتے ہیں۔اور اس کے باوجود بھی ہمارے عشقِ رسول کے دعوے پر ذرا آنچ نہیں آتی ؟

نیندرے کی حمایت کرنا اور اس کو سلامی کا نام دیکر اسلامی رسم بنانے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ رسوم و رواج کی پوجا کرنے والوں نے پہلے غریب پر یہ بوجھ ڈالا کہ وہ ایسے تقریبات منعقد کرے جس پر اس کا دیوالیہ نکل جائے اور پھر نیندرے کی صورت میں مدد لیکر پہنچ گئے کہ اس سے اسلامی بھائی چارے کو فروغ ملے گا۔ یہ بالکل امریکہ والی پالیسی ہے پہلے تو وہ اپنے ظالمانہ اقدامات سے کمزور ملکوں کی معیشت کا ستیاناس کردیتا ہے اور پھر قرض دہندہ کی صورت میں اور سیاسی امداد کی صورت میں اس کا ہمدرد بن کر پہنچ جاتا ہے کہ ہم تمھاری معیشت کو سہارا دیں گے ۔ کوئی پوچھے کہ اس معیشت کو تم نے تباہ کیوں کیا ہے؟ پہلے کسی ملک کے نہتے عوام پر بمباری کرو اور پھر مرہم لیکر پہنچ جاؤ بالکل یہی طرز عمل کہ غریب کو رسموں کے بوجھ تلے دباؤ اور پھر نیندرے جیسی ہندووانہ رسم کو غریبوں کی مدد کی ایک اعلی مثال سمجھ کو اختیار کرو۔

شادی والے گھر کی مددکی بھی خوب کہی پہلے شادی والے گھر کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا اور پھر لٹے پٹے گھر کی اکانومی کو سہارا دینے کا ڈرامہ رچایہ جاتا ہے۔ معاشرے کے وہ لوگ جو غیر ضروری رسموں اور نمود و نمائش کے کلچر کو فروغ دیتے ہیں ان کی اس روش سے رسموں کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ سسک رہے ہوتے ہیں اور شادی جیسی بنیادی رسم کی ادائیگی کے لیے بھی وہ کمر دوہری کردینے والے قرضوں کا بوجھ اٹھالیتے ہیں تو یہ لوگ اپنا نیندار لیکر ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں یہ نیندرا تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوتا ہے لیکن نیندرا دینے والا مرغ پلاؤ اور بریانی کی دعوت اڑا کر اور پھر نیندرا یا سلامی ادا کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتا ہے۔ اپنے آپ کو شادی والے گھرانے کا بہت بڑا محسن تصور کرتے ہوئے یہ فلسفہ بیان کرتا ہے کہ ان کے اس عمل سے غریبوں کی مدد ہوئی ہے اور معاشرے میں اخوت اور بھائی چارے کو فروغ ملا۔اسی مسئلے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ایک عام ملازم شخص جس کا بجٹ کبھی خسارے سے باہر نکلتا ہی نہیں اس کے لیے شادیاں بجٹ میں مزید خسارے کا سبب بنتی ہیں شادی میں جائیں نہ جائیں 500 روپے سلامی ضرور بھجوانی ہوگی ورنہ رشتہ داری، دوستی اور بھائی چارے کا حق اداہی نہیں ہوتا۔یہ سلامی بھی عجیب گورکھ دھندا ہے نہ لینے والا سکون میں اور نہ دینے والا مطمئن پھر بھی کوئی اس رسم سے چھٹکارا مشکل ہے۔

میڈیا کی آزادی

صدر صاحب نے فرمایا کہ میڈیا کو جو آزادی دی گئی تھی اس آزادی کے دوران میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہر ہ نہیں کیا۔ مثال انہوں نے دی کہ جس طرح امریکہ عراق میں جسموں کے چیتھڑے ادھیڑ رہا ہے یا افغانستان میں جس طرح ایک سپر پاور اپنے ہتھیاروں کی آزمائش کررہی ہے اس سے وہاں لاشیں گرتی ہیں جسم تڑپتے ہیں اور خون بہتا ہے لیکن میڈیا پر کچھ بھی نہیں دکھایا جاتااسی طرح کی ذمہ داری کا مظاہرہ پاکستانی آزاد میڈیا کو بھی کرنا چاہیے تھا۔ یعنی ملک میں لاشیں گرتی رہتیں کشت و خون ہوتا رہتالیکن میڈیا انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے سب اچھا دکھاتا رہتا تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس نہ پھیلتا لوگ خوش رہتے اور نتیجے کے طور پر ملک ترقی کی راہوں پر گامزن رہتا۔

لیکن پرائیویٹ آزاد میڈیا نے تو حد کردی ہے جہاں کوئی آپریشن ہورہا ہوتا ہے وہاں یہ لوگ اپنا کیمرہ لیکر پہنچ جاتے ہیں اور عوام کو وہ کچھ دکھانا شروع کردیتے ہیں جو عام طور پر عوام سے چھپایا جاتاہے ۔ اس سے عوام میں اپنے حقوق کی پامالی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عوام کڑھتے ہیں اورمشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل آتے ہیں یوںحکومت کی رٹ کمزور پڑ جاتی ہے اور ملک میں امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ان سارے خطرات سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ "نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری " اس میڈیا کی گردن دبا دو تو سب ٹھیک ہوجائے گا پہلے بھی سب ٹھیک ہی چل رہا تھا یہ تو اس میڈیا کے آنے سے حالات خراب ہوگئے ۔اس لیے میڈیا کی آزادی پر پابندی لگا نی ضروری تھی جو لگا دی گئی ہے۔

صدر کا وژن بہت کلیئر ہے کہ میڈیا کو آزادی ضرور دی گئی تھی لیکن اتنی آزادی نہیں دی گئی تھی کہ وہ سب کچھ دکھانا شروع کردے ۔ ہمیں بہر حال اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ آزاد میڈیا دیوانے کا خواب ہے اور درحقیقت میڈیا کہیں بھی آزاد نہیں ہے ۔ وہ ممالک بھی کہ جن کی دی ہوئی پالیسی ہمارے ملک میں چلتی ہے اور جن کی بات مان کر بغیر سوچے سمجھے آنکھیں بند کرکے ہم اپنے روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں ۔ وہاں بھی میڈیا آزاد نہیں ہے۔بلکہ انکے وژن کے مطابق میڈیا تو برین واشنگ اور ذہن سازی کا ایک موثر اور کارگر ہتھیار ہے۔

سیاہ کو سفید ثابت کرنے کے لیے ، رات کو دن دکھانے کے لیے ، اچھے کو برا کہنے کے لیے ، دوست کو دشمن بنانے کے لیے امریکہ بہادر کو طیاروں ، میزائلوں اور بموں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ کام میڈیا بڑی آسانی سے کردیتا ہے۔میڈیا کے ذریعے انقلاب لائے جاتے ہیں ، میڈیا کے ذریعے جنگیں لڑی جاتی ہیں میڈیا کے ذریعے تختے الٹے جاتے ہیں، میڈیا کے ذریعے حکومتیں گرائی جاتی ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ آزاد میڈیا سے بہرحال ممکن نہیں ہوتا اس کے لیے میڈیا کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے ۔ میڈیا کے گلے میں پٹہ ڈالنا پڑتا ہے بلکہ اسے سدھانا پڑتا ہے پھر اس پر سواری ممکن ہوتی ہے ورنہ یہ سرکش گھوڑا ہے جو اپنے سوار کو کسی بھی وقت اٹھا کر نیچے پٹخ سکتا ہے۔ابھی یہ بات ہمیں اپنے آقاؤں سے سیکھنی ہے اور اسے پلے باندھ کررکھنا ہے۔

پرائیویٹ اور آزاد میڈیا کس کا آئیڈیا تھا؟ آزاد میڈیا کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟پہلے بھی جنہیں سچ سننے کا بہت ہی شوق ہوتا تھا وہ بی بی سی کاجھوٹ سچ سن کر کچھ اندازے لگالیا کرتے تھے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔باقی سب تو بڑے مزے سے اپنے پاکستانی ٹی وی کو دیکھتے اور سنتے تھے جہاں راوی سب چین ہی چین لکھتاہے۔ اورہر وقت سب اچھا ہے کہ صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔

میڈیا کو آزادی دیتے وقت شاید صدر صاحب کو یہ خیا ل نہیں رہا تھاکہ ہماری بلی کل ہمیں کو میاؤں کرے گی۔ اس بلی کو تواسی لیے انہوں نے فارسی محاورے کی مار ماردی اور" گربہ کشتن روزِ اول" کے مصداق ایک ہی وار کرکے اس سے جان چھڑا لی ۔ ورنہ یہ میڈیا تو گلے کا چھچھوندر بن کر رہ گیا تھا جو نہ اگلا جائے اور نگلا جائے۔

گفت و شنید

ایک دوست پوچھنے لگے کہ دشمن کتنی قسم کے ہوتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ دشمن تو دو ہی ہوتے ہیں۔ ایک آپکے دشمن کا دوست اور دوسرا آپکے دوست کا دشمن ۔ہنس کر بولے کہ دشمن تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک دشمن ، دوسرا جانی دشمن اور تیسرا رشتہ دار۔ اسی طرح جھوٹ کی بھی تین ہی قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک جھوٹ، دوسرا سفید جھوٹ اور تیسرے اعداد وشمار۔

ایمرجنسی کے نفاظ کے بعد آزاد میڈیا پر پابندی ہے اور سرکاری ٹیلی ویژن مسلسل امنِ عامہ کے اعدادو شمار جاری کررہا ہے ۔

--------------------

اُس دیہاتی سے تو آپ خوب واقف ہیں جو میلہ دیکھنے شہرگیا تھا اور اس کا کمبل چوری ہوگیا تھا۔ جب وہ واپس گاؤں پہنچا تو گاؤں والوں نے اس سے میلے کی روداد پوچھی تو کہنے لگا کہ میلہ کیا تھا؟ بس میرا کمبل چوری کرنے کے لیے یہ سب کھیل رچایا گیا تھا۔

آج کل جو میلہ ہمارے ملک میں لگا ہوا ہے یہ بھی شاید عدلیہ کا کمبل چوری کرنے کے لیے ہی لگایا گیا ہے۔

-----------------------

بزرگوں سے سنا تھا کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے اور جب سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستے میں بیٹھتا ہے۔

ہمارے ملک میں جس کی بھی موت آتی ہے وہ کرسی سے چمٹ جاتا ہے۔موت کی کرسی سے کون نہیں ڈرتا لیکن یہاں کرسی پر مرنے والے بہت ہیں۔

-------------------------

جس چھت کے چار میں سے دو ستون گر جائیں اس کے توازن کا کیا حال ہوگا؟ جدید ریاست کے چار ستون مانے جاتے ہیں ، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور میڈیا، انتظامیہ نے عدلیہ کو ڈھا دیا اور میڈیا کو گرا دیا، اب لنگڑی لولی دم توڑتی مقننہ کے ناتواں کندھوں میں اتنا دم کہاں ہے کہ وہ انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر اس چھت کو زیادہ دیر تک سہار سکے۔ ایسے موقعوں پر انگریزی کا ایک محاورہ بولا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے واقعات کے سائے پہلے ہی پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔مشورے کے درجے میں عرض ہے کہ اس سے پہلے کہ پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر جائے۔ منتظمِ اعلٰی کو نوشتہء دیوار پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ویسے بھی اس کرسی کی تاریخ کوئی اتنی تابناک نہیں ہے۔ بس ذرا ماضی قریب کے جھروکوں میں جھانک کر اپنے پیش روؤں کے انجام کی سبق آموز کہانی پڑھ لیں۔

---------------------

بچپن میں نانی جی سے شیخ چلی کی کہانی سنتے تھے ۔ جس کاایک سین یہ ہوتا تھا کہ شیخ چلی اسی ٹہنی کو کاٹتا ہے جس پر وہ خود بیٹھا ہوتا ہے۔جب پاس سے گزرنے والا ایک راہ گیر شیخ چلی کو ایسا کرنے سے منع کرتا ہے تو شیخ چلی اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ لیکن جب ٹہنی کٹ کرگرتی ہے اور شیخ صاحب زمین پر آجاتے ہیں تووہ بھاگ کر اس راہ گیر کے پاس جاتے ہیں کہ تُو تو سب کچھ جانتا ہے بتا میں کب مروں گا؟

آج کل ایسے راہ گیر کہاں جو شیخ چلی کو میسر تھے ۔ کاش کہ ایسا ہی کوئی راہ گیر ہمیں بھی مل جاتا جسے ہم اقتدار کے ایوانوں میں بھیجتے جہاںجاکر وہ ہمارے شیخ چلیوں کو بھی بتاتا کہ یہ ڈالی جس پر آپکا نشیمن ہے اسے نہ کاٹیے جب یہ کٹ کر گرے گی تو آپکے نشیمن کو ساتھ لیکر گرے گی۔